ریاست اور ریاستی دانشور …..


mehr janمہر جان

ریاست اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اپنی ساخت کے اعتبار سے کیا ہر فرد کو وہی حیثیت دے سکتی ہے جس کا وہ خواہاں ہے؟ یہ سوال آج کا نہیں بلکہ صدیوں سے چلتا آرہا ہے اور تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ ریاستی ساخت کبھی بھی کسی بھی اعتبار سے متحمل ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ ہر فرد بالخصوص اقلیت کو ان کے بنیادی حقوق سے نواز سکے کیونکہ ہر ریاست کی ساخت افادیت کے نظریے کی بنیاد پہ قائم ہے جہاں اقلیت کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اکثریت کے لئے اگر اقلیت کو صفحہ ہستی سے مٹا بھی دیا جائے تو یہ نظریہ انہیں اخلاقی جواز فراہم کردیتا ہے اور اسی ریاستی ساخت کے اندر رپتے ہوے بعض دانشور حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ کسی فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ یہ دانشور کہنے کو لبرل اور جمہوریت پسند کہلاتے ہیں لیکن انکی قلم کی روشنائی ریاست کے بیچ و خم میں سیاہی بن جانے میں دیر نہیں لگاتی۔
اسی طرح مذہب کی بھی اپنی ایک ساخت ہے۔ آپ چاہے مذہبی طور پہ کتنے ہی امن کے دعوےدار کیوں نہ ہوں لیکن مذہبی ساخت میں تشدد کا عنصر موجود رہتا ہے۔’لکم دینکم ولی دین‘ کے ساتھ ساتھ’ واقاتلو…. ‘کا بیانیہ بھی موجود رہتا ہے لیکن یہاں پر بھی آپ مذہبی دانشوروں کو دفاعی مورچوں میں پائیں گے۔ کچھ دانشور حضرات تو مذہب میں لبرل ازم ڈھونڈتے رہتے ہیں یہاں سے آپ ان کے خبط کا اندازہ لگا سکتے ہیں ان کا دفاع ہی اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی ساخت میں تشدد کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر کمیونزم کی بات کریں تو وہاں پر بھی آپ مادہ کی ساخت سے اپنے آپ کو نکال نہیں پاتے اور یوں وہاں ’دانش‘ شعور اور احساسات کو مقید کردیتی ہیں۔ اس تمہید کا مقصد فقط یہ ہے کہ وہ دانشور جن کی دانش فقط انسانیت کے لیے مختص ہونی چاہیے تھی کیوں ریاستی اور مذہبی پیرائے میں پھنس گئے ہیں۔ ریاستی دانشور (لبرل و جمہوریت پسند) ہر اس مسئلہ کو اجاگر کرے گا جہاں مذہب ظلم کو جواز دے لیکن ریاستی ظلم کو وہ کبھی ظلم نہیں لکھے گااور دوسری طرف مذہبی دانشور چونکہ( مذہب ریاست کا محافظ ہے) کسی بھی ظلم کو، چاہے ریاستی ہو یا مذہبی، دوام بخشنے کا قائل ہے۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا کسی بھی ساخت (منظم ڈھانچے)کے اندر رہتے ہوے ہر فرد کو وہ آزادی مل سکتی ہے جو اسکا پیدائشی حق ہے؟ کیا انسانی ذہن اس قدر ترقی کرپایا ہے کہ وہ انسانیت کی بات ساختیات سے بالاتر ہو کر کر سکے، زندگی کو معنی دے سکے یا ریاستی ومذہبی ساختیات سے نکل کر فقط فرد کو اور سچ کو تر جیح دے سکے۔ اس سلسلے میں گر کسی نے تھوڑی بہت کوشش بھی کی ہے تو وہ اپنے آپ کو کسی بھی ساخت کا جزو قرار نہیں دیا بلکہ ہر فرد کے احساسات کو اور سچ کو ترجیح دی ہے ان کے لئے معاشرہ، ریاست مذہب یا نظام کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ انسانیت ہی کو محور گردانتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں کا دانشور ریاستی یامذہبی ساخت کے اندر رہتے ہوے دانشوری بگھارتے رہتے ہیں۔ سچ اور قلم کی نوک کو مذہب یا ریاست یا کسی بھی نظام کے ماتحت کرکے فرد کو اور سچ کو بھول جاتے ہیں اور خود کو سچ کا علمبردار بھی کہتے ہیں۔

( محترم مہر جان صاحب ہمارے قدیمی مہربان ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اس دوست کی سوچ کا ایک اپنا انداز ہے۔ ہم میں سے بہت سے دوست ان کی آرا سے اتفاق نہیں کرتے۔ تاہم اختلاف رائے کا بنیادی اصول دوسروں کی بات سننا اور ضرورت پڑنے پر اپنی دلیل دینا ہے۔ مہر جان کی تحریر حاضر ہے۔ )


Comments

FB Login Required - comments