معاشی بدحالی اور سماجی جبر اکٹھے نہیں چل سکتے!


ایک تو مخلوقِ خدا مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہو اور ساتھ ہی قانون اور پولیس کا تمام جبر مسکینوں اور لا چاروں کیلئے ہو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟جو نمائشی اسلامی قوانین ہمارے ہیں وہ امیر طبقات پہ لاگو نہیں ہوتے کیونکہ ہماری مملکت میں اُن کی آزادیاں کوئی نہیں سلب کر سکتا۔ ان قوانین کی بجلی غریبوں کیلئے مختص ہے ۔

ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ آپ لینڈ کروزر میں جا رہے ہوں تو کسی کی کیا مجال کہ آپ کو روکے ۔موٹر سائیکل پہ ہوں اور کیوں نہ ساتھ خاتون ہی بیٹھی ہو تو کسی ناکے پہ دھر لیے جائیں گے ۔ پہلے پولیس کی شہرت صرف راہزنوں کی تھی ۔ جس نئی وردی میں پنجاب پولیس کے شیر جوان اب ملبوس ہیں اِس سے وہ راہزن لگنے بھی لگے ہیں۔ کوئی خدائی عدالت لگے تو جس آئی جی نے اس وردی کی منظوری دی اُس کی مناسب باز پُرس کی جائے ۔

اِس وقت پاکستانی معاشرہ ایک معاشی بحران کے گرداب میں ہے ۔ مہنگائی زوروں پہ ہے اور قوی امکان ہے کہ مزید بڑھے گی ۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہم گئے اور اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم نے جانا ہی ہے تو روپے کی قدر مزید کم ہو گی اور مہنگائی کے طوفان میں اورزور آئے گا۔ نوکریاں ہیں نہیں اور انڈسٹری تو یہاں لگنے سے رہی کیونکہ جو پیسہ ہے وہ شادی ہالوں پہ لگ رہا ہے یا ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر ۔ یہاں کتنی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں ؟

ہمارے حالات انوکھے نہیں۔ بہت سے ممالک ہم سے کہیں بد تر حالات سے گزرے ہیں ۔ روسی یا چینی انقلاب اور جنگ عظیم دوئم کی تباہیوں کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ انقلاب کے فوراً بعد روس چار سال تک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا ۔ روسی معاشرہ اُجڑ کے رہ گیا۔ پھر سٹالن کا دور آیا جس میں اور مصیبتیں پیدا ہوئیں ۔

روسی عوام نے یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا؟ایک طرف تباہ کاریاں تو تھیں لیکن دوسری طرف نئی قسم کی سماجی آزادیاں پیدا ہوگئیں ۔ اخلاقیات کے تقاضے نئی نظروں سے دیکھے جانے لگے ۔ پولیس اورخفیہ ایجنسیاں… اور ہم جانتے ہیں کہ تب کے روس کی سیکرٹ ایجنسیاں کتنی سخت تھیں…

کمیونسٹ پارٹی یا انقلاب کے دُشمنوں کے پیچھے تو جاتی تھیں لیکن چوراہوں پہ سانس نہیں سُونگھے جاتے تھے اور نہ ہی نکاح ناموں کی پڑتال ہوتی تھی ۔ دورانِ انقلاب اور چیئرمین ماؤ کی حکمرانی تلے چین بہت سے بحرانوں سے گزرا۔ سختیاں ہوئیں ، قحط بھی پھیلا لیکن وہ کچھ کبھی نہ دیکھنے میں آیا جو اخلاقیات کے نام پہ ہمارے ہاں روا رکھا جاتا ہے۔ یعنی امیروں کے لئے مکمل آزادی اور غریبوں کے لئے تمام سماجی پابندیاں۔

ایسی صورتحال انصاف کے تقاضوں پر کہاں پورا اُترتی ہے؟ یونان جیسا ملک حال ہی میں معاشی بحران سے کسی حد تک نکلنے میں کامیاب ہوا ہے‘ لیکن جب مہنگائی اور بے روزگاری عروج پہ تھیں تو کم از کم سماجی آزادیاں سلب نہیں ہوئیں۔ ریاست کا کام امن وامان قائم رکھنا اورمعاشی آسانیاں پیدا کرناہے۔ جب ایسا نہ ہو سکے ،نہ افراطِ زر پہ کنٹرول ہو نہ نوکریاں پیدا ہو رہی ہوں، تو ریاست کا کیا جواز بنتا ہے کہ وہ مصنوعی اخلاقیات کی ٹھیکیدار بن جائے؟

سماجی آزادیاں سب کیلئے محدود ہوں تب تو بات سمجھ میں آتی ہے ‘ لیکن شراب نوشی سے لے کر پتہ نہیں کہاں کہاں تک سب دروازے امیر طبقات کیلئے کھلے ہیں ۔ جیسے اوپر عرض کیا‘ قانون میں پنہاں تمام سماجی سختیاں پسے ہوئے طبقات کیلئے ہیں ۔ جس کسی معاشرے میں ایسے دوہرے معیار رائج ہوں وہ نہ اسلامی کہلا سکتا ہے نہ فلاحی اور نہ ہی انصاف پہ مبنی ۔ حکمرانوں کو کچھ سوچنا چاہیے اور پولیس کی کچھ اصلاح ہونی چاہیے۔

چاروں صوبوں میں پولیس کے ایسے سربراہان ہوں جو اپنی اپنی فورس کو باور کرا سکیں کہ اَب وقت آ گیا ہے کہ بحیثیت مجموعی پولیس فورسز جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں تراشی گئی سماجی اور اخلاقی اقدار سے باہر نکلیں ۔ قانون جو بھی ہو‘ اور ہم یہ جانتے ہیں کہ کمزور حکمران اور کمزور حکومتیں ضیاء دور میں نافذ کیے ہوئے قوانین کو جلد ختم نہیں کر سکتیں، اُن پہ عمل کرنے میں تو تبدیلی لائی جائے۔

معاشرہ ہمارا وہ نہیں رہا جو تیس چالیس برس پہلے تھا۔ جرائم زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں ۔ دہشت گردی نے تب سر نہ اُٹھایا تھا۔ پولیس فورسز کے سوچنے کا انداز البتہ بدلا نہیں ۔

راہزنوں والی بات بڑے افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ سماج کے محافظ کی بجائے پولیس کیا لگتی ہے۔ اِس صورتحال میں تبدیلی آنی چاہیے۔ بطور پہلا قدم‘ پولیس سانس سُونگھنے اور نکاح نامے دیکھنے کی مشقِ مسلسل سے اپنے آپ کو آزاد کرے ۔ پولیس کا کام جرائم کی روک تھام ہے۔ اخلاقیات درست کرنے کی مصیبت اُس کی نہیں۔

جنرل پرویز مشرف کو ایک کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ نجی زندگی میں کھلے ڈُلے آدمی تھے اور جس حد تک وہ جا سکتے تھے معاشرے میں نہیں تو کم ازکم پاکستان کے بڑے شہروں میں اُنہوں نے آزادیاں پیدا کیں۔ اُن کے دور میں بہت سارے ایسے اسلام آباد میں ریستوران تھے جن میں کھانے کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی آپ کر سکتے تھے ۔

ہمارا چونکہ تصور اسلام یہی ہے کہ جہاں ہو سکے سماجی آزادیاں محدود کی جائیں، چنانچہ جنرل مشرف کے جانے کے بعد ریستورانوں کی یہ مخصوص آزادی بھی ختم ہوتی گئی۔ جنرل صاحب معاشقے بھی چلاتے تھے اور اُس زمانے میں باخبر حلقوں میں ایسی اطلاعات عام تھیں کہ اُن کی نظر کرم کہاں کہاں جا رہی ہے ۔

کرتے سب ایسے ہیں لیکن کوئی دھڑلے سے اور بیشتر بھاری پردہ داری کے پیچھے۔ امراء کے کارناموں سے البتہ ہمیں غرض نہیں ۔ معاشی بدحالی ہو توامراء پہ اُس کا کیا اثر ؟ سماجی پابندیاں بھی اُن کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔ بات تو عام آدمی اور معاشرے کی ہے۔ ایک زمانے میں آج کے مقابلے میں پاکستان میں سماجی آزادیاں بہت زیادہ تھیں۔ پتہ نہیں کن جہادوں کے نام ہم نے وہ پرانا پاکستان برباد کر کے رکھ دیا‘ اور اُس کی جگہ موجودہ منافقت کی نشانیاں اور شاہکار کھڑے کر دئیے ۔

اور تبدیلی نہ سہی نئے پاکستان والے کچھ اِس صورتحال میں تبدیلی لے آئیں۔ یہ نہیں کہ وہ علی الاعلان اور لاؤڈ سپیکروں پہ فرسودہ قوانین کے بارے میں کچھ کہیں ۔ ہمارے جیسے بیمار معاشروں میں ایسے قوانین کی ترمیم مشکل ہو جاتی ہے ۔ لیکن کے پی اور پنجاب میں پولیس کی ذہنی تربیت تو کی جا سکتی ہے۔

بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو موجود تو ہیں لیکن اُن پہ عملدرآمد نہیں ہوتا۔ رشوت کے خلاف قوانین ہیں، کرپشن کے خلاف بھی ۔ لیکن کون مومن کہہ سکتا ہے کہ مملکتِ خداداد میں رشوت اور کرپشن نہیں پائی جاتیں؟

اِسی طرح حدود آرڈیننس رہے لیکن نئے پاکستان والوں کی حکومت میں یہ سوچ پیدا ہو اور پولیس سربراہان میں بھی اِتنی عقل آئے کہ حدود آرڈیننس پہ عمل نہ کیا جائے ۔حدود آرڈیننس ذریعۂ نجات ہوتا اور اُس کی وجہ سے معاشرہ صاف ستھرا ہو گیا ہوتا تو اُس کے حق میں کچھ کہا جا سکتا تھا۔ لیکن حقیقت میں اُس سے غریبوں پہ جبر ہوا ہے اور پولیس فورس کی رشوت کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔

جنرل ضیاء سے پہلے ضابطہ فوجداری میں ایک شق تھی جس کے تحت برسرِ عام غل غپاڑہ کرنا قابل دست اندازیٔ پولیس تھا۔ لیکن پھر بھی اِس حرکت کے تحت کارروائی قابلِ ضمانت تھی۔ یعنی آپ تھانے گئے اور وہاں شخصی ضمانت پہ رہا ہو گئے ۔ یہ ایک مہذب قانون تھا۔

حدود آرڈیننس لایا گیا ہمارے سعودی مہربانوں کو خوش کرنے کیلئے۔ کیونکہ جنرل ضیاء کے پہلے دو سالوں میں پاکستان کی وہی حالت تھی جو اَب ہے، یعنی ہاتھ پھیلے ہوئے اور کشکول خالی ۔ تب بھی توقع تھی کہ سعودی مہربان ہماری مدد کو آئیں گے ۔ وہ زمانہ تو گیا؛ البتہ یہ بیماری پیچھے رہ گئی اور جنرل ضیاء کی آٹھویں ترمیم کے تحت حدود آرڈیننس کو آئینی تحفظ بھی مل گیا۔

پتہ نہیں ایشین ٹائیگر ہم کب بنتے ہیں‘ لیکن اُس سے پہلے ایک نارمل معاشرہ تو بننے کی کوشش کریں۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں