مذہبی سیاست انسانی خوشی کی مخالف ہے


\"jamshedجب انگلستان میں جانوروں کی لڑائی پر پابندی کا بل پیش ہوا تو پہلی بار برٹرینڈرسل اور کلیسا بظاہر ایک ہی پیج پر دکھائی دیے۔ مذہبی قیادت بھی جانوروں کی لڑائی پر پابندی کے حق میں تھی اور رسل بھی۔ پہلی بار رسل اور کلیسا کسی ایک بل کی حمایت کر رہے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانیہ کےایک معروف نشریاتی ادارے نے رسل سے رابطہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ مذہبی قیادت کےساتھ مل کر پریس کانفرنس کریں لیکن رسل نے یہ کہتے ہوئے مشترکہ پریس کانفرنس سے صاف انکار کردیا:

’’کلیسا بھی بل کی حمایت کررہا ہے اور میں بھی۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دونوں ایک پیج پر ہیں۔ میں اس بل کی حمایت اس لئے کررہا ہوں کیونکہ جانوروں کی لڑائی ظلم ہے اور اس سے ظلم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ کلیسا کے نمائندے اس بل کی حمایت اس لئے کررہے ہیں کیونکہ کچھ لوگ یہ لڑائی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور مذہبی سیاسی قیادت ہر دور اور ہر مقام پر ہر اُس عمل کے خلاف رہی ہے جس سے انسانوں کو خوشی حاصل ہوتی ہو ‘‘۔

گذشتہ صدی کا یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد سیاسی طرز کے مذہبی اداروں کی اُس نفسیات کو سمجھنا ہے جو پاکستان میں تحفظِ نسواں بل سے لے کر ہر روز غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی راہ میں آخری چٹان بن جاتی ہے۔ رسل کہہ رہے ہیں کہ ان اداروں کا چلن ہر دور میں ایسا ہی رہا ہے۔ اس لئے دیکھتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی مذہبی ادارے خوشی اور آزادی کے خلاف جنگ میں کہاں تک گئے ہیں۔

 یونانی فلسفی ارسطو نے المیہ شاعری پر بوطیقا (Poetics) نامی کتاب لکھنے کے بعد ایک کتاب مزاح پر لکھی اور قرونِ وسطیٰ میں کلیسا نے مزاح پر لکھی گئی کتاب کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کی۔ جب تک کلیسا کا اقتدار عروج پر رہا مزاح پر لکھی گئی کتاب پر پابندی رہی، اسے پڑھنے کی کوشش کرنے والوں کو کافر (heretic) قرار دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا اور اس مکمل کتاب کی ہر کاپی جلا دی گئی تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ ارسطو نے مزاح جیسے ‘بیہودہ’ موضوع پر کبھی قلم ہی نہیں اٹھایا تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اگر اس کتاب کی کوئی کاپی کسی لائبریری میں رکھی جاتی تو اس کے اوراق پر زہر چھڑک دیا جاتا تا کہ پڑھنے والا صفحہ پلٹنے کے لئے زبان سے اپنی انگلی گیلی کرے تو صفحہ پلٹنے سے پہلے اس کی زندگی کی بساط الٹ جائے۔

بوطیقا کا یونانی زُبان سے لاطینی میں ترجمہ ولیم آف مویر بیک (1215-1286) نے کیا۔ ولیم ایک راست باز رُوحانی شخصیت تھے۔ معاصر ماہرین اس کے ترجمے کو قابلِ اعتماد قرار دیتے ہیں۔ لیکن قرونِ وسطیٰ میں کلیسا کو یہ قابلِ اعتماد ترجمہ اس لئے پسند نہ آیا کیونکہ اس میں المیے کے ساتھ مزاح پر لکھی گئی کتاب بھی شامل تھی۔ ہنسی کے خوف سے کلیسا نے بوطیقا کے لاطینی ترجمے کی بجائے عربی ترجمے پر انحصار کیا جو ناقابلِ اعتماد، ناقابلِ فہم اور نامکمل ہونے جیسی بنیادی خوبیوں کی وجہ سے کلیسا کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتا تھا۔

تاہم یہ خوبیاں صرف بوطیقا تک محدود نہیں تھیں بلکہ، معاصر تحقیق کے مطابق، فلسفۂ یونان کے تمام عربی تراجم میں موجود تھیں۔ ہمارے ہاں ان تراجم اور پھر ان کی شرح کو قرونِ وسطیٰ کے عرب فلاسفہ کا بہت بڑا علمی کارنامہ سمجھا جاتا ہے لیکن دورِ حاضر کے کسی محقق کو اس کارنامے پر قائل نہیں کیا جاسکتا۔

اس کی وجہ یہ ہے یونانی فلسفے کے عربی تراجم شامی زُبان کے تراجم سے کئے گئےتھے۔ فلسفہ یونان، خاص طور پر ارسطو، کے اولین تراجم شام کے نسطوری (Nestorian) مسیحیوں نے کئے، پھر عربوں نے شامی تراجم کو اصل مانتے ہوئےان کے عربی تراجم کئے اور بعد میں مسلمان فلا سفہ نے تراجم کے تراجم کی شرح لکھی۔ قرونِ وسطیٰ میں مسلمان فلاسفہ کے ہاتھ، افلاطون کے برعکس، ارسطو کی کتب نسطوری مسیحیوں کے توسط سے لگیں اور مسلمان فلاسفہ کی شہرت محض یہ رہی کہ وہ ارسطو کی کتب کی تشریح کرسکتے تھے۔

 مثال کے طور پر ابن رشد کو خلیفہ ابو یعقوب یوسف کے دربار میں ارسطو کی عربی کتب کے ماہر کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف یونانی زُبان سے ناواقف تھے (رسل، مغربی فلسفے کی تاریخ۔ ص 431) بلکہ ان کا انحصار ان تراجم پر تھا جنہیں عصری محققین (مثال کے طور پر ارسطو کے شامی تراجم کی تحقیق و نقد کرنے والے محقق البرٹو ریگولیو ) ناقابلِ فہم واعتبار قرار دیتے ہیں۔ مسلمان فلاسفہ میں ابنِ رشد ارسطو پر حرف ِ آخر سمجھے جاتے تھے لیکن مارگولیو تھ کے نزدیک ابن رشد کا انحصار چونکہ ناقص تراجم پر رہا اس لئے وہ اس کے اہم نکات سے ہمیشہ ناواقف رہے۔ اس ناواقفیت کا نتیجہ، رسل کے الفاظ میں، یہ نکلا کہ انہوں نے ارسطو (جیسے عقل پرست کو بھی) نوفلاطونی چوغہ پہنا دیا (ص 429 )۔

اگر ہم بوطیقا کی ہی مثال لیں تو عرب زُبان اور تمدن کے ماہر ڈیوڈ سیموئل مارگولیوتھ (1858-1940) کا خیال ہے کہ کتاب کا یونانی مسودہ ساتویں صدی میں شامی زُبان میں ترجمہ ہوا اور پھر دسویں صدی میں عربوں نے شامی زُبان سے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا۔ یعنی اس کتاب کا عربی ترجمہ، ایک بار پھر، ناقابلِ فہم و اعتبار ترجمے کا ترجمہ ہو نے کی بنا پر ( افلاطون سے معذرت کے ساتھ) حقیقت سے سہ گنا دُور (thrice removed from reality) تھا اور عربی ترجمے کی اسی ‘خوبی’ کی وجہ سے ہی اسے کلیسا کی سندِ قبولیت عطا ہوئی۔

 ارسطو کی مزاح پر کتاب اہم تھی یا نہ تھی یہ الگ بحث ہے لیکن موضوع کی طرف واپس آکر اس سوال پر غور کرنا ضروری ہے کہ کتاب تلف کرنے سے کیا مزاح، ہنسی اور قہقہہ تلف ہو پایا؟

اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ انسان کو خوشی کی اُمید زندہ رکھتی ہے۔ اخلاقی مفکرین بھی خوشی اور آزادی کو اخلاقی اعمال کی آخری منزل (summum bonum) قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہنسی اورخوشی کا راستہ روکنے کو کسی بھی صورت میں اخلاقی عمل نہیں قرار دیا جاسکتا۔ انسان خوش ہوتا ہے تو ہنستا ہے، ناچتا ہے، قہقہے لگاتا ہے۔ ہنسی اور خوشی سے جنگ دراصل زندگی سے جنگ اور فطرت سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے اور جو اس سے سر ٹکراتا ہے اپنا ہی سر پھوڑتا ہے۔

\"translate\" اس کے علاوہ اصل سوال یہ ہے کہ مذاہب کی سیاسی و عسکری شکلوں کو ہنسی اور خوشی سے کیا خوف لاحق تھا ؟

قہقہے کو جاہلوں کی تفریح کہا جاتا تھا۔ احمق تو چلو ہنستے رہیں لیکن خوف یہ تھا کہ کہیں ارسطو کی کتاب پڑھنے کے بعد خود کو عقل مندسمجھنے والے سنجیدہ طبقات بھی ہنسی کو معمول نہ بنا لیں اور اس کی زد میں کہیں اہل منبر و محراب نہ آجائیں۔ مذہب جب مفاد پرست جابرحکمرانوں کے ہاتھ لگتا ہے تو وہ اسے نقاب بنا کر اپنا اصل چہرہ اس کے پیچھے چھپا لیتے ہیں تاکہ ان کے اقوال، اعمال اور اشغال مضحکہ خیز نہ لگیں اور کوئی ان کا مذاق نہ اُڑا پائے۔

جبر و استحصال کی کوئی بھی شکل ہو یہ تمسخر سے بچنے کا انتظام کئے بغیر باقی نہیں رہ سکتی۔ جارج ارویل اینیمل فارم میں لکھتے ہیں، ‘‘انڈیا میں تاج ِ برطانیہ کا ہر نمائندہ پاگل دکھائی دینے اور عوامی تمسخر سے بچنے کے لئے مضحکہ خیز پاگل پن پر اتر آتا تھا’’۔

جابر کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وہ جب تمسخر سے بچنے کا اہتمام کرتا ہے تو مزید مضحکہ خیز ہوجاتا ہے لیکن وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جونہی اس کا مذاق اڑایا جانے لگا، تخت تختہ دار بن جائے گا۔

جابر خوف میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے تو ہنسی اور خوشی خوف کی عدم موجودگی کا اظہار ہیں۔ اس لئے اسے خوشی اور آزادی سے دشمنی رہی ہے۔ ہنسی خوف کی موت ہے۔ روایتی مذہب پرستوں، غاصبوں اور جابر حکمرانوں کی منطق یہ رہی ہے ‘‘جہاں ہنسی ہے وہاں خوف نہیں ہے اور جہاں خوف نہیں ہے وہاں خُدا نہیں ہے ’’۔

اسی منطق نے خدا کے خوفناک تصور کو جنم دیا۔ خدا کا خوفناک تصور عام کرنے والے بظاہر نیکو کار دکھائی دیتے ہیں مگر ان کا مقصدمخلوقِ خدا کو خوف میں مبتلا رکھ کر ان پر حکومت کرنا رہا ہے۔ وہ ہنسی سے اس لئے بھی ڈرتے کیونکہ ہنسی پول کھول دیتی ہے۔ اس لئے نقلی آدمی ہمیشہ خوش رہنے والے آدمی سے ڈرتا ہے۔

 اس کے برعکس اصلی لوگ کبھی نہیں ڈرے۔ مثلاً مولائے روم ؒ پر شمس تبریزی ؒ نے چوٹ کی اور پھر وہ درباری ملا نہ رہے۔ حکیم ثنائی پر ایک فقیر نے قہقہے کی ضرب لگائی تو انہوں نے قصیدے لکھنے والا قلم توڑ کر حدیقۃ الحقیقہ لکھی۔ طاقت پرست درباریوں پر چوٹ کرنے کے لئے بہلول نے دیوانے کا روپ دھارا تو کسی نے ملانصیر الدین کے کردار کی مدد سے قہقہے کو دانش کا زینہ بنا دیا۔ بلہے نے ‘نچ کے یار منایا ’ اور یوں خوشی کا تقدس پامال ہونے سے بچ گیا۔ اس کے برعکس جو اس چوٹ سے ڈرگیا ؛ اُس سے اپنا پول خود ہی کھول دیا۔ وہ قہقہوں کے بھنور میں ایسا پھنسا کہ پھر کبھی نکل نہیں پایا۔

کوئی بتا سکتا ہے کہ ’ہلکے پھلکے تشدد‘ اور ’شلوار کی بڑھک‘ کو ملنے والی لاکھوں قہقہوں کی سلامی کیا نوید سنا رہی ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مذہبی سیاست انسانی خوشی کی مخالف ہے

  • 21-06-2016 at 9:39 pm
    Permalink

    واہ

Comments are closed.