وظائف کیا ہيں؟


میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر کہتا ہوں کہ وظائف ہمارے معاشرے میں ہر 10 میں سے 9 بندوں کے عقیدے کا اہم جز ہے۔ یہ کچھ خاص آیات یا اسم ہوتے ہے جو لوگ کسی خاص قسم کی ضرورت اور حاجت قبول ہونے کے لئے اس پر اپنا بہت سارا وقت خرچ کرتے ہیں۔ کچھ وظائف لمبی لمبی سورتوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور کئی دنوں تک باقاعدگی سے پڑھی جاتی ہے۔ بلکہ اکثر تو مہینوں مہینوں تک ختم نہیں ہوتے۔

روزانہ کے بنیاد پر الگ وظائف، دن اور رات کے الگ الگ، سونے کے وقت کے الگ وظائف، جمعہ کے دن کے الگ وظائف۔ یہ تو ہم نے وقت کے لحاظ سے ذکر کیا کہ بندہ ہر وقت وظائف پڑھنے میں کتنا وقت خرچ کرتا ہے اور کتنا وقت ان مسائل کو جن کے لئے وظائف پڑھے جاتے ہے کو حقیقت میں ان کا حل تلاش کیا جاتا ہے؟

اب وظائف کس لئے پڑھے جاتے ہیں؟

جب بندہ بے بس ہو جاتا ہے یا بہت سست ہو جاتا ہے اور ‎شارٹ کٹ مارنا چاہے تو وہ وظائف کو ترجیح دیتا ہے۔

دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جس کے لئے کوئی خاص وظیفہ نہ ہو۔ امتحان میں پاس ہونا ہو، بے اولادی کی شکایت ہو، کاروبار میں ترقی مقصود ہو، معاشرے میں انتہائی درجے کی عزت پانا ہو، کسی بیماری سے نجات پانا ہو، وطن میں امن قائم کرنا ہو، کسی چور کو پکڑنا ہو، اپنے جائز حقوق پانے کے لئے وغیرہ وغیرہ۔

یوں سمجیئے کہ آپ کو محنت کے ساتھ ساتھ ہر کام سے متعلق وظیفہ بھی یاد کرنا اور پھر اس کو پڑھنا ہوگا۔ بلکہ محنت سے زیادہ وظیفوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مگر یہاں کئی طرح کے سوالات ذہن کے دروازے پر بہت زور سے لات مارتے ہیں کہ آیا وہ خدا جو تمام کائنات کی ملکیت کا دعویدار ہو کیا یہ بات اس کے شایان شان ہو سکتی ہے کہ وہ فطرت کے قوانین جو اس نے بنائے ہو اور ساری کائنات کا نظام ان فطری قوانین کے حوالے کیا ہو پھر خود ان قوانین کی نفی کرے گا؟ جو محنت کرتا ہے انہیں پھر بھی ان وظائف کا محتاج کر دیں؟ یعنی انسان کو بیک وقت فطرت کے قوانین کے مطابق اور مخالف ہونے پر خدا خوش ہو جاتا ہے؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات کا نظام فطرت کے قوانین کے مطابق کم اور ان قوانین کے نفی سے زیادہ چلتا ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ خدا جو ایک انسان سے اس کی اپنی ماں کے نسبت 70 گنا زیادہ پیار کا بھی دعوی کرتا ہو اور پھر بھی انہیں اس قسم کے کنفیوژن میں مبتلا کرے؟

پھر آخر یہ وظائف کیا ہے جو خدا کو فطرت کے قوانین سے زیادہ عزیز ہے؟
اس سے تو خدا کا وجود اور اس کی خدائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
کیا خدا ایک روبوٹ ہے جو ان کوڈ وڑز (وظائف) پر چلتا ہے؟

کیا یہ وظائف کمپیوٹر پروگرام کے انسٹرکشنز کی طرح ہے جسے کمپائیلر (آپ کمپائلر سے کوئی سافٹ ویئر مراد لے سکتے ہے ) پر چلا کر اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام لئے جا سکے؟

یہاں اک اور بات قابل ذکر اور قابل غور ہے کہ آپ نے اکثر اوقات نہ صرف وظائف کا بلکہ دم درود اور تعویز گنڈوں کا مثبت نتیجہ بھی دیکھا ہوگا۔ تو اس کی وجہ ہر گز ہرگز اس کی صداقت نہیں بلکہ یہ پلاسیبوں ایفیکٹ (وہ مثت سوچ جو آپ ایک چیز کے بارے میں اپنائے اور وہ آپ کے مطلوبہ نتائج دے دیں ) کی وجہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عرفان اللہ احساس کی دیگر تحریریں
عرفان اللہ احساس کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں