غامدی سکول آف تھاٹ اور سیکولر مغالطہ


\"zafarتھامس جیفرسن نے لکھا تھا، ’ نقطہ نظر کے اختلاف سے تحقیق کا دروازہ کھلتا ہے اور تحقیق سچائی تک لے جانے کا واحد راستہ ہے‘۔ یہ بات عیاں ہے کہ آئن سٹائن نیوٹن سے اختلاف نہ کرتا تو سائنس کے موجودہ کرشمات نہ ہوتے۔ امام ابو یوسف اور امام محمداپنے استاد امام ابو حنیفہ سے اختلاف نہ کرتے تو فقہ حنفی کی صورت مختلف ہوتی۔ محمد علی جناح کانگریس سے اختلاف نہ کرتے تو شاید پاکستان نہ بن پاتا۔ نقطہ نظر کا اختلاف علم کی دنیا میں ایک اعلی و ارفع اصول ہے۔ جاننا مگر یہ چاہیے کہ نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کیا اختلاف کرنے والا اس نقطہ نظر سے واقف بھی ہے؟ جاننا یہ بھی ضروری ہے کہ کسی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اصل نقطہ نظر واضح کیا گیا ہے یا اسے مبہم رکھ کر گرد اڑائی گئی ہے اور اس دھول میں عوامی جذبات کی بے جا تائید حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی نقطہ نظر سے اختلاف کے لئے جس تنقیدی شعور کی ضرورت ہے ، کیا اختلاف کرنے والے نے اس کے اجزائے ترکیبی کو مدنظر رکھا ہے؟

دیکھیے جس ملک کی پچاسی فیصد آبادی نے اپنی زندگی میں کوئی لائبریری اندر سے نہ دیکھی ہو۔ جس ملک میں ایک بڑی کثیر اکثریت سوچتی ہو کہ ہندوستان کے خلاف جنگ میں راوی کے پل پر سبز پوش فرشتے کھڑے ہو کر بم پکڑ پکڑ کر راوی میں پھینک رہے تھے۔ جہاں عمومی طور پر سیاست دان اور چور کو ایک دوسرے کے متبادل لفظ کے طور پر عوام کیا، بڑے بڑے ٹیلی افلاطون استعمال کرتے ہوں۔ جس ملک کا سب سے مقبول کالم نگار و اینکر یروشلم میں زمین پر پڑے ایک پتھر کو ہوا میں معلق قرار دے کر معجزہ قرار دے رہا ہو۔ جس ملک کی کثیر اکثریت کا خیال ہو کہ نو گیارہ کے حملوں کا یہودیوں کو پہلے سے علم تھا اور حملے کے دن چار ہزار یہودی چھٹی پر تھے۔ وہاں نقطہ نظر کا اختلاف بہت وضاحت کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔ مبہم جملوں، چیزوں کو مدغم کرنے اور ذاتی سوچ کی بنیاد پر عوامی جذبات ابھارنا کم سے کم درجے میں بھی بددیانتی ہے۔

\"ghamdi1\"قصہ حمزہ علی عباسی کے پروگرام سے شروع ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوا اور مجبوراَ پیمرا کو نوٹس لینا پڑا۔ اس بیچ بہت سے لوگوں نے اس پر قلم اٹھایا۔ کسی نے حمزہ کے سوال اٹھانے کی حمایت کی اور کسی نے ان معاملات کو طے شدہ قرار دے کر سوال اٹھانے کو بھی غلط قرار دیا۔ اس بیچ ہمارے ممدوح کالم نگار محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے ’غامدی سکول آف تھاٹ‘ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی۔ چیدہ چیدہ نکات یوں ہیں کہ وہ فرماتے ہیں،’تصوف کے بارے میں ان کا نقطہ نظر مجھے سو فیصد غلط اور شدت کا شکار لگتا ہے۔ اکثر یوں لگا جیسے وہ کسی ردعمل کا شکار ہیں۔ جاوید غامدی صاحب کے بعض اور تفردات سے بھی ہمیں اتفاق نہیں اور اپنی طالب علمانہ سوچ کے مطابق ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بدگمانی بھی ہوتی ہے کہ وہ بعض امور پر دانستہ منفرد رائے اپناتے ہیں، شائد خود کو دوسروں سے ممیز کرنا مقصد ہو، دوبارہ عرض کر دوں کہ یہ محض گمان ہے، بدگمانی سمجھ لیجئے۔ ایک اور بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ غامدی صاحب کی رائے اتنی زیادہ تبدیل ہوتی رہتی ہے کہ میں اگر غلطی سے ان کے تلامذہ میں ہوتا تو اس ڈر کے مارے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا کہ کہیں دو چار ماہ بعد پھر استاد محترم کی رائے بدل نہ جائے۔ مجھے ذاتی طور پر ایک بڑا شکوہ یہ ہے کہ غامدی سکول آف تھاٹ بہت سے ان ایشوز میں ویسی حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتا، جو عام مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ پاکستانی تناظر میں بات کروں تو قادیانیوں کے حوالے سے غامدی صاحب، ان کے تلامذہ اور فکری ہمنواﺅں کا موقف کبھی سخت نہیں رہا۔ یوں لگا جیسے یہ سکول آف تھاٹ ہمیشہ قادیانیوں کو کسی حد تک قبول کرنے کی طرف مائل رہا ہے۔ اس کی اپنی وجوہات اور دلائل ہوں گے، مگر ایک عام مسلمان، دینی طبقے میں اور اسلامسٹوں یا سیاسی اصطلاح میں رائٹسٹوں میں جس طرح قادیانی ایشو پر حساسیت، جوش اورایک ایسی کیفیت پائی جاتی ہے، جس کا ترجمہ صرف جوش ایمانی یا مومنانہ غیرت کہاجا سکتا ہے۔ یہ بات مجھے غامدی سکول آف تھاٹ میں نظر نہیں آتی۔ ویسے بھی میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ آخری تجزیے میں غامدی تھاٹس سیکولر کیمپ کے ساتھ ہوتے ہیں‘۔

\"ghamdi-e1383851\"دیکھیں جہاں تک تصوف کا معاملہ ہے تو جان لینا چاہیے کہ اس پر اعتراضات امت کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس امت کے جید علماءکرام جیسے امام ابن تیمیہ اور ابن قیم سے لے کر موجودہ دور تک جناب راشد شاذ اور غامدی صاحب نے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ علم کی دنیا میں سوال اٹھانا جرم نہیں ہے۔ محترم خاکوانی صاحب اگر اس پر علمی بنیادوں پر تنقید کریں تو ہمیں خوشی ہو گی اور ہم جان سکیں گے کہ غامدی صاحب سے کہاں غلطی ہوئی ہے۔ البتہ جب تک ایسی غلطی واضح نہ ہو تب تک کم ازکم سو فیصد غلط، شدت کا شکار اور ردعمل کا شکار جیسی اصطلاحات سے پرہیزبرتنا چاہیے۔ علمی رویے میں کسی سے اختلاف ہو اور وہ اختلاف بغیر دلیل کے پیش کرنا ہو تو زیادہ سے زیادہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں ہے یا میں ان کی رائے کو درست نہیں سمجھتا۔ جہاں تک خود کو ممیز کرنے والی بدگمانی کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ علم کی دنیا میں نیت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا۔ اس لئے نیت پر بدگمانی علمی دنیا میں جرم ہے اور خدا کے حضور قابل مواخذہ عمل ہے۔ پہلے تو بدگمانی کرنی نہیں چاہیے لیکن اگر ہو گئی ہے تو جوش خطابت میں اسے تحریر میں لانا کہاں کی دانش مندی ہے۔

جہاں تک رائے تبدیل ہونے کی بات ہے تو جان لینا چاہیے کہ علم کی دنیا مطلق و معلق نہیں ہوتی۔ کچھ دلائل کی بنیاد پر ایک رائے اپنائی جاتی ہے اور اگر اس کی غلطی واضح ہو جائے تو اس سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ہماری تاریخ میں اس کی درخشاں مثالیں موجود ہیں۔ اس سلسلے میں محترم خاکوانی صاحب کو حجة الاسلام امام محمد بن محمد الغزالی کی تصنیف ’المنقذ من الضلال‘ دیکھ لینی چاہیے جس میں امام نے بتایا ہے کہ وہ اندھیرے سے کیسے نکلے۔ یہ مختصر سی کتاب ان کی پوری زندگی کی کایا پلٹ کی داستان ہے۔ خو د اس دور میں علامہ اقبال، مولانا مودودی اور مولنا امین احسن اصلاحی کی بیش بہا مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن میں انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کیا ہے۔ زیادہ دور کی بات بھی نہیں محترم خاکوانی صاحب اگر خود اپنے تین سال کے پیشتر طالبان کے حوالے سے اپنے کالم دیکھ لیں تو ان کو علم ہو جائے کہ انہوں نے کتنا رجوع کیا ہے۔ اس لئے طنز و تشنیع کے بھڑکیلے جملے خاکسار جیسے صحافت کے نوواردوں کے لئے استعمال کیا کریں تو نوازش ہو گی۔

\"ghamdi2\"جہاں تک بات ہے احمدیوں کی تو اس حوالے سے غامدی صاحب کا موقف خاکسار جو سمجھا ہے تو وہ یوں ہے کہ ریاست کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے شہریوں میں عقیدے کی بنیاد پر تفریق کرے نہ ہی ریاست کا یہ کام ہے کہ وہ کسی طبقے کو کافر یا مسلمان قرار دے۔ اس کے اپنے دلائل ہیں ان کے پاس اور وہ وقتاً فوقتاً ااس کا ذکر کرتے ہیں۔ کوئی شخص اس سے اتفاق کر سکتا ہے، اس سے اختلاف کر سکتا ہے اوریہ عمل جاری ہے۔ البتہ وہ احمدیوں کے بارے میں ان سے پوچھے گئے ایسے ہی ایک سوال پر کہ ’ آپ قادیانیوں کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔‘ جواب دیتے ہیں،’ میں دنیا کے ہر انسان کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتا ہوں۔ اس لئے کہ اللہ نے مجھے اسی کی تعلیم دی ہے کہ میں کسی کی غلطی کو غلطی کہوں، لوگوں سے نفرت کرنا مجھے نہیں سکھایا گیا۔ ہمیں ان سے اختلاف ہے کہ انہوں نے ایک غلط دعوے پر مبنی نبوت کو مان لیا ہے۔ اور اس ضمن میں جس استدلال کو میںنے ان کے سامنے پیش کیا ہے یہ واقع ہے کہ اس طریقے سے پہلے کبھی بھی پیش نہیں کیا گیا اور میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ تو میرا کام وہ ہے، یہ نہیں کہ میں کسی سے نفرت کروں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو ہمیں انسان سمجھ کر، اپنے بھائی سمجھ کر دین کی طرف بلانا چاہیے اور اگر ہم غلط رویے اختیار نہ کرتے تو ان کی آئندہ نسلیں دین کے دامن میں آ چکی ہوتیں‘۔ اس لئے جان لینا چاہیے کہ ایک اخبار نویس اور داعی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک داعی اور عالم کا کام لوگوں کی غلطی واضح کر کے ان کو دین کی طرف واپس بلانا ہوتا ہے اور اس کے لئے اس کو مثبت رویہ رکھنا پڑتا ہے۔

 مکرر عرض ہے کہ تنقید سے پہلے تنقیدی شعور کا یہ اصول جان لینا چاہیے کہ دوسروں کے خیالات جاننے، ان کی رائے کا احترام کرنے اور اس پر ہمدردانہ غور و فکر کرنے سے ہی رائے کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ تنقیدی شعور میں حقائق کی درست تفیہم، منطقی استنباط اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر دلائل دئے جاتے ہیں۔ نیز کسی سے اختلاف کرنے کے لئے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کی جاتی ہے نہ کہ ذاتی رائے پر۔ حقائق سے مراد وہ صداقتیں ہیں جسے حقیقی مشاہدے یا مستند شہادت کے ذریعے جانا گیا ہو یا جس کو تجرباتی یا منطقی سطح پر ثابت کیا جا سکے جبکہ ذاتی رائے ایک ایسا خیال ہوتا ہے جس کی بنیاد اندازے، نجی ترجیح اور قیاس پر ہو اور جسے منطقی سطح پر ثابت کرنا ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے کہ سعید انور نے ہندوستان کے خلاف 194 رنز بنائے جبکہ دوسرا شخص کہتا ہے کہ سعید انور نے ہندوستان کی ٹیم کو ناکون چنے چبوا دیے۔ پہلا بیان ایک حقیقت ہے جبکہ دوسرا بیان ایک ذاتی اور نجی ترجیحی رائے جس میں رائے دینے والا شخص ہندوستان سے اپنی بغض کا بھی اظہار کر رہا ہے۔ ایسے میں محترم خاکوانی صاحب کی اصطلاحات جسے خود کو دوسرے سے ممیز کرنا، رد عمل کا شکار ہونا، حساسیت، جوش، جوش ایمانی اور مومنانہ غیرت وغیرہ کو نجی ترجیحی رائے کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے؟ اور وہ ان سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر بحث نہیں کرتے ورنہ پھر ان تبصروں پر بھی بحث کرنی پڑ جائے (جیسے لبڑل یا جیسے آقا بدلے گا تو رائے بدلے گی ) جو ان کی تحریر پر دیے جاتے ہیں اور ان کے جواب میں محترم خاکوانی صاحب فیس بک کی مشہور مسکراہٹ سے جواب دیتے ہیں۔

ایک بار پھر مکرر عرض ہے کہ سیکولر ازم ایک سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ ریاستی سطح پر سیکو لرازم کے فکری مفروضات کے اجزائے ترکیبی انسان دوستی، تنوع ، عقل و خرد اور قابل تصدیق شواہد پر انحصار، افادی اور عملی نقطہ نگاہ اور انسانی انفرادیت کے تحفظ پر مشتمل ہیں۔ سیکولر ریاست میں تشکیل قانون تین مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ شہریوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور جرائم کی روک تھام۔ مزید یہ کہ سیکولز نقطہ نظر کسی مذہب یا عقیدے کا نہ حمایتی ہوتا ہے اور نہ ہی کسی مذہب یا عقیدے کا مخالف ہوتا ہے۔ جبکہ محترم غامدی صاحب ایک دینی عالم ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو سیکولر خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے مودبانہ گزارش ہے کہ ایک تو غامدی صاحب کو سیکولر سوچ سے نہ جوڑا جائے اور دوسرا سیکولر فکر کو مذہب کے مخالف کے طور پر پیش کرنے کی سعی لاحاصل سے باز رہا جائے۔ نیز ایک نہایت مودبانہ گزارش یہ بھی ہے کہ اصطلاحات کو اپنے مفہوم سے ہٹا کر ذاتی معنی کے چولے نہ پہنائیں جائیں۔ لیفٹ، رائٹ کی تفہیم عالمی ہے اور اس تقسیم کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے اس کا کسی مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی قابل عمل سیاسی بندوبست کے نام ہیں۔ سیکولر اور لبرل دو الگ الگ اصطلاحات ہیں جن کا مذہب مخالف ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اڑی ہوئی گرد میں لبرل، سیکولر، غامدی سکول آف تھاٹ اور لیفٹ ونگ جیسی الگ الگ اصطلاحات کو ملا کر خود کو اسلامسٹ کہنا دیانت کا منصب نہیں ہے۔ اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah

4 thoughts on “غامدی سکول آف تھاٹ اور سیکولر مغالطہ

  • 22-06-2016 at 2:01 am
    Permalink

    Excellent as usual ..However, I am afraid, it may prove to be another episode of casting pearls before the swine. They have closed their ears and eyes to any opinion and interpretation that does not agree with their own, and opened their mouths and put out their long tongues for hurling abuses and profanities.
    A great effort from your side though. Keep It up.

  • 22-06-2016 at 10:51 am
    Permalink

    سیکولر ازم ایک سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ ریاستی سطح پر سیکو لرازم کے فکری مفروضات کے اجزائے ترکیبی انسان دوستی، تنوع ، عقل و خرد اور قابل تصدیق شواہد پر انحصار، افادی اور عملی نقطہ نگاہ اور انسانی انفرادیت کے تحفظ پر مشتمل ہیں۔ سیکولر ریاست میں تشکیل قانون تین مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ شہریوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور جرائم کی روک تھام۔ مزید یہ کہ سیکولز نقطہ نظر کسی مذہب یا عقیدے کا نہ حمایتی ہوتا ہے اور نہ ہی کسی مذہب یا عقیدے کا مخالف ہوتا ہے۔

  • 22-06-2016 at 11:35 am
    Permalink

    سیکلیولرزم کسی بھی دین سے لاتعلقی کا نام ہے ۔کسی فرد کا یا ملکی قوانین کا۔ اگر فرد اپنے افعال میں دین کو خاطر میں نہیں لاتا تو وہ سیکیولر کہلایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ کبھی دین پر عمل کرتا ہہے اور کبھی نہیں کرتا تو وہ ابھی مکلمل سیکیولر نہیں بلکہ لبرلزم کے روڈ پر ہے جو سیکیولرزم کی طرف جاتا ہے۔لبرل ابھی اپنے دین کے خلاف نہیں ہوتا مگر اس میں دین سے بیزاری کے جراثیم پاۓ جاتے ہیں ۔جوں جوں وہ لبرلزم میں ترقی کرتا ہے تو وہ اپنے دین سے لاتعلق ہوتا جاتا ہے اور آخر میں اپنے ہی دین کا دشمن ہوجاتا ہے ۔تو یہ جو اپنے ہی دین سے دشمنی ہے یہ ایک مرحلہ وار طریقے سے ہوتی ہے۔اور جب انسان اپنے ہی دین کا دشمن ہوجاتا ہے تو وہ عام سیکیولر نہیں بلکہ ایک طرقی یافتہ سیکیولر ہوتا ہے جسے ہم سیکیولر فاشسٹ کا نام دیتے ہیں۔ یہی حال ملکی قوانین کا بھی ہوتا ہے۔اگر ملکی قوانین میں کبھی اپنے دین کو خاطر میں لایا جاتا ہے اور کبھی نہیں تو یہ لبرل قوانین ہیں اگر قوانین میں دین کو بالکل خاطر میں نہیں لایا جاتا تو یہ سیکیولر قوانین ہیں۔لبرل اور سیکولر قوانین انسان کے بناۓ ہوۓ ہوتے ہیں جبکہ اسلامی قوانین اللہ کی طرف سے بناۓ ہوۓ ہوتے ہیں۔

  • 22-06-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تقریباً چار سال پہلے جب میری کتاب پنجابی طالبان شائع ہوئی تو مکرم حاکوانی صاحب نے روزنامہ ایکسپریس میں ایک زبردست کالم لکھا جس میں اُنہوں نے دعوی کیا کہ پنجابی طالبان نامی کسی تنظیم کا دور دور کوئی وجود نہیں اور میں نے ایک خیالی بندوبست کے تحت کتاب لکھ ماری ہے۔ میں جو تقریباً دوسال سے اس موضوع پر کام کررہا تھا، خود بے یقینی کا شکار ہوگیا کہ ایک فاضل دوست نے پنجابی طالبان کے امکان کو ہی رد کردیا ہے، مجھے ایکبار پھر اپنی تحقیق کو دیکھنا چاہیے۔ وہ تو بھلا ہو قاری عصمت اللہ معاویہ کا جس نے ایک ہفتہ بعد باقاعدہ پریس ریلز جاری کردی کہ پنجابی طالبان نے اب تک کتنے پاکستانی ہلاک کیے ہیں اورمستقبل میں اس تنظیم کے کیا ارادے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے صحافی اور دانش ور ناگزیر استفہام کو رد کرکے ایک الوہی قسم کی قطعیت کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مستند ہونے سے متشکک ہونا زیادہ آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

Comments are closed.