اُس کا بھائی بھی غیرت مند نکلا


تھوڑا شرماتے ہوئے اور کچھ جھجھکتے ہوئے اُس نے پوری بات بتائی تو میں سوچ میں پڑ گیا۔ واقعی یہ بات اُس کے بھائی کو پتہ چل گئی تو ہنگامہ ضرور ہو گا۔ میں تو اس کے بھائی کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ میرا دوست تھا۔ ” ٹینا تم اس خیال کو دل سے نکال نہیں سکتی؟” جانتا تھا اس کی طرف سے ناں ہو گی اس کے باوجود میں نے ایک کوشش کی۔ اس کی آنکھوں میں تاریک سائے سے اتر آئے۔

“پلیز آپ کچھ کریں ناں! میں یاسر کو نہیں بھول سکتی۔” ٹینا نے بے بسی سے کہا۔ ” میں تمہارے والد سے بات کروں گا۔ تم فکر مت کرو۔” میں نے اسے تسلی دی۔ ٹینا چلی گئی۔ وہ بڑی مشکل سے میرے ساتھ بات کر پائی تھی۔ میں اُس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بھائی دلاور سے کوئی امید رکھنا حماقت تھی۔ بہر حال میں اس کے والد سے ملا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد بڑے سلیقے سے بات کی تھی لیکن وہ آگ بگولہ ہو گئے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ وہ اپنی بیٹی کے جذبات کو سمجھیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ برسوں کی رفاقت کا انجام یہ جملہ تھا کہ ہمارے معاملات میں دخل نہ دیں۔

میں یہ جملہ سُن کر واپس تو آگیا تھا مگر بہت بے چین تھا۔ دوسرے دن دلاور آ دھمکا۔ چہرہ غصے سے بگڑا ہو تھا۔ ” یار بے شرمی اور بے حیائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اُس نے تم سے یہ باتیں کیں اور تم بھی اس کی وکالت کرنے ابا کے پاس چلے گئے۔ ” وہ سخت ناراض تھا۔ ” تو میں اور کیا کرتا، مجھے بھی وہ بہنوں کی طرح عزیز ہے۔” میں نے کہا۔ ” ہاں تم سے یہی توقع تھی۔ خیر ہم نے اس کی شادی طے کر دی ہے۔ اگلے جمعے کو اس کا نکاح ہے۔ جس میں صرف چند لوگ شامل ہوں گے اور تم بھی ان میں شامل ہو، وقت پر آ جانا۔ دلاور نے بتایا۔

” بہت خوب! تو اس کے لئے عمر قید کی سزا تجویز کی ہے تم لوگوں نے۔ ” میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔ دلاور مزید بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا چلا گیا۔ میں اس سزا کے خلاف اپیل کرنا چاہتا تھا۔ چناں چہ اگلے دن اس کے گھر گیا وہاں ایک اور ہنگامہ میرا منتظر تھا۔ ٹینا نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ مصلحت تو یہی تھی کہ میں پتلی گلی سے واپس آ جاتا مگر تقاضائے دردِ دل نے مجھے وہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔

میں نے ٹینا کی شادی کی مخالفت کر دی۔ ٹینا کی سوجی ہوئی سرخ آنکھوں میں امید کی ہلکی سی کرن چمکی۔ شاید وہ رات بھر روتی رہی تھی۔ مگر میرے دلائل بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھے۔ اس بار مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔

چند دن میں دلاور سے نہ ملا اور نہ اس نے رابطہ کیا۔ پھر ایک دن ٹینا کے مرنے کی خبر ملی۔ میں فوراً اس کے گھر پہنچا۔ ماتم جاری تھا اور ٹینا دنیا کے غموں اور دکھوں سے آزاد ہو چکی تھی۔ “دلاور یہ سب کیسے ہوا؟ ” میں نے پوچھا۔ ” بس کیا بتاؤں یار! ہائی وولٹیج کا تار کہیں سے ننگا تھا بس اسی کرنٹ لگا اور مر گئی۔ ” اس نے مشینی لہجے میں بتایا۔ ” اوہ! مجھے بے حد افسوس ہے۔ مگر یہ کون سا تار تھا، اور یہ واقعہ ہوا کیسے؟” میں نے دریافت کرنے کی کوشش کی۔

” چھوڑو یار وہ تو چلی گئی اب ان باتوں کا کیا فائدہ۔” اس نے اپنی طرف سے غمگین لہجے میں کہا لیکن اس کا انداز کتنا مصنوعی تھا اس کا اندازہ میں بخوبی لگا سکتا تھا۔ جب لوگ اسے اٹھا کر چلنے لگے تو میں دانستہ وہیں رک گیا۔ اس گھر کی دیواروں سے مجھے ٹینا کی آہیں اور سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ کاش میں اسے بچا سکتا۔

اس دن کے بعد میں اس گھر میں کبھی نہیں گیا۔ دلاور مجھ سے ملنے آیا کرتا تھا۔ میں نے کبھی اس کو منع نہیں کیا تھا۔ وقت بھی عجیب شے ہے بڑے سے بڑے سانحے کو بھلا دیتا ہے۔ دو سال گزر گئے۔ زندگی معمول کے مطابق گذر رہی تھی۔ ایک دن دلاور ملنے آیا تو بڑا پر جوش تھا۔ مجھے ایک ریسٹورانٹ میں لے گیا۔ کھانے کا آرڈر دے کر اس نے خوشی اور جوش کو دباتے ہوئے کہا: ” مجھے محبت ہو گئی ہے یار۔”

” ہیں۔۔۔ کیا کہا ؟ محبت؟ ” میں چونک اٹھا۔ ” کیوں یقین نہیں آ رہا کیا؟ وہ بہت اچھی لڑکی ہے یار۔ دین دار، با اخلاق اور انتہائی خوبصورت۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ” لیکن یہ ہماری ہونے والی بھابی تمہیں ملی کہاں؟ کیا فیس بک پر؟” میں نے پوچھا۔

” ارے نہیں یار ! فروا میرے ساتھ آفس میں کام کرتی ہے۔” دلاور بولا۔ ” بہت خوب ! تو پھر کب شادی کر رہے ہو؟ میں نے سوال کیا۔ ” ابھی تو بڑے مرحلے باقی ہیں۔ اس کے خاندان والے مانیں تو پھر ناں” میں خاموش ہو گیا۔

اس دن کے بعد دلاور اکثر میرے پاس آنے لگا۔ شائد دل کی باتیں کرنے کے لئے اسے میں ہی موزوں لگتا تھا۔ جیسے جیسے دن گزر رہے تھے دلاور کی محبت شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ ابھی رشتہ بھیجنے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ فروا کے بھائی نے ان دونوں کو آفس سے باہر کہیں دیکھ لیا۔

عشق اور مشک چھپانے سے کہاں چھپتے ہیں۔ بات بگڑ گئی۔ دلاور شیو بڑھائے ہوئے دیو داس بنا میرے پاس پہنچا۔ ” یار فروا تین دن سے آفس نہیں آئی؛ اس کا فون بھی بند ہے۔ اب میں کیا کروں؟ “

” ہوں۔۔۔ معاملہ گھمبیر ہے۔ میں پتا کرتا ہوں۔ کیا مسئلہ ہے۔” میں نے تسلی دی۔ میرا خیال تھا کہ معاملہ سلجھ جائے گا مگر حالات میری توقعات سے سے زیادہ خراب تھے۔ چند دن بعد فروا کا استعفیٰ آفس میں بھجوا دیا گیا۔ ادھر دلاور کی بری حالت تھی۔ فروا سے ملنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ ایک دن فروا نے موقع پا کر اسے فون کیا۔ وہ میرے پاس دوڑا چلا آیا۔

” یار فروا سے بات ہوئی ہے۔ اس کے خاندان والے اس کی شادی میرے ساتھ کسی صورت نہیں کریں گے لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بھاگ کر شادی کر لیں گے۔ ایک بار شادی ہو گئی تو وہ کیا کر سکیں گے۔ بعد میں ہم معافی مانگ لیں گے۔ اس میں ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہو گی۔” دلاور پر جوش تھا۔

” میں کیا نکاح خواں کا بندوبست کروں گا۔ ” میں نے سوال کیا۔ ” مذاق مت کرو۔ یہ سیریس معاملہ ہے۔ اور ہاں ٹھیک کہا، نکاح خواں کا بندوبست بھی تمہیں ہی کرنا ہے۔ ” دلاور بولا۔ ” دلاور سوچ لو تم آگ سے کھیل رہے ہو۔” میں نے متنبہ کیا۔ ” یار یہ میرے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، میں فروا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔” دلاور نے کہا۔

ابھی یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تھا کہ دوسرے دن ہی دلاور میرے پاس آیا۔ لیکن اس کی حالت ایسی تھی جیسے کسی نے اس کے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔ انتہائی نڈھال اور غم زدہ سا تھا۔ ” وہ چلی گئی میرے دوست! فروا مر گئی ہے۔ پتا چلا ہے کہ اس نے غلطی سے زہریلا کھانا کھا لیا اور اس کی موت ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ ابھی تو اس نے اپنی خوبصورت زندگی کا آغاز کرنا تھا۔ ابھی تو اس کے سارے سپنے ادھورے تھے۔ کیوں آخر کیوں؟

” خود کو سنبھالو دلاور! تمہیں ابھی جینا ہے۔ تم مرد ہو۔ مرنا تو لڑکیوں کو ہوتا ہے۔ کوئی کرنٹ لگنے سے مر جاتی ہے، کوئی زہر خورانی سے مر جاتی ہے، ہاں کوئی جل کر بھی مرتی ہے اور کسی کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن تم کیوں حیران ہو تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہوا۔ بس اتنی سی بات ہے کہ اُس کا بھائی بھی غیرت مند نکلا۔ میرا لہجہ تلخ تھا۔ دلاور پتھر کے بت کی طرح ساکت تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں