آبادی پر کنٹرول کے چند غیر روایتی طریقے


ملک میں آبادی کا سونامی آیا ہوا ہے۔ 1947 میں ساڑھے تین کروڑ سے کم آبادی والا موجودہ پاکستان اس وقت بائیس کروڑ آبادی رکھتا ہے۔ نتیجہ کہ یہ بے شمار بچے نہ صرف پانی کے دشمن بنے ہوئے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے زرعی زمینیں اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے اس سونامی کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایکشن تو جنرل ایوب خان کے دور سے لیا جا رہا ہے لیکن آبادی میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دن والے معاملے کو تو حکومت جوڑوں سے نکاح نامے مانگ کر کسی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے مگر رات والے معاملے میں لبرل اور ملا ہر دو طبقات شور مچا کر حکومتی پلاننگ کو ناکام کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ آبادی پر کنٹرول کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ سوچا جائے۔ ہمارے ذہن میں چند تجاویز آئی ہیں جن پر حکومت، ہیئت مقتدرہ اور چیف جسٹس کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

پہلی تجویز یہ ہے کہ کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی عائد کر دی جائے۔ جو لڑکا بھی ساٹھ سال کی عمر سے پہلے شادی کرے اسے توہینِ عدالت کے جرم میں ساٹھ سال کی عمر تک کے لئے قید کر دیا جائے۔ اسے خود سوچنا چاہیے کہ عدالت عظمی کتنی سنجیدگی اور درد مندی سے آبادی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کم بخت اسے ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ساٹھ سال کی عمر تک یہ نوجوان دل لگا کر اپنا کام دھندا کریں گے اور ساٹھ برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد ہی عشق معشوقی کریں گے جو غالب کی گواہی کے مطابق بندے کو نکما کر دیتی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ بیس تیس سال کی عمر میں ہی یہ نوجوان نکمے ہو کر ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

دوسری طرف لڑکیوں کے لئے شرط لگا دی جائے کہ وہ شادی کے لیے صرف اسی وقت اہل ہو سکتی ہیں جب وہ پی ایچ ڈی کر لیں۔ اس سے ایک تو شرح خواندگی بڑھے گی، اور دوسرے صنعت و حرفت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ آپ خود سوچیں کہ پچاس ساٹھ سال کی لڑکی کو خوبرو دلہن بنانے پر بیوٹی پارلر والوں کو کتنی محنت کرنی پڑے گی اور اس کا کیا خرچہ ہو گا۔

دوسری طرف انتظامی پہلو کو قابو کرنا بھی لازم ہے۔ جو نکاح خواں بھی کم عمر نوجوانوں کا نکاح پڑھائے اسے تاحیات نا اہل قرار دے دیا جائے اور اس پر پابندی عائد کی جائے کہ آئندہ وہ صرف جنازے پڑھائے گا۔

پولیس کو حکم دیا جائے کہ اگر ساٹھ سال سے کم عمر کے کسی نوجوان کے ساتھ کوئی ایسی خاتون دکھائی دے جس سے وہ اتنا بیزار ہو کہ دور سے ہی پتہ چل جائے کہ وہ ازدواجی ذمہ داری کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے، تو اس سے فوراً نکاح نامہ طلب کیا جائے۔ اگر وہ نکاح نامہ دکھا دے تو اسے توہینِ عدالت کے جرم میں قید کر دیا جائے کہ عدالتی مہم کے باوجود کم عمر میں شادی کیوں کی۔ اگر نہ دکھا پائے تو اسے ارتکاب جرم کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار دے کر قید کیا جائے۔

گھریلو فرنٹ پر شوہروں کے لئے یہ لازم کر دیا جائے کہ بچے وہ سنبھالیں گے اور اس کے علاوہ رات کا کھانا پکانا، برتن مانجھنا اور ویک اینڈ پر پورے کنبے کے ہفتے بھر کے کپڑے دھونا ان کے ازدواجی فرائض میں شامل ہو گا اور ان کی بیوی کسی وقت بھی عدالت کے ذریعہ اس وظیفہ زوجیت کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کا ہوم ورک کروانا بھی ان کا فرض ہو گا تاکہ ان کو احساس ہو کہ چند لمحات کی راحت برسوں کے لئے کتنی بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔ وہ بچوں کا یونیفارم بھی دھوئیں اور استری کریں گے اور صبح انہیں تیار کر کے سکول بھیجیں گے۔

آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فون پر نکاح اور طلاق تو ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو رخصتی بھی فون پر ہی کروا دیا کرے۔ دولہا دلہن کو فون پر فیس بک لائیو کے ذریعے دکھا دیا جائے کہ اے لو، تمہارا جیون ساتھی رخصت ہو گیا ہے۔ ہمارے محدود طبی علم کے مطابق فون پر نکاح، طلاق اور رخصتی وغیرہ کرنا آسان ہے مگر اس کے ذریعے آبادی میں اضافہ کرنا کارِ محال ہو گا۔

بعض طبعی ناقد یہ کہیں گے کہ اگر نکاح نہیں ہو گا تو نوجوان عشق معشوقی کے چکر میں پڑیں گے اور معاشرے میں بے راہ روی پھیلے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے نوجوان برتھ کنٹرول کے بارے میں عدالت عظمی سے بھی زیادہ فکرمند رہتے ہیں اور کسی جذباتی غلطی کے سبب کچھ ہو ہوا بھی جائے تو اس کا فوری سدباب کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے تو غیر شادی شدہ لوگوں کو دو بچوں سے زیادہ کا نہ سوچنے کا مشورہ دیا ہے مگر ہمارے علم کے مطابق تو وہ ایک بچہ ہونے کے خوف سے بھی سہمے جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ترقی یافتہ دنیا میں اس کے لئے بھی حل موجود ہے کہ نوجوان عشق کا خیال تک دل میں نہ لائیں۔

اگر دنیا پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ معاشروں میں شرح آبادی منفی ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کی منت خوشامد کرتی ہیں کہ دفتری فرائض کو چھوڑو اور کوئی ایسا دوسرا پیداواری کام کرو کہ ملکی آبادی میں اضافہ ہو سکے لیکن شہری ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔

جاپان میں تو یہ حالت ہے کہ مرد و زن شادی ہونے یا نہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے قریب نہیں پھٹکتے۔ وہ دفتر سے ہی اس قدر تھک ٹوٹ کر آتے ہیں کہ بستر پر گرتے ہی اپنی اپنی سائیڈ پر سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ غالباً جاپان میں سسرال اور میکہ وغیرہ نہیں ہوتا ہو گا جو شادی کے فوراً بعد جوڑے سے پروڈکشن کے روزانہ اعداد و شمار اکٹھے کرنے میں دلچپسی رکھتا ہو۔

عدالت عظمی کو جاپانی ماڈل پر غور کرتے ہوئے حکم دینا چاہیے کہ ہر دفتر میں صبح نو بجے سے لے کر رات آٹھ نو بجے تک شدید جسمانی مشقت کروائی جائے تاکہ وطنِ عزیز میں بھی آبادی کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہو اور لوگ دفتر سے اپنے یا کسی دوسری کے گھر واپسی پر کسی قسم کی فحش حرکات و سکنات میں ملوث ہونے کا سوچیں بھی نا۔

آبادی پر کنٹرول کے لئے روحانیت کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جگہ جگہ درویشوں کے تکیے بنا دیے جائیں۔ ادھر قدیم صوفی نظریات کے مطابق تعلیم دی جائے کہ اعلی روحانی مدارج پانے کے لئے عورت ذات سے دور رہنا چاہیے اور جو بھی کرنے کو من کرتا ہے اس کے لئے دوسری دنیا میں پرفارمنس دکھانے کا انتظار کریں۔ چند معترضین کہیں گے کہ نوجوان اس طرح عورت ذات سے زبردستی دور رہ کر علت مشائخ میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کو خود سوچنا چاہیے کہ علت مشائخ میں خواہ جتنی بھی محنت کی جائے اس طریقے سے آبادی نہیں بڑھتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar