امجد صابری کا خون ناحق


\"saminaتو گویا خون بہہ جانے سے سینے میں ٹھنڈک پہنچ گئی۔ اس کی آواز کانوں میں پگھلے سیسے کی مانند چبھے گی تو صاحب خون ہو گا۔سو وہ رگ جاں سے گزر گیا کہ اب وہ کسی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں نعت نہیں پڑھے گا۔ قوالی نہیں سنائے گا۔دل کی تسلی کے لئے آواز باقی ہے کہ مر نہیں سکتی۔ سب کو کوچ کر جانا ہے۔ سفر ہے اور سفر ہمیشہ جاری رہنے کی چیز نہیں۔ صاحب وہ تو آرٹسٹ تھا۔ اس کی کیا دشمنی ہونی تھی۔ آرٹسٹ تو بس آرٹسٹ ہوا کرتا ہے۔ اپنی دھن میں گاتا ہوادنیا سے چلا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ قتل ہی کیوں کیا؟ کتنے مزے سے صبح سویرے دہی کی لسی بنائے دادی اماں جگایا کرتی اور ابو ٹیپ ریکارڈر پر کیسٹ لگائے امجد صابری کی آواز میں قوالیاں لگایا کرتے کہ موسیقی روح کی غذا ہے اور موسیقی میں خدا رسول کا نام آجائے تو لطف تو آتا ہے دن کا آغاز اچھا ہو جایا کرتا ہے۔ اسی روحانی سازو سر نے امجد صابری کو قوال بنایا تھا۔ قوالی گاتا تو بہت خوب گاتا تھا ۔ روح کے تار تک چھیڑ جایا کرتا۔ تب ہم روحانی باتوں پر اتنا ہی یقین کیا کرتے تھے جتنا کہ اب حقیقت پر یقین ہے۔

ذوالفقار تابش کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ
کہانی ختم ہوئی، داستاں تمام ہوئی
جہاں پہ سوچا نہیں تھا وہاں تمام ہوئی

میرے تو گمان میں بھی نہ تھا کہ امجد صابری یوں ہم سے جدا ہو جائے گا۔ پہلی بار دادا ابا سے کراچی کی خبر معلوم ہوئی کہ حالات بگڑ گئے ہیں۔ تب ہم چھوٹے تھے۔ دادا سے پوچھتے کہ حالات بگڑنا کیا ہوتا ہے۔ بتایا کرتے کہ بھوک افلاس سے بڑھ کر خوف کہ ابھی کھانا کھا رہے ہیں معلوم نہیں اگلا نوالہ منہ میں رکھنے سے پہلے \"AMJAD-SABRIکوئی گولی ہماری زندگی نگل لے۔ پھر ہم بھی دعا کیا کرتے کہ یا خدا! رحم۔ دادا ابادیکھتے تو وہ بھی ہماری تسلی کے لئے خصوصی دعا مانگتے کہ ہماری تسلی رہے۔کہا کرتے :”کراچی کے حالات ابتر ہیں یہ ابتر حالات بہتر ہونے میں وقت لیں گے۔ مگر امید ہے زیادہ وقت نہ لیں گے۔“دادا کو گزرے چھ سال ہو چلے مگر کراچی کے حالات ویسے ہی ہیں۔حالات بہتر ہونا تھے نہ ہو سکے۔ کہیں یہی ابتر حالات معصوموں آہوں ، سسکیوں اور آنسوو¿ں کے سیلاب نہ بن جائیں ۔ وہ سیلاب جو سب بہا لے جایا کرتا ہے۔ نہیں دیکھتا کہ بہنے والا معصوم و مظلوم ہے یا ظالم، انسان ہے یا جانور۔ اب امید ہی نہیں۔ اگر مستقبل قریب میں بہتر ہو بھی جائیں تو مجھے یاد رہے گا کہ کراچی نے ایک آرٹسٹ کی جان لی ہے ۔

حکومت اور تمام محافظ اداروںسے التماس ہے کہ قاتل کا پتہ لگایا جائے اور اسے بے نظیر کیس کی طرح نہ رکھا جائے کہ کبھی ایک پر الزام تو کبھی دوجے پر۔(کیس چل رہا ہے اور فائل اب تک کھلی ہے۔) نیز کسی بھی طرح کی تاریخ دن طے کرنے کی ضرورت نہیں کہ مرے ہوئے کی برسی منائی جاتی ہے۔ وہ تو اب بھی ہم میں موجود ہے۔ اس کی آواز میں کیسٹس تو اب پرانی بات ہوئی، کمپیکٹ ڈسک اور ڈیجیٹل ڈسک سمیت ڈی وی ڈیز اور دیگر سامان موجود ہیں جو اس کی آواز سنبھالے ہوئے ہے۔ جسے سننا ہو گا، امجد کو یاد کرنا ہو گا اپنے تئیں کوشش کر لی جائے گی۔ امجد صابری اب ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “امجد صابری کا خون ناحق

  • 24-06-2016 at 2:09 am
    Permalink

    آج کے یہ ’’ اینک و غوری‘‘ یہ قاتل درندے، خونخوار بھیڑیئے سب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ شیریں صداؤں کا گلا کوئی نہیں دبا سکتا۔ یہ امر ہوتی ہیں ۔
    اقبال کا ایک شعر آپ کی نذر ہے ۔
    ’’ رہے نہ اینک و غوری کے معرکے باقی
    ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسرو ‘‘ ۔

Comments are closed.