کپتان کی ایک ان کہی کہانی


25 مارچ 1992ء کی شب جب دنیا بھر میں کروڑوں آنکھیں ٹی وی سکرینوں پر جمی ہوئی تھیں، ملبورن سٹیڈیم میں ہزاروں ہاتھ تالیاں بجا بجا کر سرخ ہو رہے تھے، کپتان ورلڈ کپ ہاتھ میں اٹھائے کہہ رہا تھا، ”شوکت خانم ہسپتال میرا خواب ہے‘ جو دن کو بھی میری جاگتی آنکھوں میں تیرتا رہتا ہے‘ مجھے یقین ہے، یہ ورلڈ کپ میرے اس خواب کی تعبیر کو قریب تر لے آئے گا‘‘۔

بائولر کے طور پر کپتان اپنے کیریئر کا عروج بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا جب دنیا کے بڑے سے بڑے بیٹسمین اس کی طوفانی بائولنگ سے دہشت زدہ رہتے۔ فاسٹ بائولنگ میں اب یہ وسیم اور وقار کا دور تھا۔ کپتان نے اپنے دورِ عروج میں ”بھریا میلہ‘‘ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا‘ جسے جنرل ضیاء الحق کے اصرار پر وہ واپس لینے پر مجبور ہو گیا (ایک ایسا یوٹرن جو پاکستان کی کرکٹ ہسٹری میں شاندار باب کا ذریعہ بن گیا) خوش نصیب کپتان کی قسمت میں ورلڈ کپ کا اعزاز لکھا تھا۔

ورلڈ کپ کا فاتح کپتان، شوکت خانم ہسپتال کے لیے گھر سے نکلا تو لوگوں نے عطیات کی بارش کر دی۔ وہ جس شہر، گلی، کوچے، سڑک، بازار اور مارکیٹ میں گیا، لوگ اس پر فدا ہوتے نظر آئے۔ خواتین اور بچے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے چھتوں پر اور کھڑکیوں میں گھنٹوں سراپا انتظار رہتے۔

یہ کپتان اور اس کے ”کاز‘‘ سے لوگوں کے والہانہ لگائو کا بے غرض اور بے ساختہ اظہار تھا۔ کپتان اب ایک عظیم سماجی کارکن کے طور پر ابھر رہا تھا۔ لوگ اسے رشک بھری نظروں سے دیکھتے کہ کوئی تو ہے جو کسی ذاتی غرض، کسی سیاسی مفاد کے بغیر خلق خدا کی خدمت کے لیے میدان میں نکلا ہے۔

وہ اس پر اندھا اعتماد کر رہے تھے اور کسی رسید کے بغیر، اس کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگا رہے تھے۔ خود کپتان بھی اپنے اسی بے لوث اور بے غرض کردار کو آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ سیاست پر بات ہوتی تو وہ اظہار بے زاری کرتے ہوئے خود کو اس کے لیے ”مس فٹ‘‘ قرار دیتا۔

شوکت خانم ہسپتال کے منصوبے کی تکمیل پر لاہور کے فورٹریس سٹیڈیم میں ”جشن عوام‘‘ کا اہتما م کیا گیا جس میں ہر طبقے اور ہر سیاسی فکر کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ اسی دوران ایک جانب سے ”وزیر اعظم عمران خان‘‘ کے نعرے سنائی دینے لگے۔

یہ نعرے شاید عمران خان کے علاوہ ان کے لاکھوں مداحوں کے لیے بھی حیران کن تھے جو اپنی اپنی سیاسی و جماعتی وابستگیوں کے باوجود عمران خان سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ خود کو سیاست کی آلودگیوں سے بالا تر رکھتے ہوئے سماجی کارکن کے طور پر عوامی خدمت کا مشن آگے بڑھائے۔

خود عمران خان اب اپنی ناخواندہ قوم کے لیے تعلیمی منصوبہ بنا رہے تھے۔ ادھر بعض ارباب فکر و نظر ایک ”پریشر گروپ‘‘ کی تشکیل پر غور کر رہے تھے جو سیاسی و جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اپنا کردار موثر طور پر ادا کرتا۔

امریکہ اور یورپ میں ایسے پریشر گروپس مختلف شعبوں کے حوالے سے اپنا کردار موثر طور پر ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس پریشر گروپ کے حوالے سے جنرل حمید گل، حکیم سعید، محمد صلاح الدین، عمران خان اور عبدالستار ایدھی جیسی شخصیتوں کے نام سنائی دیئے۔

دانشوروں کا ایک اور گروپ کپتان کو مشرقی تہذیب و ثقافت کے عظیم علمبردار کے طور پر سامنے لانا چاہتا تھا جو اپنا دورِ شباب مغربی تہذیب میں گزارنے کے بعد اس کی خرابیوں سے آگاہ ہو چکا تھا اور اب پورے اعتماد کے ساتھ اہل مغرب پر اپنی مشرقی تہذیب کے بالا تری ثابت کر سکتا تھا۔ ان افکار و نظریات پر مبنی مضامین، عمران کے نام سے اخبارات کی زینت بننے لگے‘ لیکن جمائما سے شادی نے عمران کے ناقدین کو اس کے نئے امیج کو نشانہ بنانے کے لیے کافی پتھر فراہم کر دیئے تھے۔

دانشوروں کا ایک اور گروہ کپتان کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو سکتے ہیں اگر اقتدار کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہو۔ قومی وسائل کو اپنے تصرف میں لا کر وہ شوکت خانم ہسپتال جیسے مزید کئی منصوبوں کی تکمیل کر سکتا ہے۔ قوم کی شرح خواندگی میں اضافے کے لیے بھی حکومتی ذرائع کا استعمال ضروری ہے۔

اور پھر 1996ء کی پہلی سہ ماہی میں عمران نے ”تحریک انصاف‘‘ کا اعلان کر دیا‘ جس کے قیام کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ صدر لغاری نے بینظیر حکومت کو رخصت کر دیا۔ قوم کو پھر نئے الیکشن کا مرحلہ درپیش تھا اور برسرِ زمین حقائق یہ تھے کہ لوگ، نواز شریف کو ایک اور ”باری‘‘ دینے کے موڈ میں تھے۔

اس کے گزشتہ دور اقتدار (93-90) کو لوگ پاکستان کے اقتصادی ”ٹیک آف‘‘ کا دور قرار دیتے تھے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ نواز شریف کو اگر پانچ سال پورے کرنے کا موقع مل جاتا تو پاکستان اقتصادی لحاظ سے ”ٹیک آف‘‘ کر چکا ہوتا اور ایوب خان کے دورِ زوال اور بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کے بعد، پاکستان میں اقتصادی پیش رفت کا جو عمل رک گیا تھا‘ وہ دوبارہ شروع ہو جاتا۔

یہی احساس تھا جو اپریل 1993ء میں نواز شریف حکومت کی برطرفی پر، ملک بھر میں بے ساختہ احتجاجی ہڑتالوں کا محرک بنا تھا۔

نواز شریف کے حامی یہ لوگ 6 اکتوبر 1993ء کے انتخابی نتائج کو انجینئرڈ قرار دیتے تھے۔ یہ احساس ان میں اپنے لیڈر کے لیے مزید ہمدردی پیدا کرنے کا باعث تھا۔ بینظیر کے دوسرے دورِ اقتدار میں بھی کرپشن کی داستانوں اور اقتصادی عمل کا انجماد لوگوں میں اضطراب کا باعث بنتا گیا۔

ادھر نواز شریف اور ان کے رفقا نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ انتقام کا ہر وار برداشت کیا، اس سے ان کا سیاسی قد مزید بلند ہوتا چلا گیا۔ اور ”اقتصادی مسیحا‘‘ کے طور پر ان کا امیج نکھرتا اور سنورتا گیا۔ رائے عامہ کے نہایت سائنٹیفک جائزوں کے مطابق بھی فروری 97ء کا الیکشن نواز شریف کا الیکشن تھا۔

قاضی صاحب اس بہانے کہ آئین کے آرٹیکل 62-63 پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، میدان انتخاب سے ہٹ گئے۔ پیپلز پارٹی کو بھی اپنی شکست دیوار پر لکھی ہوئی نظر آ رہی تھی۔

”فیس سیونگ‘‘ کے لیے وہ بھی الیکشن کے بائیکاٹ کا سوچ رہی تھی، جس کے لیے اس کے پاس ایوان صدر اور نگران حکومت کی ”یکطرفہ انتقامی کارروائیوں‘‘ کا معقول عذر بھی موجود تھا‘ لیکن وہ اس اندیشے کی شکار تھی کہ اس کے بائیکاٹ کی صورت میں ”اینٹی نواز شریف ووٹ‘‘ عمران خان کی طرف جا سکتا تھا اور یوں وہ نئے دور میں ایک مضبوط اور موثر متبادل کے طور پر ابھر سکتے تھے۔

عمران خان صاحب کو بائیکاٹ پر آمادہ کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز ہوا تو نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد نے انہیں بلا بھیجا اور یہ بات سمجھانے میں کا میاب ہو گئے کہ بائیکاٹ کی صورت میں، نواز شریف کے متبادل کے طور پر ان کے ابھرنے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

عمران خان زیر دام نہ آئے تو پیپلز پارٹی نے بھی بادل نخواستہ میدان میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا۔ 3 فروری 1997ء کے انتخابی نتائج رائے عامہ کے جائزوں اور معمولی سی سیاسی بصیرت رکھنے والوں کی بھی توقعات کے عین مطابق تھے۔ پیپلز پارٹی کو تو جو سیٹ بیک ہو سو ہوا، عمران خان صاحب کی نوزائیدہ پارٹی بھی بے بال و پر رہی۔

کرکٹ میں مناسب تیاری اور درست ”ٹائمنگ‘‘ کے ذریعے تاریخ ساز کارنامے انجام دینے والا کپتان، سیاست میں بغیر تیاری اور غلط ”ٹائمنگ‘‘ کے نتیجے میں یوں کلین بولڈ ہوا کہ تینوں وکٹیں اکھڑ گئیں۔

(اکتوبر 2002 کی اننگز میں بھی کپتان کوئی کمال نہ دکھا سکا۔ 2008ء میں بائیکاٹ کیا، 2013ء میں اس کی کارگزاری نسبتاً بہتر رہی لیکن اس نے نتائج کو قبول کرنے کی بجائے میچ فکسنگ کا الزام لگا دیا۔ 2018ء میں حالات سازگار تھے۔ اصل حریف نا اہل قرار پا کر میدان سے باہر تھا۔ پچ بھی چوکوں چھکوں کے لیے سازگار تھی۔ کپتان نے 2018ء کا الیکشن کپ جیت لیا، لیکن اب مخالفین میچ فکسنگ کا الزام لگا رہے تھے)

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں