مسو لینی کا یو۔ٹرن


اس تحریر میں اٹلی کے مشہور فاشسٹ ڈکٹیٹر مسولینی کے تاریخی یوٹرن کا ذکر ہے کہ اس سے ان کو کیا فائدہ اور نقصان ہوا۔ ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے کچھ دن قبل یوٹرن کی بات کرکے ہمیں بھی یاد دلا دی کہ ایک اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے جو صیح وقت پر یوٹرن لیتا ہے۔ مسولینی کے بارے میں تاریخ میں لکھا ہے۔ کہ وہ کسی بھی قیمت پر طاقت حاصل کر نا چاہتا تھا۔ ایک وقت میں وہ یورپ کا سب سے طاقت ور لیڈر تھا اور وہ روم کا جدید جو لیس سیزر بننے کا خواب دیکھتا تھا اور اسی کے انداز میں اپنے ہاتھ ہلاتا تھا۔

اس وقت کے بڑے حکمران ہٹلر، چرچل، روز ویلٹ اور شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ان سے متاثر تھے۔ علامہ اقبال 1931 ؁ء میں جب مسولینی سے ملے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے نام پر ایک نظم بھی لکھی۔ اٹلی میں مسو لینی کے چاہنے والے ان کے ایک اشارے پر مخا لفین کی جان لے لیتے اور پھر چوک میں اسے الٹا لٹکا دیتے تھے۔ پھر وقت نے ایسا کر وٹ بدلا کہ اسی چوک میں ہی اسے بھی الٹا لٹکادیا گیا۔

مسولینی جب اسکول میں تھا تو بچوں کو چاقو مار دیتا تھا اسکول کا بدمعاش بچہ تھا اسی وجہ سے اسے ہر اسکول سے نکال دیتے تھے۔ لیکن جب جوان ہواتو وہی ضدی لڑکا ایک پر کشش شخصیت کا مالک بن گیا اچھی گفتگواور اچھے جسمانی خدوخال کی وجہ سے وہ ہر جگہ محفل کا رونق بن جاتا لیکن وہ خود جس سے متاثرتھا وہ کارل مارکس کی شخصیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کام کی تلاش میں اٹلی سے سوئیز ر لینڈ گیا تو اس کے جیب میں پھو ٹی کو ڑی بھی نہیں تھی مگر کارل مارکس کی ایک تصور ضرور تھی۔

سوئیز ر لینڈ میں ایک ٹریڈ یونین میں نوکری سے اپنی سیاسی زندگی شروع کی اور 1909 ؁ میں اسے کچھ عر صے کے لئے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی اور اسی سال اپنے ہی والد کی سولہ سالہ محبوبہ کے عشق میں گرفتا ر ہو گیا اور اسی سے ہی شادی بھی کی۔ مسولینی اٹلی میں بائیں بازو کے حامل اخباروں کا جانا پہچانا لکھاری تھا۔ لیکن 1912 ؁ میں اس نے اپنا اخبار ”La Lotta Di Classi“ نکالا جس کا مطلب طبقاتی کش مکش ہے۔ ایک اور اخبا ر ”“ Awanti کا بھی ایڈیٹر بن گیا جس کا مطلب تر قی پسند ہوتا ہے۔ اس وقت وہ بڑا سو شلسٹ لیڈر بننے کی راہ پر گامزن تھا کہ جنگ عظیم اول چھڑ گئی۔ اور یہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن تھا۔

سو شلسٹ جنگ کے بڑے مخالف تھے اور تمام سو شلسٹوں نے جنگ کی مخالفت کی لیکن مسو لینی نے جنگ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ امیر طبقہ جنگ کا ساتھ دے رہا ہے کیونکہ وہی لوگ اسلحہ بیچ کر زیادہ سے زیادہ منافع کما رہے تھے۔ سوشلسٹ ساتھیوں نے مسو لینی کو یاد دلایا کہ ہم تو جنگ کے مخالفین میں سے ہیں تو مسو لینی نے انھیں کارل مارکس کا وہ جملہ یاد دلایا۔ ”Social revolution usually follows war“ یعنی جنگ کے بعد ہی تو انقلاب آتا ہے۔

لیکن سو شلسٹوں نے اس کی ایک نہ مانی اور اس کو پارٹی اور اخبارات کی ایڈیٹرشب سے بھی فارغ کر دیا۔ یہی وقت تھا کہ اسے بائیں بازو والوں سے نفرت ہونے لگی۔ اب شاید اسے ان کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی کیونکہ سرمایہ دار طبقے نے ان کی حمایت شروع کی تھی۔ اب مسولینی نے دو کام کیے ایک تو اپنی تقریر سے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کیا دوسرا خود ہتھیار بند ہو کر میدان جنگ میں پہنچ گیا۔ جنگ ختم ہوئی تو اتحادی اور اٹلی جنگ جیت چکے تھے۔ اس کی واپسی پر ایک فاتح جنگ کی طرح استقبال کیا گیا۔

لیکن اٹلی کو اتحادی طاقتوں سے شکایت تھی کہ جنگ سے اسے کم حصہ ملا ہے صرف آسٹریا کا چھوٹا سا علاقہ ملا تھا باقی سلطانت عثمانیہ کے تمام علاقے شام، عراق اور دیگر علاقے برطانیہ اور فرانس نے آپس میں تقسم کیے تھے۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والا مالی بحران ایک بڑا ما لی آفت بن چکا تھا۔ مسولینی نے اسی مالی بحران سے بھی فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو نظام سے بغاوت پر اکسایا۔ اس نے اپنی تقاریر میں کہا کہ اب اٹلی کو ایک مطلق العنان حکمران کی ضرورت ہے جو دنیا میں اٹلی کے وقار کو بلند کرے۔

موجودہ نظام نے اٹلی کو دنیا میں رسوا کر کے رکھ دیا ہے حالانکہ اٹلی جنگ کی وجہ سے جس حال میں پہنچی تھی اس میں مسو لینی کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ لیکن یوٹرن کا ماہر تھا۔ اس کو تو اطالیہ کا جولیس سیز ر بننا تھا۔ یہاں اس نے ایک اور یوٹرن لیا وہ یہ کہ اب اس نے اطالوی قوم پرست بننے کا دعویٰ کیا اور عوام تو ویسے بھی اسے چاہتے تھے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور ایک قوم پرست جماعت بنائی۔ جماعت کا نام مسولینی نے فاشسٹ پارٹی رکھا جس کا مطلب ہوتا ہے گٹھا، بنڈل یا گروپ۔

اس کی وجہ مسولینی ایک جنگجو گروہ بنانا چاہتا تھا جو انقلاب کے لیے راہ ہموار کر سکے۔ فاشسٹ پارٹی کے دو گروپ بنائے ایک سیاسی اور دوسری عسکری۔ مسولینی نے جماعت تو بنا لی لیکن اس میں ایک کمی تھی اور وہ یہ کہ اسے ایک عدد دشمن کی بھی ضرورت تھی کیونکہ قوم پرست جماعتوں کو اپنے تمام محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسولینی نے اپنا دشمن سوشلسٹوں کو بنایا اور مارکس کے نظریات کو سب بڑا خطرہ قرار دیا جو کبھی اس کے بے پناہ چاہنے والوں میں سے تھا یہ بھی اس کا اپنے نظریے سے یوٹرن تھا۔ فاشسٹوں نے 1920 ؁ء تک اٹلی کے تمام علاقے اپنے قبضے میں لیے تھے۔ مسولینی ملک کے سربراہ بادشاہ ایمانیول سوئم کو دباؤ میں لا کر وزیر اعظم بن گیا اور 1924 ٖ؁ء کو قانون میں تر میم لا کر مطلعق العنان حکمران بن گیا۔

اب مسولینی کی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن آیا۔ جنگ عظیم دوئم شروع ہو گئی تو ہٹلر کا ساتھ دیا۔ یوں اس کے سار ے یوٹرن کام نہ آئے جو اس کے دیکھے ہو ئے خواب کو حقیقت دے سکے۔ حکمران تو بن گیا یوٹرن لے لے کر لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دوسری جنگ عظیم میں شکست کھا کر سو شلسٹ گروہ کے ہاتھوں ہی اپنی زندگی گنوا دی۔ یوٹرن لینے سے پہلے تاریخ کو پڑھنے کی ضرورت ہے ورنہ انجام بہت برا ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نظام الدین، نلتر کی دیگر تحریریں
نظام الدین، نلتر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں