دھند اور دھرنوں کے درمیان سفر


تو دن تھا جمعہ کا، بس سروس بھی بند تھی۔ اللہ کا نام لے کر گاڑی آگے بڑھائی، خیر سے دس کلومیٹر لاہور کی جانب باقی تھے کہ بچّوں کا ایک ریلا آیا، ہاتھ میں درختوں سے توڑی ہوئی شاخیں تھیں۔ جتنی گاڑیاں تھیں ان کے اوپر ڈنڈے رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں ایک بھی تو مولوی نہیں تھا۔ بہت کہا ہمیں ضروری جانا ہے مگر جواب تھا ’’جا کے تو دکھائیں۔ دیکھیں اس جلی ہوئی گاڑی کی طرح آپ سب کا انجام کر دیں گے۔‘‘

مجبوراً ترلے کسے کہ یہ تو بتائو جائیں کہاں سے؟ مہربانی ان کی فوراً کہا کہ یہ نیچے کو رستہ جا رہا ہے، شیخوپورہ سے ہوتے ہوئے چلے جایئے۔ ہم نے بے بسی میں دس منٹ اس انتظار میں گزارے شاید ہائی ویز پولیس آ جائے۔ ان کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ نامعلوم کس کس رستے سے دو گھنٹے بعد لاہور نہر پر پہنچے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ سارے بچّے ہمیں ڈرا کر بہت خوش تھے، ہنس رہے تھے، ڈنڈے لیے قہقہے لگا رہے تھے، بس ایک مولوی بچّہ تھا جو سب کو گائیڈ کر رہا تھا۔ اس کی ابھی داڑھی بھی پوری طرح نہیں آئی تھی۔

معلوم نہیں یہ لاقانونیت تھی کہ بے لگام آزادی کہ انارکی۔ سارے موبائل بند تھے، لاہور نہر سے واہگہ تک ٹریفک بالکل ٹھیک تھا۔ واہگہ سرحد پہ جب سے خودکش دھماکہ ہوا اس کو بھی چار برس ہو گئے،لوگوں کو ڈیڑھ کلومیٹر دور اتار دیتے ہیں پھر ایک بچّوں والی ٹرین پر بٹھا کر پاکستان امیگریشن تک لے جاتے ہیں۔ وہاں پھر اندر پون کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

انڈیا والوں نے تو بس کا اہتمام کیا ہوا ہے مگر پاکستان میں بقول منّو بھائی تڑا پڑ تڑا پڑ جائو۔ میز پر بیٹھ کر اپنی عمر رسیدگی کا احساس نہیں ہوتا مگر یہ راستہ عبور کرتے ہوئے قدم روک کر سانس لینا پڑتا ہے مگر ادھر اور سرحد کی دوسری طرف بھی لکھ کر لگایا گیا ہے کہ قلی کو ڈیڑھ سو روپے دیں مگر وہ کہتے ہیں ہمیں ٹھیکیدار کو بھی دینا ہوتا ہے اس لیے دونوں طرف 500روپے مانگے جاتے ہیں۔ دونوں طرف اتنے بڈھے قلی ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھی ترس آتا ہے۔ وہی پرانا قصّہ، بچّے الگ ہو گئے ہیں۔ ہم دو میاں بیوی ہیں، کمانا پڑتا ہے۔

یوں تو لاہور میں بھی اسموگ تھی، امرتسر میں ذرا زیادہ اور دہلی میں تو حد ہو گئی تھی، واقعی گلے اور آنکھوں میں لگ رہی تھی۔ رش اتنا دیوالی کا تھا کہ ہمیں اسٹیشن سے گھر تک پہنچنے میں پندرہ منٹ کا راستہ، ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔امرتسر اور دہلی جانے کا سبب کیا تھا؟

امرتسر میں بھائی امرپال کے یہاں پوتا ہوا تھا، اس کی تقریب تھی اور دلّی میں رنجیت کے نئے گھر کی رسم افتتاح کرنا تھی۔ رنجیت اور حنا دونوں میرے بچّوں کی طرح ہیں۔ بہت چائو سے میرے آنے پہ اور پھر دیوالی کے باعث گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ نہ امرتسر میں اور نہ دہلی میں گھر سے نکلنے کی فرصت ہی ملی۔

دونوں گھروں میں عزیز دوست آتے رہے۔ امرتسر میں پریتی اور دہلی میں حنا چائے بناتی رہی۔ حنا کے بارے میں آپ سن کر خوش ہوں گے کہ وہ ایسی سائنسدان ہے جو ٹی بی کے مرض پر نئے سرے سے تحقیق کر رہی ہے۔ سبب یہ ہے کہ کہا گیا ہے کہ چھ ماہ میں مسلسل باقاعدگی سے دوائی کھائو تو یہ مرض ختم ہو جاتا ہے۔

تجربہ یہ ہے کہ لوگ علاج میں باقاعدگی نہیں رکھتے۔ اب کوئی ایسی دوائی یا انجکشن دریافت کیے جائیں کہ اس مرض کے جلد خاتمے کا امکان ہو سکے۔ حنا کے اس منصوبے کو غیر ممالک میں بھی سراہا گیا ہے اور اسے فنڈنگ بھی مل رہی ہے۔ صبح سے رات تک کام کرتے گھر لوٹتی ہے تو شوہر رنجیت، اس کو تو اردو سے عشق ہے۔ اپنا تکنیکی کام چھوڑ کر دن، رات اردو کے مشاعرے، سنگیت اور قوالی کے پروگرام کے انتظامات کرنے میں مصروف تھا۔

اس نے میری نظمیں مشاعرے میں سنانے کیلئے ریکارڈ کر لیں۔ جب دوست الہ آباد کا نام بدلنے پہ افسوس کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ امرود تو الہ آبادی ہی کہلائیں گے اور پھر اکبر الہ آبادی کا نام بھی تو نہیں بدل سکتے۔ میں نے کہا ’’ہمارے ملک میں مجاہد بھی تو اب تک بریلوی ہے۔‘‘ ہم نے لاہور میں ڈیوس روڈ کا نام پتہ نہیں کیا، لمبا سا رکھ دیا تھا۔ لوگ اب تک اسے ڈیوس روڈ ہی کہتے ہیں۔ کرشن نگر کا نام اسلام پورہ رکھا گیا مگر اب تک ویلی کرشن نگر ہے۔

ہمارے ہاں پورا ملک ڈر کے مارے بند تھا۔ ادھر رام مندر بنانے اور اسی سال بنانے کی صدائوں سے ہر ٹی وی چینل بھرا ہوا تھا۔ ادھر اکالیوں کو پھر ابال اٹھا تھا، فتنہ پردازی دونوں ملکوں میں خوب سڑکیں روکتی ہے۔ ایک بات اور جو دونوں ملکوں میں کامن ہے۔ 71سال ہو گئے مگر دونوں کے ریلوے اسٹیشنوں پر وہی لوہے کی سیڑھیاں اوپر چڑھنے اور نیچے اترنے کیلئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایسکیو لیٹر نہیں لگائے۔

انڈیا میں تو ریلوے کی زمین شاید بیچ دی گئی ہے کہ اکثر جگہوں پر کپڑے سوکھتے ہوئے اتنے قریب تھے کہ اتارے جا سکتے تھے۔ الہ آباد کے امرود اور کشمیر کے سیبوں سے بازار بھرے ہوئے تھے مگر یہ سب سامان ٹھیلوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بے چارے ٹھیلوں کی شامت آئی ہوئی ہے بلکہ سائیکل پہ پھل بیچنے والوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔

صفائی اور تجاوزات کے نام پر غریبوں کی روزی پر لات ماری جا رہی ہے۔ ایک طرف انہیں نوکریوں اور گھروں کے خواب دکھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی روزی چھینی جا رہی ہے۔ غریبوں کو بھی گھروں کیلئے کہہ دیا گیا ہے کہ 20فی صد آپ خرچ کریں گے۔ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں