بحرین کا نامناسب فیصلہ


\"edit\"ایران نے بحرین حکومت کی طرف سے شیعہ عالم شیخ عیسی القاسم کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلہ پر شدید احتجاج کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اس اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ بحرین کی حکومت نے شیخ عیسیٰ القاسم کی شہریت غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کے لئے کام کرنے اور ملک میں فرقہ واریت اور تشدد کو ہوا دینے کے الزامات میں منسوخ کی ہے۔ بحرین میں شیعہ اکثریت میں آباد ہیں اور وہاں سعودی عرب کے نزدیک سنی خاندان کی حکومت ہے۔ شیخ عیسیٰ ملک میں شیعہ آبادی کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں اور ان کے سیاسی اور سول حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بحرین میں شیعہ آبادی میں مسلسل بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ملک میں مساوی حقوق کی جد وجہد کرتے رہے ہیں۔ شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اکثریت میں ہونے کے باوجود امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے کے دوران شیعہ آبادی کے سیاسی حقوق کی جد و جہد کرنے والی پارٹی الوفاق نیشنل اسلامک سوسائیٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے ، اس کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس تنظیم کے سربراہ علی سلمان کی 4 برس کی سزا کو بڑھا کر 9 سال کر دیا گیا ہے۔ وہ ملک میں مظاہرے کرنے کے الزام میں زیر حراست تھے۔

 2011  میں عرب بہار کے بعد بحرین میں شیعہ آبادی نے بھی شہری حقوق اور سیاسی آزادی کے لئے جد و جہد کا آغاز کیا تھا۔ ملک کے دارالحکومت ماناما کے مشہور چوک دوار اللولو میں مظاہرین نے کئی ہفتے تک دھرنا دیا تھا۔ اس پر امن احتجاج کو کچلنے کے لئے بحرین کے حکمران حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے خلیج تعاون کونسل سے مدد کی اپیل کی تھی۔ اس کے نتیجہ میں سعودی عرب نے 1200 اور متحدہ امارات نے 800 فوجی بحرین روانہ کئے تھے۔ اس فوج نے سختی سے مظاہرین کو کچل دیا تھا۔ اس ظالمانہ فوجی کارروائی میں درجنوں لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد ان کی مساجد اور گھروں کو بھی مسمار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس فوجی آپریشن کے نتیجہ میں 3 ہزار لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں بعض کو دوران حراست غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس احتجاج اور اسے کچلنے کے لئے عرب فوجوں کی کارروائی کے بارے میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں زیر حراست لوگوں کے خلاف منظم تشدد کے شواہد سامنے لائے گئے تھے۔ اور یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ بحرین میں ہونے والے احتجاج میں ایران کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

شیعہ آبادی کی طرف سے حکومت کے جبر اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود مظاہروں اور حقوق کے لئے جد وجہد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ شیخ عیسیٰ القاسم بحرینی شیعہ آبادی کے روحانی پیشوا بھی ہیں اور وہ ان کی سیاسی جد وجہد کی قیادت بھی کرتے ہیں۔ اب حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت کسی شخص کی شہریت منسوخ نہیں کی جا سکتی۔ البتہ بحرین نے ایک قانون نافذ کیا ہؤا ہے جس کے تحت ہر اس شخص کی شہریت واپس لی جا سکتی ہے جو مملکت کے مفاد کے خلاف کام کرے یا حکومت کی نظر میں ریاست کا وفادار نہ رہے۔

بحرینی حکومت کے اس اقدام پر امریکہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے خلاف کسی ٹھوس ثبوت سے آگاہ نہیں ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے ایک بیان میں اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کے بادشاہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ شیخ القاسم کے خلاف کارروائی ایک سرخ لکیر ہے۔ اسے عبور کرنے کی صورت میں پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ ایسی صورت میں لوگوں کے پاس حکومت کی مزاحمت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ خبروں کے مطابق اپنے رہنما کی شہریت منسوخی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہزاروں لوگ شیخ عیسیٰ القاسم کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوگئے تھے اور شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

بحرین کی آبادی پندرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں 70 فیصد لوگ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہیں سنی حکمرانوں کے رویہ اور پولیس کے استبداد سے شکایت رہتی ہے۔ ملکی معاملات میں بھی انہیں مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اب حکومت کی طرف سے ملک کے اہم ترین لیڈر کے خلاف انتہائی اقدام کرنے سے صورت حال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ایران کے فوجی لیڈر کا بیان صوررت حال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ اس سال کے شروع میں سعودی عرب میں ایک شیعہ رہنما شیخ نمر النمر کو اچانک پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس اقدام پر دنیا بھر کے شیعہ باشندوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور ایران کے احتجاج کے بعد سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال میں بحرین میں شیعہ رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں تناؤ اور تصادم کی کیفیت پیدا کریں گی۔

ان حالات میں خطے کے وسیع تر مفاد اور بحرین میں امن کے لئے ضروری ہے کہ بحرین کے حکمران طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں اور شیعہ آبادی کے ساتھ مفاہمت کے لئے راہ ہموار کریں۔ مشرق وسطیٰ اس وقت مزید تصادم اور اشتعال انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “بحرین کا نامناسب فیصلہ

  • 21-06-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    A truth based analysis mashaAllah. Keep unveiling the truth Mujahid sb.

  • 22-06-2016 at 4:24 pm
    Permalink

    A True Analysis Of The Situation Mujahid Sb.

  • 23-06-2016 at 5:20 am
    Permalink

    حقائق پر مبنی ایک نپی تلی ، غیر جانبدار ، جاندار اور معلومات افزا تحریر ہے۔ یہ ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے خاندان یعنی آلِ سعود بحرین کے سیاہ و سفید کے مالک ہوں اور ایک عرصے تک ان کا خاندانی راج چلتا رہے اور بحرین کی سر زمین پر ہی پیدا ہونے اور اسی سر زمین پر پوری زندگی گزارنے والے ہر دلعزیز رہنما ء کی اس جرمِ بے خطا پر شہریت منسوخ ہو کہ وہ عوام کے جمہوری امنگوں کی نمائندگی کر رہے ہے۔

Comments are closed.