کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب ہے؟


\"edit\"پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے اور اس کی خارجہ پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مستحکم بنیادوں پر استوار ہے اور ہم عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے دوسرے ملکوں سے کامیاب تعلقات استوار کئے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے علاقائی تعاون کے چار منصوبوں کا ذکر کیا جن کے ذریعے پاکستان علاقائی مواصلت کو بہتر بنانے کےلئے کام کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور کی باتیں خود فریبی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ پاکستان کو اس وقت اپنے سب ہمسایہ ملکوں کے علاوہ امریکہ اور سعودی عرب جیسے دوست ملکوں سے بھی دوری کا سامنا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بھارت نے گزشتہ کچھ عرصہ میں جارحانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے دوسرے ملکوں سے اپنے تعلقات استوار کئے ہیں۔ پاکستان علاقائی تنازعات یا بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے اسی تندہی سے بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پالیسی تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس حوالے سے آج قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے کی جانے والی تنقید جائز ہے۔ لیکن اپوزیشن بھی تنقید سے ایک قدم آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات تجویز کرنے میں ناکام ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ اسے ان عالمی مراکز میں بھی پسپائی کا سامنا ہے جہاں اس کی نمائندگی اور رابطے اعلیٰ اور مستحکم سطح پر استوار ہونے چاہئیں۔ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارت کاروں کو ملک کے ایک سابق سفیر کے ہاتھوں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف مشیر برائے امور خارجہ اپنی حکمت عملی کی کامیابی کا اعلان کر رہے ہیں تو دوسری طرف خود ہی یہ اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ صرف ایک سابق سفیر حکومت پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ اگر اسے وزارت خارجہ کی ناکامی نہیں کہیں گے تو اسے کیا نام دیا جائے گا۔ کوئی بھی ملک دوسرے ملک سے رشتہ اور تعلق استوار کرتے ہوئے مشترکہ مقاصد اور مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس تعلق میں رخنہ اندازی کا موقع صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب کوئی ملک اور اس کی حکومت اپنے وعدوں پر پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو اور باہمی تعلقات میں شبہات کو دور کرنے کی بجائے، اسے جھوٹ پر مبنی الزام تراشی قرار دے کر نظر انداز کرنا شروع کر دے۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس کمزور اور ناقص حکمت عملی کی کلاسیکل مثال ہیں۔ پاکستان نے روز اول سے امریکہ کے حلیف کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں لیکن ہر دور میں اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے امریکہ کو ناراض بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود نہ تو امریکہ کی بجائے دنیا میں طاقت کے دیگر مراکز سے مراسم استوار کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے لئے محنت کی گئی ہے۔ حال ہی میں ایف 16 طیاروں کی خرید کے حوالے سے معاہدہ کی منسوخی پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کی نمایاں مثال ہے۔ شروع میں پاکستانی حکام اس بات پر یقین کرنے پر ہی تیار نہیں تھے کہ امریکہ یہ طیارے پاکستان کو فروخت کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔ حالانکہ بھارتی لابی مسلسل اس معاہدے کےخلاف کام کر رہی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ ہو ہی نہ سکے۔ تاہم صدر اوباما کی کوششں سے کانگریس 8 طیارے پاکستان کو فروخت کرنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔

ان طیاروں کی خرید کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ نے 470 ملین ڈالر اور پاکستان نے 230 ملین ڈالر ادا کرنے تھے۔ امریکہ نے یہ رقم پاکستان کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد میں سے ادا کرنی تھی۔ اس قسم کے معاہدوں کے ماہرین نے مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کو براہ راست ادائیگی کے ذریعے طیارے حاصل کر لینے چاہئیں تا کہ کانگریس بعد میں فوجی امداد کی فراہمی میں رخنہ ڈال کر اس فروخت میں رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ فوجی امداد سے طیاروں کی ادائیگی کا معاہدہ کر کے پاکستان نے دراصل اس امداد اور طیاروں کی خرید، دونوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان دونوں معاملات کو علیحدہ علیحدہ اپنے میرٹ پر طے ہونا چاہئے تھا۔ لیکن پاکستان کے نمائندوں نے ان اختلافی آرا کو سننے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ماہرین کی دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں۔ معاہدہ حتمی ہونے سے چند ہفتے پہلے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے طیاروں کی خریداری کےلئے ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کو بھی حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کر دیا گیا۔

اس فیصلہ کے بعد بھی پاکستان یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ اسے بہر صورت طیارے حاصل کر لینے چاہئیں تاکہ اس کی ائر فورس کے پاس چند جدید فائٹر جیٹ موجود ہوں۔ فوجی امداد کی ادائیگی کےلئے بعد میں کوششیں جاری رکھی جا سکتی تھیں۔ اس دوران سرتاج عزیز سمیت پاکستانی حکام کا خیال تھا کہ امریکی حکومت معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہے۔ اس لئے سینیٹ کو راضی کرنا اوباما حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے نہ تو سینیٹ کے ساتھ معاملہ کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنے طور پر وسائل کا انتظام کر کے خریداری کے حتمی معاہدے پر دستخط کئے۔ 24 مئی کو جب طیارے خریدنے کا یہ معاہدہ کرنے کی تاریخ گزر گئی تو یہ کہا جانے لگا کہ پاکستان طیارے کسی دوسرے ملک سے بھی حاصل کر سکتا ہے۔ اب ترکی یا اردن سے پرانے ایف 16 حاصل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ طیارے نہ تو جدید ایف 16 کے طرح موثر ہوں گے اور نہ ہی امریکی حکومت کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی حکومت انہیں پاکستان کو فروخت کرنے پر راضی ہو گی۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس اہم معاملہ میں ملنے والی ہزیمت کو اپنی پالیسی کی ناکامی سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے۔ سرتاج عزیز کی آج کی تقریر اور کامیاب خارجہ پالیسی کے دعوے اس بے بنیاد رویہ کا ثبوت ہیں۔

پاکستانی خارجہ پالیسی کی ایک ناکامی یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران وہ امریکہ کے بدلتے ہوئے تیور سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر تیار نہیں ہو سکا۔ امریکہ ایک طرف بھارت کی وسیع منڈیوں اور بڑی آبادی کی وجہ سے اس کی طرف رجوع کر رہا ہے تو دوسری طرف وہ چین کے مقابلے میں بھارت کو تجارتی اور عسکری قوت کے طور پر تیار کر رہا تھا۔ کشمیر پر تنازعہ اور دیگر باہمی مسائل کی وجہ سے پاکستان اپنے کم حجم اور محدود وسائل کے باوجود ہمیشہ بھارت کا مقابلہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ امریکہ کی پالیسی میں یہ تبدیلی یک بیک رونما نہیں ہوئی ہے، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے تشکیل دیا گیا ہے۔ بھارت نے بتدریج غیر جانبدار ملک ہونے کا چولا اتار کر امریکہ کا حلیف بننے کےلئے اقدامات شروع کر دئے تھے۔ اس دوران پاکستان افغان جنگ میں امریکہ کے لئے ضروری سہولتیں فراہم کر رہا تھا لیکن امریکہ، پاکستان کی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں پاؤں جمانے اور اس سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا موقع دے رہا تھا۔ لیکن پاکستان نے کسی مرحلے پر افغان جنگ میں امریکہ کی لاجسٹک مدد کو وسیع تر خارجہ و سلامتی پالیسی کے ساتھ منسلک کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

اس کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کو نظر انداز کرتا رہا اور اسے محض دہشت گردی کے خلاف اقدام کرنے پر اکساتا رہا جبکہ بھارت اس کی ناک کے نیچے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور تخریب کاری کا جال بنتا رہا۔ اب پاکستان جب بھارتی جاسوس پکڑنے اور ملک میں تخریب کاری کے بھارتی منصوبوں پر بات کرتا ہے تو امریکہ اسے خاطر میں نہیں لاتا۔ اس دوران پاکستان کو چند ارب ڈالر کی امداد دے کر علاقے میں اپنے عسکری عزائم کےلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب اسی امداد کو طعنہ کے طور پر پاکستان کو مسترد کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کی شیفتگی کا یہ عالم ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کےلئے باقاعدہ کوشش کر رہا ہے جبکہ اس گروپ میں شمولیت کی پاکستانی درخواست پر کوئی موقف اختیار کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ چین نے بحر ہند میں بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکہ کی طرف سے اسے چین کےخلاف اقتصادی اور عسکری قوت کے طور پر کھڑا کرنے کی کوششوں کے پیش نظر۔۔۔۔۔ ایک اصولی بنیاد پر بھارت کی این ایس جی میں رکنیت کی مخالفت کی ہے۔ اب سرتاج عزیز اسے اپنی کامیابی قرار دیں تو ان کی خوش فہمی ہے۔ اسی قسم کی خوش فہمیاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ناکام بنانے کا سبب بن رہی ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور بھارت ہے۔ وہ ہر اقدام بھارت کی ضد میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ این ایس جی میں شمولیت کیلئے بھی اس وقت درخواست دی گئی جب یہ اندازہ ہوا کہ بھارت تن تنہا اس اہم گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ضد اور منفی ردعمل کا عنصر صاف طور سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ این ایس جی میں شمولیت کے سوال پر بھارتی وزیر خارجہ اور سرتاج عزیز کے بیان دونوں ملکوں کے سفارتی رویہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت این ایس جی میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف نہیں ہے۔ سرتاج عزیز کا موقف ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے بھارت این ایس جی کا رکن نہیں بن سکا۔ پاکستان کو ردعمل کی سفارت سے نکل کر اپنی ضرورتوں اور صلاحیتوں کے میرٹ پر خارجہ پالیسی استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کو ایک ضدی اور نادان بچے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی۔

سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی مثال دیتے ہوئے چار علاقائی منصوبوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ اگرچہ پاک فوج اس راہداری کی کامیابی کےلئے ضامن بنی ہوئی ہے لیکن بھارت علی الاعلان اور امریکہ درپردہ اس منصوبے کے خلاف سرگرم ہیں۔ پاکستان اس راہداری کے حوالے سے درپیش سیاسی اور قانونی مشکلات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجوزہ طور پر دس سال میں تکمیل پانے والے 46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کے پہلے سال کے دوران چند سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہی ہو سکی ہے۔ اس منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے قومی یکجہتی ، مؤثر سفارت کاری اور ملک میں انتشار اور بدامنی کو ختم کرنے کی ضرورت ہو گی۔

اس حوالے سے کاسا 1000 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو دراصل وسطی ایشیا سے بجلی کی خریداری کا منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد کے لئے افغانستان میں امن کی بحالی شرط ہے۔ اسی طرح ٹاپی منصوبہ کے مطابق ترکمستان سے افغانستان اور پاکستان کے راستے بھارت تک گیس پائپ لائن بچھانے کا کام صرف اسی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے جب پاکستان افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔ حیرت انگیز طور پر اس حوالے سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس منصوبہ پر ایران نے اپنی حد تک کام مکمل کر لیا ہے لیکن نواز شریف حکومت نے گزشتہ تین برس میں اس اہم منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔ پہلے ایران پر عالمی پابندیوں کا بہانہ بنایا جاتا تھا اور اب درپردہ سعودی دباؤ کی وجہ سے حکومت اس منصوبہ کو تعطل کا شکار کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لئے نہایت اہم ہونے کے علاوہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان اس نزاکت کو سمجھنے اور آنکھیں کھولنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ اس دوران اگر بھارت سرگرمی دکھاتے ہوئے ایران کے ساتھ چابہار منصوبے اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے اقدامات کا معاہدہ کرتا ہے تو یک بیک پاکستان کو یوں لگنے لگتا ہے گویا یہ تین ملک مل کر گوادر منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

اس پس منظر میں خارجہ امور پر حکومت کے اعلیٰ ترین نمائندے کا یہ بیان قابل قبول نہیں کہ پاکستان ایک کامیاب خارجہ پالیسی چلا رہا ہے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 671 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali