کچھ “طے شدہ امور” کے باب میں


چند ہزار سال پہلے کی روایت ہے کہ مدائن کی بستی میں یہ ایک “طے شدہ امر” تھا کہ کائنات کی تکوین و انتظام، بشمول لوگوں کے افعال و امور پر چند بتوں کا اختیار ہے جو قضا و قدر کے فیصلوں پر قادر ہے. ایسے میں ایک برگزیدہ بندہ سوال اٹھاتا ہے کہ یہ بت تو اپنے منہ پر بیٹھی مکھی تک اڑانے سے قاصر ہیں، تو یہ میرے خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ پھر وہ کبھی سورج، کبھی چاند، کبھی ستارے پر اپنے رب کا گمان کرتا ہے مگر ان سب کی قدرت پر سوال اٹھاتا ہوا شعور حق تک پہنچ جاتا ہے. ہم آج اس بندہ خدا رسیدہ کو ابو الانبیا، ابراہیم (ع) کے نام سے یاد کرتے ہیں. کسی دور میں، سرزمین مصر میں بنی اسرائیل کا غلامی اور نکبت میں زندگی گزارنا ایک “طے شدہ امر” تھا، کہ ایک مرد برگزیدہ موسی (ع) اس فرعونی بند وبست پر سوال اٹھاتا ہے، ایک جدوجہد شروع کرتا ہے اور بالاخر نظام کہنہ زمین بوس ہو جاتا ہے. کوئی دو ہزار سے چند سال اوپر گزرے، بیت المقدس میں ایک برگزیدہ بندہ، معبد میں مذہب فروشوں کے زیر سرپرستی جاری سود کے کاروبار کے “طے شدہ” رواج پر سوال اٹھاتا ہے اور ایسے سوالوں کی پاداش میں اس کے اپنے ہم قوم اسے زیب صلیب کرنے کا فتوی دیتے ہیں. آج اس سوال اٹھانے والے عیسی (ع) کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا ہے. کوئی ڈیڑھ ہزاریہ پہلے جزیرہ نماے عرب میں کچھ “طے شدہ امور” کی تصویر مولانا الطاف حسین حالی اپنے مشہور مسدس میں یوں کھینچتے ہیں:

قبیلے قبیلے کا بُت اِک جدا تھا

کسی کا ہُبَل تھا، کسی کا صفا تھا

یہ عزّا پہ، وہ نائلہ پر فدا تھا

اسی طرح گھر گھر نیا اِک خدا تھا

نہاں ابرِ ظلمت میں تھا مہرِ انور

اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر

ایسی گھٹا ٹوپ تاریکی کو روز روشن سمجھنے، اور اس پر ناز و مباہات کرنے کے چلن پر سوال اٹھانے والے کو سید الانبیا، خاتم النبیین (ص) کہلاے جانے سے پہلے کیا کیا ایذا، اپنے ہی قرابت داروں کے ہاتھوں نہ اٹھانی پڑی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ اٹھاے جانے والے سوال بر حق اور مبنی بر دلیل و حقیقت تھے جن کی ضو کے سامنے ظلمت شب سیماب پا ہونے پر مجبور ہوئی. زمانی حساب سے ذرا قریب آ جائیں تو “سکوت زمین و گردش آفتاب”، “غلامی”، ” عورت کی کہتری”، “پشتو زبان دوزخ”، “ایتھر” اس قسم کے اپنے اپنے دور میں “طے شدہ امور” کی ایک نا مختتم فہرست ہے جن پر تقدس کا خانہ ساز ملمع چڑھا کر ان سے پیوستہ مفادات رکھنے والے طبقات انہیں ناقابل تنسیخ، ازلی ابدی مسلمات بنا کر پیش کرتے رہے. مگر ان پر چڑھاے گئے تقدس کے سنگین نظر آنے والے پردے علم و منطق کے ایک آدھ سوال پر ہی دیوار زجاج ثابت ہوۓ اور خود رائی کے اونچے مگر بھربھرے پہاڑ پر براجمان بتوں کے نیچے سے شخصی اور گروہی تعصبات و مفادات کی علمی اعتبار سے مریل چوہیا ہی برامد ہوئی.

اسی بارے میں: ۔  اسامہ بن لادن کا ڈرائیور، عافیہ صدیقی کا بیٹا اور اللہ نذر کے بال بچے

 کسی سیانے کا قول ہے کہ، “سوال کبھی احمقانہ ہو ہی نہیں سکتا، مگر اس کا جواب یا رد عمل ضرور احمقانہ ہو سکتا ہے”. سو اوپر دی گئی مشتے نمونہ از خروارے مثالوں پر نظر ڈالیے. ان سب سوالوں کے اٹھانے والوں پر ان کے دور میں دو قسم کے پتھر ضرور داغے گئے. ایک “الحاد” اور دوسرے “غداری”..لیکن آج اگر ان دشنام طراز سنگ زناں کا تاریخ میں کوئی ذکر ملتا بھی ہے، تو بہ رنگ ذم، اور ان کا نشانہ بننے والے فتح مندوں کے تذکروں کے ضمیمے کے طور پر. ہر دور کے شپرکان یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر سوال کے اظہار کی راہ مسدود کی جاے گی تب بھی سوال تو نہیں مرے گا مگر بار دگر اس کے اظہار کا پیرایہ پہلے سے زیادہ شدید ہوگا .. بقول غالب، “گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی.. یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا؟”. الزام تراشی، فتوے بازی اور زبان بندی ہمیشہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مقابل کے پاس سوال کا شافی جواب نہیں ہے. اگرچہ ضروری نہیں کہ جواب مفقود ہو، مگر یہ ضرور ہے کہ یا تو سوال مقابل کی علمی سطح سے بالاتر ہے، اور یا پھر مقابل کے مفادات اسی میں مضمر ہیں کہ شافی جواب منظر عام پر نہ آے .

اس قدرے طویل تمہید کا سبب یہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ دنوں ذرایع ابلاغ پر چند ایسے معاملات پر سوال اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جن کے حوالے سے کچھ مخصوص حلقوں میں حساسیت پائی جاتی ہے. بدیہی طور پر یہ سب کے سب سوالات سیاسی، آئینی، تاریخی اور سماجی معاملات سے متعلق ہیں جن میں اپنی تعریف کی رو سے حرکت پزیری چنانچہ تبدیلی کا عمل سدا جاری رہتا ہے. بے چارہ “جمہوری تماشا” بلا وجہ بدنام ہے کہ “جلال پادشاہی” کے ادوار میں بھی مختلف شخصی، گروہی یا اجتماعی مصالح کے زیر اثر سیاسی و سماجی معاملات پر نظر ثانی کا عمل جاری رہا ہے، اور جہاں اصلاح کا عمل رکا ہے، وہاں تاریخی وجوب نے اس نظام کی کہنگی اور اس سے منتج شکستگی کو حرف غلط کے مانند مٹا دیا ہے. ہمارے ہاں ایک چلن رہا ہے کہ شخصی یا گروہی مفادات کو بسا اوقات مذہبی اصطلاحات کے نظر فریب لفافے میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے. (اس خادم جیسے کہنہ سال احباب کو سن چوراسی کے ریفرنڈم میں پوچھا جانے والا سوال یاد ہی ہوگا). اور پھر یہ عمل اس قدر تواتر سے دہرایا جاتا ہے کہ اس خادم جیسے، محکمات و متشابہات کا فرق بخوبی نہ جاننے اور تاریخ، فقہ اور اصول الدین پر دسترس نہ رکھنے والے سہل انگار رفتہ رفتہ انہیں دین کا جزو لا ینفک سمجھ بیٹھتے ہیں. اور جب کوئی ان امور پر سوال اٹھا دے تو عوام کو اشتعال دلانے کے لئے مفاد پرست حلقے دین کو لاحق موہوم خطرات کی دہائی دینے لگتے ہیں. درست طریقہ، جو قرون اولی کے اسلام کی درخشندہ نظائر سے مملو ہے، اور جدید جمہوری تمدن کا سنگ بنیاد ہے، سوال کو تحمل سے سننے اور سائل کو نقلی اور عقلی حوالوں سے مطمئن کرنے کا ہے. شخصی مفادات، انا پرستی اور تعصبات کو “طے شدہ امور” کا جعلی نام چسپاں کرنے یا لاجواب ہو کر “الحاد” اور “غداری” کا غوغا برپا کرنے سے صرف سائل کی آواز دب سکتی ہے، سوال پھر بھی زندہ ہی رہے گا اور مزید شدت سے ابھرے گا… پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے… رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور..

اسی بارے میں: ۔  برہان وانی کی شہادت اورمہاتما گاندھی کا فلسفہ عدم تشدد

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “کچھ “طے شدہ امور” کے باب میں

  • 22-06-2016 at 7:25 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 24-06-2016 at 10:22 am
    Permalink

    ڈینئیل آوف ہولوکاسٹ پر پابندی کاہے کو لگائی گئی ہے پھر ۔۔۔۔۔ کیا ہم شعوری طور پر یورپیین اور جرمنی سے زیادہ بلند ہیں جو سوال کو آزاد کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ جواب ضرور دیجئے

  • 25-06-2016 at 9:54 am
    Permalink

    اس خادم کی نظر میں یورپ اور جرمنی کا ہر چلن معیار کی حیثیت نہیں رکھتا. البتہ ہولوکاسٹ سمیت چند ایک مسائل کو چھوڑ کر، علمی اعتبار سے نسبتا ترقی یافتہ سماجوں میں سوال اٹھانے کی آزادی وسیع تر ہے، جو اس خادم کی نظر میں غنیمت تر ہے. اس خادم کی راے میں شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئے سوال کی آزادی شرط ہے، اس سے مشروط نہیں.

Comments are closed.