ترقی پسندوں کا المیہ


\"ali1980 کی دہائی میں ہم جوانی کی دھلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے ہمعصروں کی طرح ترقی پسند ہوگئے۔ ضیائی مارشل لا  کا زمانہ تھا۔ کالجوں مین طلبہ یونین پر پابندی تھی۔ مارشل لا کے خلاف ملک میں بحالی جمہوریت کے لیے چلنے والی ایم آرڈی کی تحریک اور اس کی حمایت میں تشکیل پانے والے ملک گیر طلبہ اتحاد پاکستان پروگریسیو سٹودنٹس الایٔنس پھر ملک بھر میں لکھنے پڑھنے والے دانشوروں کی ترقی پسند ادبی تحریک، بھلا ایسے میں علم کی تلاش میں پہاڑوں سے چل کر کراچی کی سڑکوں کی خاک چھاننے والا ایک نوجوان اس سب سے متاثر ہوئے بغیر کیسے رہ سکتا تھا۔ ہر روزکوئی مظاہرہ، جلسہ، ڈنڈے، آنسو گیس اور روز نت نئے موضوعات، نعرے۔ اس سب میں ایک کشش تھی۔ ایک نوید تھی۔ قومی جمہوری انقلاب، عوامی جمہوری انقلاب، لینن کا انقلاب، ماؤ کا انقلاب، اب آیا انقلاب، اب آیا انقلاب ۔

اس وقت ملک میں ترقی پسند طلبہ کی تنظیموں میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس ٖفیڈریشن اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نوجوانوں میں انقلاب کی نوید سنا رہی تھیں۔ مگر ان انقلابیوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ وہ دانشورانہ انداز میں ایک دوسرے کو قنوطیت، شاؤنزم جیسے عالمانہ طعنے دیتے تھے۔ ہم نے طعنہ زنی کی بھی طویل مشقیں کررکھی تھیں اس لئے ترقی پسند ہم سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مارشل لاء لگانے والوں نے ملک میں ایک بے یقینی کی فضا پیدا کردی تو قوم پرستانہ لسانی سیاست کا جنم ہوا۔ صوبوں کی حدبندیاں، قومیتوں کا تشخص اور قومیتوں کے حقوق پر ہونے والی بحث کبھی کبھار گھونسوں، لاتوں، ڈنڈوں اور آتشیں اسلحے تک پہنچ جاتی۔

آج بھی اس دور کے انقلابیوں سے کسی ایماندار لمحے میں پوچھ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اتنے لوگ ریاستی جبر کا شکار نہیں ہوۓ تھے جتنے انقلابیوں کے مابین جنگ کا۔ اس سارے عمل میں ہمارے ترقی پسندوں کا المیہ یہ رہا کہ وہ قومی جمہوری انقلاب اورعوامی جمہوری انقلاب کی آڑ میں صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ جس کا پلہ بھاری ہوگا اور وہ اس کا ساتھ دیں گے۔ اس دوران انقلابی قوتیں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر کر انقلابیوں کے آفاقی نعرے ‘دُنیا بھر کے مزدورو ایک ہو جاؤ’ کے برعکس ایک دوسرے سے دست و گریبان تھیں۔

\"student3\"وہ طلبہ جو خود کو اس ترقی پسندی سے لا تعلق کیے ہوۓ تھے وہ یا تو وہ دایٔیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ تھے یا پھر لاتعلق۔ بائیں بازو یا ترقی پسند کہلانے والے عموماٌ شہر کے پوش علاقے طارق روڈ پر واقع سوویت یونین کے زیر اہتمام چلنے والے فرینڈ شپ ہاؤس سے منسلک تھے جبکہ دایٔیں بازو اور دونوں سےغیر وابستہ لوگ امریکی سفارتخانے میں واقع پاک امریکن کلچرل سنٹر سے۔ فرینڈ شپ ہاوس میں عموماٌ مختلف تقاریب منعقد کی جاتی تھیں مثلاٌ بالشویک انقلاب اکتوبر کی سالگرہ، افغانوں کا انقلاب ثور کا دن، یوم مئی اور مزدوروں کا عالمی دن وغیرہ۔

ایک دفعہ میں اپنے ایک استاد، جو اُس وقت ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ دانشور تھے اور آج کل امریکہ میں مقیم ہیں، کے ہمراہ مزدوروں کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے فرینڈشپ ہاؤس جا رہا تھا تو ہم نے ایک رکشہ کراۓ پر لیا۔ چونکہ فرینڈ شپ ہاؤس بڑی سڑک سےکافی دور واقع تھا اور میرے استاد جسمانی طور پر چلنے پھرنے سے قاصر بھی تھے تو ہم نے رکشے والے سے تقریب کے اختتام تک رکنے کا کہا اور ساتھ ہی اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ تقریب دراصل اس جیسے مزدوروں کے لیے ہے اور ان کی خاطر منعقد کی جا رہی ہے لہذا وہ بھی شرکت کرے۔ اس رکشے والے کو یقین نہیں آیا کہ کسی بڑے مکان میں کوئی تقریب اس جیسے کسی مزدور کے لیے بھی سکتی ہے۔ لہذا اس نے باہر رکشے میں انتظار کرنے کو ترجیح دی۔ ویسے بھی اس تقریب میں اس رکشے والے کی سمجھ میں آنے والی کونسی بات کی جا رہی تھی۔ کیا وہ رکشے والا سمجھ پاتا کہ قومی جمہوری انقلاب اور عوامی جمہوری انقلاب میں وہ کس کے ساتھ ہے؟ کیا وہ یہ سمجھ پاتا کہ وہ کراچی میں اس لیے رکشہ چلانے پر مجبور ہے کہ یہاں قومیتوں کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا؟

\"student9\"آج تک ہمارے ہاں یومِ مئی ترقی پسند دانشور مناتے ہیں یا واپڈا، پی آٔی اے اور دیگر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں کام (نہ) کرنے والے مزدور لیڈر جو خود ایک استحصالی طبقہ بن چکا ہے۔ ترقی پسندوں کا المیہ یہ تھا کہ انھوں نے ترقی پسندی کے فلسفے کو مزاجِ عوام کرنے کی بجائے اپنے تک محدود رکھا اور مزدور کو خبر بھی نہ ہونے دی کہ اس کے نام پر قائدین اور دانشوروں کی ایک فصل تیار ہوگئی ہے۔

ترقی سب ہی کو پسند ہے لہذا ہم سب ہی ترقی پسند ہیں۔ ترقی سے مراد اگر سہولیات اور ایجادات ہیں تو ہر کوئی ا ن ایجادات اور سہولیات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اگر ترقی سے مراد معاشرے کی اجتماعی ترقی اور شعوری بالیدگی سے ہے تو یہ ایک فطری عمل ہے۔ ہم اٹھارہویں یا انیسویں صدی کے پیڑے میں نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ دور میں جی رہے ہیں۔ دنیا ایک گاؤں کی طرح بن چکی ہے جس میں رہنے والے ملکوں کی سرحدوں سے بالا اور ریاستی قدغنوں سے مبرا ایک گھر کے افراد کی مانند ایک دوسرے کو جانتے ہیں، سیکنڈوں میں ایک دوسرے کو باخبر رکھتے ہیں۔

آج پاکستان میں بیٹھے ایک نوجوان سے کوئی جب کہتا ہے کہ چین ایک ترقی پسند ملک ہے یا جنوبی کوریا تو وہ فوراٌ اپنے موبائل پر گوگل نام کے فرشتے سے پوچھ لیں گے کہ آیا یہ حضرت جو کہہ رہے ہیں، سچ ہے یا ایویں ہی مار رہے ہیں۔ ایک لمحے میں ان ممالک کے بارے میں مطلوبہ معلومات تصویری شہادتوں سمیت حاضر خدمت ہوں گی۔ اب 1980 کی دہائی کی طرح نوجوانوں کو جذباتی نعروں سے قائل نہیں کیا جاسکتا۔ اب اس سے اگے ہمارے ترقی پسندوں کا علم، عقل اور علم سب جواب دے جاتےہیں تو وہ نوجوان نسل کی لاپرواہی کو کوسنا شروع کرتے ہیں۔ ترقی پسندوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ برفانی علاقوں میں ایٔر کنڈیشنڈ اور گرم علاقوں میں اونی کمبل بیچنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ نوجوان نسل کو ستر اور اسی کی دہائی میں لکھے گئے مقالوں، نظموں اور گیتوں سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوویت یونین کے انتشار کے بعد لینن کا بت روس کی سڑکوں پر ٹوٹ گیا مگر ہمارے ترقی پسندوں کے دماغوں میں ابھی تک ایستادہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ترقی پسندوں کا المیہ

  • 23-06-2016 at 11:44 am
    Permalink

    Well articulated write up Ali Kako. We have two types of leftists e.g. conservative and liberal, conservatives follow the teaching of Lenin , Mao etc and librals have thier inclination towards modren western progressive thoughts. Leftists of modren age are divided into dozens of sects , they have more sects than Islam. They dont have uniformity thats why they are failed like muslims in the world. They cant get rid off thier own differences thats why they dont attract others. If leftists are not like religious extrimists they should tolerate the critisism. No doubt leftists have a great history of sacrifies for thier cause but they need more unity to fight against capitalism and usurp of right wing. They should deal the theories of left as philosophical politcal theories instead of religous thoughts. And according to the Dr. Mehdi Hassan every theory of social science becomes outdated after 50 years.

Comments are closed.