حاملہ خواتین اور ذیابیطس


حمل اور ذیابیطس کو سمجھنے کے لیے تین اقسام میں‌ بانٹنا ضروری ہوگا۔

حمل اور ذیابیطس ٹائپ ون

حمل اور ذیابیطس ٹائپ ٹو

حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس یا جیسٹیشنل ذیابیطس

ذیابیطس کی مریضاؤں کو حمل سے پہلے ہی اپنی ذیابیطس کو قابو میں‌ رکھنا ہوگا تاکہ اس کی پیچیدگیوں‌ سے بچا جاسکے۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں‌ کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔ انسولین انجکشن کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور انسولین پمپ سے بھی۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی حاملہ خواتین کا علاج منہ سے لی جانے والی دواؤں سے ممکن ہے لیکن اگر کنٹرول حاصل نہ ہوسکے تو انسولین کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کچھ خواتین کو پہلے سے ذیابیطس نہیں ہوتی لیکن حمل کے دوران ہوجاتی ہے۔ حل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس کو جیسٹیشنل ذیابیطس کہتے ہیں۔ اکثر یہ ذیابیطس حمل پورا ہوجانے کے بعد ٹھیک ہوجاتی ہے۔ کچھ مریضائیں‌ جیسٹیشنل ذیابیطس ہونے کے بعد مستقل طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس کی مریضہ بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین میں‌ یہ عام بات ہے کہ وہ سب کا خیال رکھیں‌ گی سوائے اپنے۔ جو لوگ اپنا خیال نہ رکھیں وہ دوسروں‌ کا بھی نہیں‌ رکھ سکتے۔ ماں‌ کی صحت ٹھیک نہ ہو تو بچوں اور تمام خاندان پر اس کا منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔

اگر آپ کی عمر 30 سال سے زیادہ ہے یا آپ کی فیملی میں‌ ذیابیطس کی ہسٹری موجود ہے یا آپ کا پہلے سے ایک بچہ ہوچکا ہے جس کا وزن 9 پونڈ سے زیادہ تھا تو آپ کو حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس کا خطرہ ہے۔ ویسے تو تمام خواتین کو 24 سے 28 ہفتے کے دوران ورلڈ ہیلتھ اورگنائزیشن کے گلوکوز برداشت کرنے والےٹیسٹ سے چیک کیا جاتا ہے لیکن اگر ان خواتین میں‌ خطرے کے اشارے موجود ہوں‌ تو ان کو حمل کے شروع میں‌ ہی چیک کرنا مناسب ہے۔

ذیابیطس سے حمل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ذیابیطس کی بیماری سے ماں‌ اور بچے دونوں‌ کی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اگر شوگر کنٹرول میں‌ نہ رکھی جائے تو ان بچوں‌ کو میکروسومیا ہوجاتا ہے یعنی ان کا وزن زیادہ ہوجاتا ہے۔ اگر بچے کا وزن زیادہ ہو تو زچگی میں‌ مشکل ہوتی ہے۔ ان خواتین میں‌ اکثر نارمل طریقے سے بچہ پیدا نہیں‌ ہوسکتا اور ان میں‌ سی سیکشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ان بچوں‌ میں‌ جسمانی بگاڑ اور موت تک واقع ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ذیابیطس کے مریض‌ میں‌ زخم آسانی سے نہیں‌ بھرتے۔ خواتین کو سی سیکشن کے بعد صحت یاب ہونے میں‌ وقت لگتا ہے جس دوران ان کو اپنا اور اپنے بچے کا خیال رکھنے میں‌ مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

اگر آپ کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو گئی ہے تو آپ مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کرکے اپنا بہتر طور سے خیال رکھ سکتی ہیں۔

  • ذیابیطس کو ذہن میں‌ رکھتے ہوئے مختلف غذاؤں کا چناؤ کریں۔ میٹھی اور زیادہ چکنائی والی اشیاء سے پرہیز اور سبزیوں اور پھلوں‌ کے استعمال سے ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں‌ مدد ملتی ہے۔
  • چلنے پھرنے اور باقاعدگی سے ہلکی پھلکی ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ کچھ ہفتے پہلے ثانیہ مرزا کی حمل کے دوران ورزش کی تصاویر دیکھ کر لوگ پریشان ہورہے تھے کہ ان کو یا ان کے بچے کو کچھ نقصان پہنچے گا لیکن ایسا نہیں‌ ہے۔ اگر کسی خاص بیماری کی وجہ سے بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہو تو الگ بات ہے لیکن تمام مریضاؤں کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسے فٹ پاتھ اور جم بنانا ضروری ہے جہاں‌ تمام لوگ ایک صاف ستھرے اور محفوظ ماحول میں‌ چہل قدمی اور ورزش کرسکیں۔
  • خون میں‌ شوگر کو دن میں‌ کئی مرتبہ چیک کریں۔ کم از کم 4 سے 6 مرتبہ چیک کرنے کی ضرورت ہوگی۔ صبح‌ ناشتے سے پہلے، دوپہر کھانے سے پہلے، رات کے کھانے سے پہلے، کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد اور کھانے کے دو گھنٹے کے بعد۔ مستقل شوگر چیک کرنے والا آلہ یعنی کہ کنٹینیؤس گلوکوز مانیٹر بھی ذیابیطس کے علاج میں‌ مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو ہر منٹ شوگر چیک کرتا ہے۔
  • ذیابیطس میں لی جانے والی دوائیوں کا باقاعدگی سے علاج جاری رکھیں۔ یاد رہے کہ ذیابیطس خاموشی سے وار کرتی ہے۔
  • ذیابیطس کی ٹیم یعنی کہ آپ کے ڈاکٹر، نرس اور ذیابیطس کے بارے میں تعلیم دینے والے صحت کے ادارے کے ارکان کے ساتھ باقاعدگی سے رجوع کریں۔
  • اسٹریس سے بھی شوگر زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے حاملہ خواتین کو جسمانی اور دماغی سکون فراہم کرنا اہم ہے۔

ذیابیطس کے علاج کے حمل کے دوران کیا ہدف ہیں؟

ذیابیطس کے علاج کے ہدف حمل کے دوران عام افراد سے مختلف ہیں۔ چونکہ حمل کے دوران ذیابیطس سے ماں‌ اور بچے کی صحت اور زندگی پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا علاج اور بھی اہم ہے۔

صبح ناشتے سے پہلے بلڈ شوگر 70 سے 90 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہونی چاہئیے۔ کھانا کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد یہ شوگر 130ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم اور دو گھنٹے کے بعد 120 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہونی چاہئیے۔ ذیابیطس کی مریضاؤں‌ میں شوگر 60 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم نہیں‌ ہونی چاہئیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں