کراچی کی پڑوسن کا مرغا یاد آتا ہے


کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں۔ جنت کا نظارہ ہے۔ آج سورج نے منہ نہیں دکھایا۔ صبح سے بارش ہورہی ہے۔ درجہ حرارت ایک ڈیڑھ یا پونے دو ہے۔ کھڑکی شارع کی طرف نہیں بلکہ عقبی جانب ہے جہاں جنگل ہے اور بیچوں بیچ ندی بہتی ہے۔ جب درخت ہرے بھرے ہوتے ہیں تو ندی دکھائی نہیں دیتی۔ پت جھڑ میں اوپر آسمان کُھلتا جاتا ہے اور نیچے پانی نظر آنے لگتا ہے۔ خیر آج تو اوپر سے بھی پانی برس رہا ہے۔

زندگی بھر شام کی نوکری کی۔ اخبار کی نائٹ شفٹ دو بجے ختم ہوتی تھی، چینل کی ایک بجے۔ سویرا کیا ہوتا ہے، ہمیں کیا معلوم؟ لیکن واشنگٹن کا دفتر ساڑھے چھ سات بجے لگتا ہے۔ میں پانچ دن خود کو یہ سمجھاتے بجھاتے اٹھاتا ہوں کہ ہفتے اتوار کو دیر تک سوئیں گے۔ لیکن وہی تہجد کے وقت آنکھ کھل جاتی ہے۔ آج کل پرندے درختوں کی کھوہ میں دبکے رہتے ہیں۔ سخت سردی جو ہے۔ مجھے بالکونی میں جاکر اذان دینا پڑتی ہے۔ کراچی کی پڑوسن کا مرغا یاد آتا ہے۔

یہاں ہماری کئی پڑوسنوں کے پاس کتے ہیں جنھیں ہم احترام سے ڈوگی کہتے ہیں۔ یہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ حسین پڑوسنیں انھیں گود میں لے کر ٹہلاتی ہیں۔ آتے جاتے نظر آجائیں تو میں مسکراتے ہوئے سر سہلا دیتا ہوں۔ پڑوسن کا نہیں، ڈوگی کا۔ پکی عمر کی پڑوسن سے مسکرا کر ملتے ہوئے خیال آتا ہے کہ اس کا کم بخت بوائے فرینڈ نہ آجائے۔ کم عمر پڑوسن سے فری ہوتے ہوئے جی ڈرتا ہے کہ کل کلاں کو ”می ٹو“ نہ کردے۔

ایک کتا البتہ ایسا ہے جو کبھی نظر نہیں آیا لیکن کبھی کبھی رات کو ڈکراتا ہے۔ اسے بھونکنا نہیں آتا۔ بیگم کہتی ہیں، اس کتے کی کیسی کتوں جیسی آواز ہے!

امریکا آئے گیارہ ماہ ہوگئے ہیں۔ کتابیں بڑھتی جارہی ہیں۔ دو سو سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ ہر ہفتے سوچتا ہوں کہ چھٹی کے دن سمیٹوں گا۔ لیکن چھٹی گروسری اور آوارہ گردی کرنے میں خرچ ہوجاتی ہے۔ آج بارش اور سردی کی وجہ سے باہر نکلنے کا ارادہ نہیں۔ اچھا، کچھ کرتے ہیں۔ کیوں نہ پہلے ان کی فہرست بنائی جائے۔ صبح میں نے اس کتاب کی ورق گردانی کی جو ہفت روزہ ٹائم کی کہانی پر مبنی ہے۔ اس کا نام ہے دا السٹریٹڈ ہسٹری آف دا ورلڈز موسٹ انفلوئنشل میگزین یعنی دنیا کے سب سے با اثر جریدے کی باتصویر تاریخ۔ بڑے حجم کے ساڑھے چار سو صفحات میں اسی نوے سال کے زمانے کو قید کردیا گیا ہے۔

امریکا میں ایک ویب سائٹ کا نام ہے بیٹر ورلڈ بکس۔ یہاں پرانی کتابیں کوڑیوں کے مول مل جاتی ہیں۔ میں نے پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے بہت کتابیں خریدی تھیں کیونکہ یہ کتاب بھیجنے کا ہرجانہ نہیں مانگتے۔ مہنگی کتابیں چند ڈالر کی مل جاتی ہیں۔ جس کتاب کا اوپر ذکر کیا ہے، اس کی اصل قیمت پچاس ڈالر ہے۔ وہ مجھے فقط ایک ڈالر میں ملی اور مفت گھر تک پہنچی۔ حالانکہ امریکی پوسٹ آفس کتاب منزل پر پہنچانے کے کم از کم تین ڈالر لیتا ہے۔ امیزون والے کتاب کی قیمت سے زیادہ رقم شپنگ فیس کے نام پر اینٹھ لیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 149 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi