برقی لہروں کا انمول تعدد


\"muhammad-adil2\"

ایک وقت تھا جب دنیا میں مصر کے بازاروں کی دھوم تھی۔ بازارِ مصر میں کیا تھا جو نیلام نہ ہوتا ہو۔ کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر عام استعمال کی گھریلو اشیا سے ہوتے ہوتے طرح طرح کے باربرداری میں استعمال ہونے والے جانوروں یعنی گدھوں، گھوڑوں اونٹوں تک کو نیلام کیا جاتا۔ بکنے کا مال چبوتروں پہ پیش کیا جاتا، بولیاں لگتیں، نیلامی کرنے والے اپنے مال کی خوبیاں بیان کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑتے۔ بولیاں بڑھانے کے دوران خریداروں کو غیرت بھی دلائی جاتی کہ کیسے قدردان ہو جو اس قدر قیمتی مال کی بس اتنی بولی لگا رہے ہو۔ ان بازاروں میں ایک قیمتی چیز خوبصورت عورت بھی ہوتی ، اور ان عورتوں کو لونڈی بنانے کے لیے لوگ ایک سے بڑھ کر ایک قیمت لگاتے۔ غلام بھی انہی بازاروں میں بِکتے۔اور غلام کیا بکنے تھے، ان بازاروں میں تو حضرت یوسفؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر تک کا سودا کر دیا گیا۔ الغرض انسان نما عورتوں اور غلاموں سے لے کر جانوروں تک اور دوسری ہر وہ موجود چیز جو کسی کام آسکتی ہے ان بازاروں میں نیلام ہوتی تھی۔

پھر نیا زمانہ آیا، ایک تو نیلامی میں بکنے والی اجناس تبدل کا شکار ہوئیں دوسرے نیلامی کے انداز بھی بدلے گئے۔ جائیدادوں، بنگلوں پلاٹوں کی نیلامی ہونے لگی۔ جانوروں اور انسانوں کے ساتھ ساتھ موٹرگاڑیوں کی نیلامیاں بھی ہونے لگیں۔ گھریلو استعمال شدہ فرنیچر بھی نیلام ہونے لگا۔ عظیم فنکاروں، کھلاڑیوں اور دوسرے مشہور لوگوں کی وفات کے بعد یا ان کی حیات میں ہی ان کے استعمال کی چیزیں نیلام ہونے لگیں۔ جیسے کہ پاکستان میں ’قرض اتارو ۔ ملک سنوارو‘ کےسلسلے میں جاوید میاں داد کا نیلام ہونے والا بَلا تو اکثر لوگوں کو یاد ہی ہوگا۔ نیلام ہونے والی ان نئی اجناس کی قیمتیں بھی کافی ذیادہ ہوتی ہیں۔

نیلامی کی دوڑ میں شامل ایک نئی چیز ’شعاعوں کا تعددی طیف‘ یعنی ’فریکوئنسی سپیکٹرم‘ ہے۔ ایک خاص سائنسی طریقہ کار سے ہوا میں موجود الیکٹرو میگنیٹک ویوز کی درجہ بندی کردی جاتی ہے اور اس میں اس قدر مشکل سائنسی تراکیب استعمال کی جاتی ہیں کہ عام بندہ درد سے کلبلا اٹھتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ، ’تسی کہندے ہو، تے فیر ٹھیک ہی ہووے گا۔‘ ان مختلف درجوں کو بینڈز کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 88 میگا ہرٹز سے 108 میگا ہرٹز کی سپیڈ سے بہنے والے الیکٹرو میگنیٹک سگلنز کو ایف ایم کہا جاتا ہے۔ اکثر ایف ایم سٹیشنز کے ناموں پہ غور کریں تو کسی نام میں آپ کو ایف ایم 88 سے کم اور ایف ایم 108 سے ذیادہ سننے کو نہیں ملے گا۔

فضاؤں میں بل کھاتی ، لہراتی ان الیکٹرو میگنیٹک لہروں (آپ اسے عام سادہ ہوا ہی سمجھیں) پہ آپ جس شدت یا رفتار سے سگنلز نشر چاہتے ہیں اس کے لیے اتنی ہی آپ کو قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ مثال کے طور پہ کہ جیسے آپ کسی پر پابندی لگا دیں کہ اگر وہ اتنی بلند اواز میں بات کرے جو 15 فٹ نصف قطر کے دائرے کے اندر سنائی دی تو 50 روپے ادا کرنا ہوں گے اور 30 فٹ قطر کے دائرے تک آواز پھیلی تو 100 روپے دینے ہوں گے۔ یقین جانیئے کہ اس کے بعد ہر انسان اپنی ’حیثیت‘ کے مطابق ہی بات کرے گا۔ بحرحال یہ 15 اور 30 فٹ کی حدود بھی ایک طرح سے درجات یا بینڈز ہی ہیں۔

ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلقہ کاروباری کمپنیاں اس سپیکٹرم کی اصل اور بڑی خریدار ہوتی ہیں اور مالکِ کائنات کی جانب سے زمین کی چاروں دشاؤں میں پھیلی ہوا اور اس میں موجود مفت کی الیکٹرو میگنیٹک لہروں کے دوش کو بیچنےکے حقوق حکومتیں اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں۔ پچھلی دو تین دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں نیلام ہونے والے ان فریکوئنسی بینڈز کی قیمتوں نے سابقہ تمام نیلامیوں کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور دوسری مواصلاتی ضروریات کو عام صارف تک پہنچانے میں ہر کمپنی دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتی ہے۔ لیکن اس دوڑ میں شامل ہونے کے لیے پہلے ان کمپنیوں کو یہ ان دیکھی ہوا خریدنی پڑتی ہے۔

ماضی قریب میں حکومتِ پاکستان نے اس نیلامی میں تقریبآ 1۔1 بلین ڈالر کمائے۔ یہ قیمت بھارت میں 13 بلین ڈالرزجبکہ برطانیہ میں 38 بلین یورو تک جاپہنچی۔ یاد رہے کہ ہوا میں موجود ہمارے ڈیٹا کی ان سواریوں کی یہ قیمت ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ 5 سے دس سال یا پھر 15 سے بیس سال تک کے لیے ہے۔ یعنی یہ ہوا ان کمپنیوں نے حکومت سے مہنگے داموں لیز پہ لے رکھی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہوا کی ان مہنگی ترین درجہ بندیوں کے بدولت ہی آج کی دنیا گلوبل ویلج بن پائی ہے۔ سالوں کے فاصلے ان ہی تیز رفتار سگنلز کی بدولت سیکنڈوں میں طے کیے جانے لگے ہیں۔ ٹیکسٹ، نمبرز، آڈیو اور وڈیو سب کچھ قابلِ ترسیل ہوچکا ہے۔

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ بے شک ان نعمتوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ انہیں کھوجا جاسکتا ہے، انہیں بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ کون جانے آنے والے وقتوں میں حالیہ دریافت شدہ ثقلی شعاؤں کو انسان کِس کِس کام میں لے آئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔