چارسدہ: نئے عالمی منصوبے کا نقطہ آغاز؟


\"mujahidچارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے بعد قوم سوگ منا رہی ہے، حکومت ذمہ داروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے اور ماہرین یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ ملک میں 18 ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے باوجود دہشت گرد عناصر کیوں کر اس نوعیت کا حملہ کرنے کے اہل ہیں۔ کل باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے حملہ سے دہشت گردوں کی صلاحیت کا اندازہ تو ہو چکا ہے۔ اس بارے میں بھی شبہ نہیں ہے کہ اس حملہ کی نوعیت اور مقصد بھی سال بھر پہلے آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے حملہ سے مختلف نہیں ہے۔ چار حملہ آور جنہوں نے خودکش جیکٹس پہنچی ہوئی تھیں، زیادہ سے زیادہ تعداد میں طالب علموں کو مارنے کے ارادے سے آئے تھے۔ لیکن بوجوہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دسمبر 2014 میں ہونے والے سانحہ سے بہت کم رہی۔ اس کی ایک وجہ تو دہشت گردوں کا اناڑی پن بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے دو کی عمریں نادرا کے ریکارڈ کے مطابق 18 برس سے بھی کم تھیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے یونیورسٹی کی حفاظت کے لئے 55 افراد پر مشتمل جو دستہ تعینات کیا ہوا تھا، اس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا اور وہ زیادہ ہلاکتیں کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ دہشت گرد خواہ منصوبہ کے مطابق لوگوں کو نہ مار سکے ہوں لیکن انہوں نے یہ واضح پیغام ضرور پہنچا دیا ہے کہ یہ عناصرشکست خوردہ نہیں ہیں اور نوجوان و بچے ان کے نشانے پر ہیں۔

اس حملہ کی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے بجا طور سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کیونکہ دہشت گرد یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اعتدال اور بقائے باہمی کے اصول کے خلاف ہیں۔ مرحوم خان عبدالغفار خان تنگ نظری اور فرقہ بندی کے خلاف تھے اور انہوں نے ساری زندگی مفاہمت کی سیاست کی تھی۔ یہ یونیورسٹی ان کے نام سے قائم ہے، اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ حملہ باچا خان کے اصولوں کو مسترد کرنے کا اعلان ہے۔ جبکہ اکثر دانشور اور سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کی ریاست اور عوام کو انہی اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ باچا خان کا کہنا تھا کہ مذہب خدا اور انسان کے درمیان تعلق کا نام ہے جبکہ سیاست انسانوں کے بیچ معاملات طے کرنے کا طریقہ ہے۔ اس لئے وہ سیاسی معاملات میں مذہب کی مداخلت کے خلاف تھے اور اس طرز عمل کو مہلک قرار دیتے تھے۔ پاکستان اور اسلامی دنیا کے بیشتر حصوں میں متعدد اسلامی گروہوں نے عقیدہ کے نام پر جنگ جوئی کا جو چلن اپنایا ہے اس کی روشنی میں عبدالغفار خان کا نظریہ سیاست درست ثابت ہو رہا ہے۔

یہ بات متعدد حلقوں کی جانب سے زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے صرف فوجی کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ریاست کو مذہبی شدت پسندی کے بارے میں واضح اور دوٹوک نظریہ اختیار کرنا پڑے گا اور ملک کی سب پالیسیوں کو اس نظریہ کے تابع کرنا ہو گا۔ تب ہی درسگاہیں انسان دوست طالب علم پیدا کر سکیں گی اور مذہب ، فرقہ ، نسل یا علاقہ کو بنیاد بنا کر قتل و غار ت گری کے رویہ کو تبدیل کیا جا سکے گا۔ اسی طرح پاکستان انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے سلسلہ میں جس قسم کا تعاون ہمسایہ ملکوں سے طلب کرتا ہے، اسے خود بھی اسی پالیسی کا عملی مظاہرہ کرنا ہو گا۔ چارسدہ حملہ کے سلسلہ میں اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ حملہ آور افغان موبائل سم استعمال کر رہے تھے اور وہ حملہ کے دوران بھی افغانستان میں اپنے لیڈروں سے رابطہ میں تھے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بات کی ہے اور افغانستان کے علاقوں سے پاکستان پر حملہ کرنے والے عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن افغانستان بھی اپنے ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کا رشتہ پاکستان سے جوڑتا ہے اور بھارت کی طرف سے بھی کوئی واقعہ رونما ہونے کی صورت میں ایسے ہی الزامات سامنے آتے ہیں۔ پاکستان ایسے سانحات میں مکمل تعاون کا یقین تو دلاتا ہے لیکن عملی طور سے ان اقدامات کے نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ دو ہفتے قبل پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملہ کے بعد پاکستانی حکومت نے شروع میں ضرور سرگرمی دکھائی تھی لیکن اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف عملی قانونی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے۔

اگرچہ پاکستان میں انتہا پسندی اور مذہبی شدت پسند گروہوں کی قوت اور صلاحیت دہشت گردی کے واقعات میں اہم ترین وجہ کہی جا سکتی ہے لیکن ان گروہوں کی پشت پناہی اور پرداخت کے لئے متعدد ملک اور بڑی طاقتیں بھی اپنے مفادات اور ضرورتوں کے مطابق کردار ادا کرتی رہتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت ، افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے پر نان اسٹیٹ ایکٹرز یا دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد و عسکری تربیت کے الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایسے گروہوں نے دنیا کے متعدد تنازعات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کا مرکز افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ اس لئے چارسدہ سانحہ کے بعد شام و عراق میں قوت پکڑنے والے گروہ داعش سے متعلق معاملات کی روشنی میں صورتحال کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گا۔

داعش برصغیر کے بیشتر علاقے کو خراسان قرار دیتے ہوئے کافی عرصہ سے یہاں پر پاﺅں جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان سے متعلق متعدد عسکری گروہوں کے ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔ اسی طرح ان کی آمدنی کے وسائل بھی محدود ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے یا تو پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی ہوئی ہے یا وہ افغانستان روانہ ہو گئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان دربدر لوگوں کو مالی وسائل کے حصول کے لئے کسی گروہ کی اعانت درکار ہے۔ پاکستانی طالبان کے متعدد عناصر کو داعش کی صورت میں یہ سرپرست میسر آیا ہے۔

داعش مالی وسائل کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں امیر ترین دہشت گرد گروہ کہا جاتا ہے۔ داعش نے افغانستان میں اپنے ہمدردوں کو اکٹھا کر کے طالبان کے مقابلے پر اتارا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں بھی اس خطرناک گروہ کا ڈھانچہ موجود ہے۔ اب یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ داعش کے نمائندے اور ہمدرد پاکستان کو شام میں لڑنے کے لئے رنگروٹ بھرتی کرنے کے لئے ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ داعش کے بعض سرکردہ نمائندے خاص طور سے ملک میں اپنا ڈھانچہ مستحکم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ یہ باور کرنا قرین قیاس ہے کہ یہ لوگ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور مقاصد حاصل کرنے کے لئے تحریک طالبان کے ایسے عناصر کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو پاکستان یا افغانستان میں حملے کر کے کوئی محدود گروہی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی سرپرستی کر کے داعش ان عناصر کو کسی بڑی جنگ میں استعمال کرنے کے لئے تیار کر رہی ہو۔

گزشتہ برس نومبر میں پیرس حملوں کے بعد شام و عراق میں داعش کے خلاف عالمی مہم جوئی میں تیزی آئی ہے۔ صدر باراک اوباما نے بھی اپنے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں داعش کے خاتمہ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ روس بھی خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم ہے اور اس نے بھی شام کو اڈہ بنا کر داعش کے خلاف فوجی کارروائی میں اضافہ کیا ہے۔ ترکی میں یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملوں کے بعد داعش کے لئے وہاں بھی ہمدردی کے جذبات ختم ہو رہے ہیں۔ ترکی نے گزشتہ دنوں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔ عراق اور شام کی افواج اپنے اپنے اتحادیوں کی مدد سے داعش کے قبضے سے علاقے واگزار کروانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 25 فیصد علاقہ داعش سے چھینا جا چکا ہے۔ اب عراق کے شہر موصل اور شام کے شہر رقہ کو آزاد کروانے کے لئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ شام کی خانہ جنگی بند کروانے کی عالمی کوششوں کی کامیابی کے لئے بھی شام اور عراق سے داعش کا خاتمہ ضروری ہے۔

داعش کوئی مقامی عرب تحریک نہیں ہے۔ اگرچہ اس میں بہت سے عرب گروہ براہ راست یا بالواسطہ طور سے ملوث ہیں۔ لیکن اس دہشت گرد گروہ کی اصل قوت وہ جنگجو ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک سے لڑنے کے لئے شام و عراق آئے ہوئے ہیں۔ افغان جہاد کے برعکس جہاں سوویت افواج کے انخلا کے بعد جہادی گروہوں کو افغانستان اور پاکستان کے وسیع قبائلی علاقوں کی صورت میں ٹھکانہ مل گیا تھا، داعش کو شام اور عراق میں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔ آخر یہ جنگجو اپنا مرکز ختم ہونے کے بعد کہاں جائیں گے۔ ایک خیال یہ ہے کہ وہ لیبیا اور یمن کا رخ کریں گے۔ یا مختلف ممالک میں پھیل جائیں گے۔ اس صورت میں اس گروہ کی قوت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اگر یہ جنگجو عرب ملکوں میں ہی موجود رہتے ہیں تو یہ علاقے میں مسلسل انتشار اور خوں ریزی کا سبب بنتے رہیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کی فوج ان عناصر سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

اس کے برعکس پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے مقابلہ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ جن بڑی عالمی طاقتوں کے مفادات مشرق وسطی سے وابستہ ہیں، وہ ضرور یہ چاہیں گی کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ نام کے گروہ کی مرکزیت ختم ہونے کے بعد اسے عرب علاقوں میں پاﺅں جمانے کا موقع نہ ملے۔ ان علاقوں میں موجود رہنے کی صورت میں اس بات کا امکان رہے گا کہ یہ عناصر جلد یا بدیر سعودی عرب میں داخل ہو کر وہاں پر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ سعودی عرب سے تمام تر اختلافات کے باوجود امریکہ اور مغرب اس ملک کو انتشار کا شکار ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ اس صورت میں پورا مشرق وسطیٰ بھیانک جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس لئے عالمی طاقتوں کا مفاد بھی اس میں ہو گا کہ یا تو ان انتہا پسند جہادیوں کو ختم کر دیا جائے یا ان کا رخ کسی ایسے علاقے کی طرف ہوجائے جہاں ایک طاقتور اور منظم فوج ان کا مقابلہ کر سکے۔ اور جہاں فساد برپا ہونے کی صورت میں مغربی ممالک کے مفادات پر زد بھی نہ پڑتی ہو۔ داعش کے لیڈر بھی افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوں گے۔ تین دہائیوں سے مختلف جنگجو گروہوں نے ان علاقوں کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہے۔ یہاں کے حالات اور افغانستان و پاکستان کے لوگوں کا مزاج بھی اس گروہ کے لئے موافق اور سازگار ہے۔

پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری اور پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی دنیا کی طاقتور معیشتوں کے لئے زبردست چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس راہداری کے مکمل ہونے کی صورت میں چین عالمی منڈیوں تک تیزی سے اور کم لاگت پر اپنا مال پہنچا سکے گا۔ اس کے علاوہ اسے اپنے دور دراز علاقے سنکیانگ میں گیس اور تیل کی فراہمی کے لئے بھی آسان اور سستا روٹ میسر آ سکے گا۔ سنکیانگ میں ایغور علیحدگی پسند تحریک اور اسلامی شدت پسند گروہ چینی حکام کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے نتیجہ میں چین اس علاقے کو صنعتی و تجارتی مرکز میں تبدیل کر کے لوگوں کو ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اس طرح مقامی آبادیوں میں بغاوت اور علیحدگی پسندی کی تحریکوں کو کسی عسکری کارروائی کے بغیر کچلا جا سکتا ہے۔ اگر داعش پاکستان اور افغانستان میں پاﺅں جمانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور شام و عراق کا جہادی گروہ آہستہ آہستہ ان علاقوں کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے تو چین کے لئے بھی پاکستان اور افغانستان میں کثیر سرمایہ کاری بے مقصد ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں ایک نئے اقتصادی چیلنج سے بچ جائیں گے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ پاک چین راہداری منصوبہ، پروگرام کے مطابق تعمیر ہونے کی صورت میں سامنے آنے والے معاشی فوائد سے متاثر ہو کر ایران اور بھارت بھی کسی طرح اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادہ ہو جائیں۔ یوں دنیا میں ایک ایسا خود مختار معاشی خطہ معرض وجود میں آ سکتا ہے جو امریکہ ، یورپ اور جاپان جیسی بڑی معاشی طاقتوں کو بیک وقت ہڑپ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔

چارسدہ کا سانحہ ایک مقامی واقعہ ہو سکتا ہے لیکن خطے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں اس امکان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ حملہ دنیا کی بڑی سیاست میں تبدیلیوں کی خواہشمند قوتوں کے لئے کسی نئے منصوبے کا نقطہ آغاز ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali