ہمارانصاب، ہمارا المیہ


\"1-yasir-pirzada\"”بزرگوں کی عزت کرنی چاہیے!“اپنے بچپن میں یہ جملہ متعدد بار سکول کی کتابو ں میں پڑھا ، آج بھی اس پر عمل کرتا ہوں بشرطیکہ بزرگ ڈاکٹر صفدر محمود ہوں جو نہ صرف میرے والد کی عمر کے ہیں بلکہ ان کے پرانے دوستوں میں شامل ہیں ، اکثر ڈاکٹر صاحب سے فون پر بات ہوتی ہے اور وہ کمال شفقت اور محبت سے پیش آتے ہیں اور یہ ان کی اعلی ظرفی ہے کیونکہ آپ روحانیت کے قائل ہیں اور کالم بھی اسی قلندرانہ شان سے لکھتے ہیں ، میں چونکہ گناہگار انسان ہوں اس لئے روحانیت کے تجربات سے اب تک محروم ہوں ،شائد میں ان کڑی شرائط پر پورا نہیں اترتااورپھر ہم جیسے دنیا داروں کی قسمت میں کہاں وہ سر مستی عشق!پچھلے دنوں میراایک کالم ”ہمارا دو ٹوک نصاب ‘ ‘ غالباً ڈاکٹر صاحب کو پسند نہیں آ یا مگر معاملہ چونکہ بھتیجے کا تھا اس لئے ڈاکٹر صاحب نے براہ راست تبصرہ کرنے کی بجائے اپنے ایک قاری کا خط دو اقساط میں چھاپ دیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ میں نے اپنے کالم میں جن قاعدوں کی مثال دی تھی ان کا کوئی وجود نہیں اور میں نے ”موجودہ نصاب پر بلا تحقیق ایک مقدمہ باندھا ہے اور پھر خود ہی نتائج اخذ کر لئے ہیں ۔“اس کے بعد انہوں نے ہماری نصابی کتب سے چند مثالیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان میں مذہبی منافرت نہیں بلکہ ”رواداری اور دوسرے مذاہب کے احترام کے حوالے سے یہ ایک مثالی نصابی خاکہ ہے ۔ “

انگریزی میں کہتے ہیں First things firtsسو پہلے تو میں اس تحقیق کا حوالہ دے دوں جس میں ان قاعدوں کا ذکر کیا گیا تھا ، مضمون کا نام ہے ”Education, Inequalities, and Freedom“ اور یہ تحقیق ہے شاہد صدیقی صاحب کی جو آج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ہیں ، اس مضمون میں مذکورہ قاعدوں کے ضمن میں یہ حوالے دئیے گئے ہیں :

1۔ Raza Ali Abidi (2205:86), Urdu ka Hal

2۔ Mamdani (2004:138)

3۔ Hoodbhoy, cited in Mamdai (2004:137)

سو جو مثالیں میں نے کالم میں دیں وہ بلا تحقیق ہر گز نہیں تھیں ، حوالے میں نے پیش کر دئیے ہیں ۔ قطع نظر اس بات کے ، میرے کالم کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ جو نصا ب ہمیں اسّی کی دہائی میں پڑھایا گیا جب افغان جنگ کے لئے ہمیں ”ایندھن ‘ ‘ درکار تھا اس نصاب کے نتیجے میں انسانی سروں کی فصل ہم نے اس ملک میں کاٹی ، اس تلخ حقیقت سے اگر کوئی انکار کرنا چاہے تو اس کی خوشی مگر بد قسمتی سے سچ یہی ہے ۔ میں خود ان لوگوں میں سے ہوں جن کا بچپن اسّی کی دہائی میں سکول میں گذرا، یہ ایک عجیب و غریب دور تھا ، جنرل ضیا کا مارشل لا عروج پر تھا ، افغان جنگ جاری تھی ، سکولوں میں بچوں کے درمیان یہ بحث ہوتی تھی کہ اگر بھارت نے حملہ کر دیا تو پاکستان چین کی مدد سے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا اور اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ ہمارا یار نمٹ لے گا ،غیر مسلموں اور خاص طور سے ہندوو ¿ں سے نفرت نصاب کا حصہ تھی۔ ہماری نسل جو یہ نصاب پڑھ کر جوان ہوئی آ ج ان خیالات کی منہ بولتی تصویر ہے ،فرق صرف یہ ہے کہ امریکہ کا جو یار ہے وہ اب غدار ہے ، پہلے وہ مجاہد تھا !

ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ ”2007 کے نصابی خاکے کی روشنی میں آ ج بھی ٹیکسٹ بک بورڈ نصابی کتابیں تیار کر رہے ہیں۔“جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مذہبی رواداری کی جتنی مثالیں اپنے کالم میں دیں ان میں سے ایک بھی اسّی یا نوّے کی دہائی کے نصاب سے نہیں (جن میں سے کچھ کتابوں کے مولف خود ڈاکٹر صاحب تھے)، تمام مثالیں ان درسی کتب کی ہیں جو آج کل پڑھائی جا رہی ہیں اور ان کے پڑھانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسّی اور نوّے کا نصاب پڑھ رکھا ہے ۔میرا تو سوال ہی اس دور کے نصاب کے متعلق تھا جسے پڑھ کر پوری ایک نسل برباد ہوئی ، لیکن چلئے موجودہ نصاب کی بات بھی کر لیتے ہیں جس کے بار ے میں ان کے محقق کا فرمانا ہے کہ ”یہ ایک مثالی نصابی خاکہ ہے“ ۔ ممتاز ماہر تعلیم اے ایچ نئیر نے اس 2006کے نصاب کے تحت بننے والی درسی کتب کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ”A Missed Opportunity“ کے نام سے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی جس میں تاریخ کو مسخ کرنے اور مذہبی تعصب کے حوالے سے بے شمار مثالیں پیش کیں جو موجودہ نصاب کا حصہ ہیں۔ مثلاً پاکستان کے آئین کی شق 22(1) کہتی ہے کہ ”کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ، اگر ایسی تعلیم ، تقریب یا عبادت کا تعلق اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔“اے ایچ نئیر نے بیسیوں مثالیں ایسی دیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شق کی خلاف ورزی موجود درسی کتب میں موجود ہے کیونکہ غیر مسلم وہ پڑھنے پر مجبور ہیں جو ان کے مذہب کا حصہ نہیں اور ہم اسے رواداری کا نام دے کر خوش ہیں ۔ ایک اور ظلم جو اس نصاب میں کیا گیا ہے وہ بلوچستان کی معاشرتی علوم کی کتاب میں قائد اعظم کی تقریر کا تیا پانچہ ہے ، کتاب میں قائد کی تقریر کا جو ترجمہ شامل ہے اس میں قائد کے ویژن کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

موجودہ درسی کتب میں بے شمار جگہوں پر تاریخی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے جس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں مگر فی الحال ہم مذہبی منافرت کی مثالیں دیکھتے ہیں جن کی تعداد درسی کتب میں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سب کے حوالے دینے کے لئے ڈیڑھ درجن کالم لکھنے پڑیں گے ،ایک مثال سے کام چلاتے ہیں، یہ اقتباس خیبر پختون خواہ کی اسلامیات کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے جس پر لکھا ہے :”اسلامیات برائے ڈگری کلاسز، منظور شدہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، اسلام آباد“۔ ہندو مت کے بارے میں درج ہے :”ہندو معاشرہ جنسی بے راہ روی کا شکار تھامندروں میں عورتیں پنڈتوں اور پجاریوں کی ہوس کا نشانہ بنتیں ۔ نیوگ کی رسم باعث فخر سمجھی جاتی ۔۔۔۔۔! ‘ ‘ اس سے آگے لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ۔ اسی طرح انٹر میڈیٹ کی ”تاریخ پاکستان “ کی کتاب جس کے سرورق پر لکھا ہے ”بمطابق جدید نصاب، وفاقی وزارت تعلیم، حکومت پاکستان“ میں غیر مسلموں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ نا قابل اشاعت ہے ۔میں نے یہ صفحات اپنے فیس بک پیج (facebook.com/yasir.pirzada1) پر اپ لوڈ کر دئیے ہیں ، وہاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔ کئی محققین نے موجودہ درسی کتب میں شامل مذہبی منافرت کے مواد کو اکٹھا کیا ہے جو ”رواداری ‘ ‘ کی ان مثالوں سے کئی گنا زیادہ ہے جو ڈاکٹر صاحب نے اپنے کالم میں دیں۔ دراصل ہمیں یہ کہنے کی عیاشی حاصل ہے کہ ہمارے نصاب میں اقلیتوں کے حقوق کا خیال کیا گیا ہے او ر اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے ان کی دل آزاری ہو، ہم یہ بات بھی خود طے کرتے ہیں اور فیصلہ بھی خود سناتے ہیں مگر کسی غیر مسلم سے پوچھناگوارا نہیں کرتے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے ۔ اگر ہم کسی ملک میں اقلیت میں ہوں اور وہاں ہمارے بچوں کو ان کے مذہب کی بجائے کسی دوسرے مذہب کی تعلیمات سکھائی جائیں تو کیا ہم اسے مذہبی رواداری کہہ کر مطمئن ہو جائیں گے ؟جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 123 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “ہمارانصاب، ہمارا المیہ

  • 22-06-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    بہت عمدہ
    اسی کی دہائی کے جہادی قاعدوں والی بات پر محترم خاکوانی صاحب بھی بہت جز بز ہوئے تھے

Comments are closed.