آپ نیکی کے کام کیوں کرتے ہیں ؟


علامہ اقبال کا مشہور شعر ہے

مسجد تو بنا دی شب بھی میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ہم سب جانتے ہیں کہ ہر پاپی کے دل کے کسی کونے میں یہ خواہش چھپی بیٹھی ہوتی ہے کہ وہ ایک نیک انسان بن جائے لیکن وہ بڑی کوشش کے بعد بھی نیک انسان نہیں بن پاتا۔ ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں ایک طویل عرصے سے سوچ رہا ہوں کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ آخر وہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں )ان کی نیکی کا جو بھی تصور ہو( ان کے کیا محرکات ہوتے ہیں۔ اپنے تیس سالہ پیشہ ورانہ تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے سے میں اس نیتیجے پر پہنچا ہوں کہ مختلف لوگوں کے نیک اور اچھے کام کرنے کی MOTIVATIONS مختلف ہیں۔ میں اس کالم میں ان چند محرکات اور گروہوں کی نشاندہی کروں گا تا کہ آپ کو اس موضوع کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے اور آپ اپنے شعوری اور لاشعوری محرکات پر نظرِ ثانی کر سکیں۔

پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے جو خوف کی وجہ سے نیک اور اچھے کام کرتے ہیں۔ اس کی مثال وہ بچہ ہے جو اس لیے اچھا کام کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے جابر والد سے ڈرتا ہے۔ وہ خوفزدہ رہتا ہے کہ اگر اس نے کوئی غلط کام کیا تو اس کی پٹائی ہو جائے گی۔ میں بہت سے ایسے مردوں اور عورتوں سے مل چکا ہوں جو احساسِ گناہ کا شکار تھے۔ انہیں خوف تھا کہ وہ قیامت کے دن واصلِ جہنم کر دیے جائیں گے۔ وہ جہنم کے خوف سے نیک کام کرتے تھے۔

میں ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو جہنم پر ایمان نہیں رکھتے لیکن اپنے ملک کے قانون، پولیس اور عدالت سے ڈرتے ہیں۔ وہ جرائم نہیں کرتے کیونکہ وہ جیل کی کوٹھڑی میں نہیں جانا چاہتے۔

دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو لالچ کی وجہ سے اچھے کام کرتے ہیں۔ اس کی مثال وہ بچہ ہے جو اس لیے ہوم ورک کرتا ہے کہ اس کی ماں اس سے خوش ہوگی اسے شاباش دے گی اور اسے آئس کریم کھلائے گی۔ اس کی مثال وہ نوجوان بھی ہے جو اس لیے پڑھائی کرتا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ڈاکٹر یا انجینیر بن جائے۔ بعض مذہبی لوگ جہنم کے خوف سے نہیں، جنت کے لالچ میں نیک کام کرتے ہیں۔ انہوں نے سن رکھا ہے کہ جنت میں دودھ کی نہریں ہوں گی اور انہیں خوبصورت باکرہ حوریں ملیں گی۔ وہ ان دودھ کی نہروں اور پری وش حوروں کے لیے اس دنیا کی آسائشیں قربان کر دیتے ہیں۔ وہ مرنے کے بعد ایک دائمی دنیا کے لیے اس عارضی دنیا کو تیاگ دیتے ہیں۔

تیسرے گروہ کے لوگ اس لیے نیکی کے کام کرتے ہیں تا کہ وہ مشہور ہو جائیں۔ وہ شہرت کی خاطر اچھے اچھے کام کرتے ہیں۔ ان کے دل میں یہ خواہش مسکراتی رہتی ہے کہ ان کی تصویر اخبار میں چھپے گی اور ٹی وی پر ان کا انٹرویو نشر ہوگا۔ انہیں کوئی صدر یا وزیر تمغہ دے گا۔ وہ اپنی قوم کے حاتم طائی بن کر مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے خدمت سے زیادہ شہرت اہم ہوتی ہے۔

چوتھے گروہ کے لوگ ایک بہتر انسان بننے کے لیے نیکی کے کام کرتے ہیں۔ ان کے دل میں نہ جنت کی طمع ہوتی ہے نہ دوزخ کا خوف اور نہ ہی شہرت کی خواہش۔ وہ چھپ چھپ کر خیرات دیتے ہیں۔ وہ شہرت سے بچتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں۔۔۔نیکی کر دریا میں ڈال۔۔۔ انہیں نیکی کا کام اور خدمتِ خلق کرنے سے دلی مسرت اور ذہنی سکون ملتا ہے۔ وہ انگریزی کے اس مقولے پر عمل کرتے ہیں

A VIRTUE IS ITS OWN REWARD

ایسے لوگ مزاجاٌ درویش ہوتے ہیں۔

ایک مخلص سائنسدان تحقیق کرتے ہوئے

ایک جینون شاعر شعر تخلیق کرتے ہوئے

ایک محبت کرنے والی ماں بچوں کا خیال رکھتے ہوئے

ایک شفیق استاد بچوں کو پڑھاتے ہوئے

ایک ہمدرد نرس مریض کی تیمارداری کرتے ہوئے

جو مسرت محسوس کرتی ہے وہ اپنا صلہ آپ ہے۔ وہ مسرت بہت قیمتی ہوتی ہے۔

میرا یہ خیال ہے کہ ہم کسی عمل کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اس عمل کا محرک کیا ہے۔ میں نے ایک دفعہ تین لوگوں سے پوچھا کہ وہ وولنٹیر کام کیوں کر رہے ہیں۔

پہلا وولنٹیر ایک بد حال اور پریشان خیال ٹین ایجر تھا۔ وہ کہنے لگا کہ پولیس نے اسے منشیات بیچتے پکڑ لیا تھا اور عدالت میں پیش کیا تھا۔ جج نے نہ صرف اسے جرمانہ کیا بلکہ پچاس گھنٹے کمیونٹی سروس کرنے کا بھی حکم دیا اسی لیے وہ ٹین ایجر بادلِ ناخواستہ وہاں وولنٹیر کام کر رہا تھا۔

دوسری وولنٹیر ایک امیگرنٹ عورت تھی۔ کہنے لگی جب میں وولنٹیر جاب کر لوں گی تو مجھے اصل جاب ملنے میں آسانی ہوگی۔ یہ میرا کینیڈا میں پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ ہے۔

تیسرا وولنٹیر ایک بزرگ آدمی تھی۔ کہنے لگا میں پچھلے سال ریٹائر ہو گیا ہوں۔ میرے پاس کافی دولت ہے۔ میں نے سوچا میں گھر فارغ بیٹھنے کی بجائے خدمتِ خلق کروں۔ مجھے یہ وولنٹیر کام کر کے بہت اچھا محسوس ہو تا ہے۔ یہ کام میری زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

امریکی صوفی شاعر والٹ وٹمین امریکہ میں جنگ کے دنوں میں ہسپتال جایا کرتے تھے اور مریضوں کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے پاس ایک بیگ ہوتا تھا جس میں وہ کسی مریض کے لیے چاکلیٹ اور کسی کے لیے پھل رکھتے تھے۔ وہ بعض مریضوں کے لیے خط لکھتے تھےتا کہ ان کے رشتہ دار یہ نہ سمجھیں کہ وہ جنگ میں مارے گئے۔ مریض انہیں اپنا مسیحا سمجھتے تھے کیونکہ وہ کارِ مسیحائی کرتے تھے اور مریضوں کی بے لوث خدمت کرتے تھے۔

والٹ وٹمین کی شاعری کے مجموعے LEAVES OF GRASS کی ایک نظم کے یہ مصرعے ان کے فلسفہِ حیات کی ترجمانی کرتے ہیں

FOR MY ENEMY IS DEAD

A MAN DIVINE AS MYSELF IS DEAD

I LOOK WHERE HE LIES WHITE-FACED AND STILL IN THE COFFIN

I DRAW NEAR

BEND DOWN AND TOUCH LIGHTLY WITH MY LIPS THE WHITE FACE IN THE COFFIN

والٹ وٹمین ایسے انسان دوست تھے کہ انہیں اپنے دشمن میں بھی ایک انسان نظر آتا تھا۔

میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ میں مذہبی انسان نہیں ہوں لیکن اپنے مریضوں کی خدمت عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 168 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail