انحطاط پذیر معاشرے میں مذہب کا سیاسی استعمال


\"fakhraیہ تحریر ان اصحاب کے لئے نہیں ہے جو جواب میں میری نتھلی کا اسلامی جواز مانگیں گے۔ یہ تحریر ان کے لئے بھی نہیں ہے جن کا ایمان بات بے بات ٹوٹتا ہے، گویا ایمان نہ ہوا وضو ہی ہو گیا۔ کفر کے فتوے اور گالیوں کی پوٹلی والے بھی اپنا منجن بیچنے کی زحمت نہ کریں۔ مختصر یہ کہ یہ مضمون کوئی کسی کو گن پوائنٹ پر نہیں پڑھوانا چاہتا۔ ہر تحریر ہر آدمی کے لئے نہیں ہوتی، جب ہمیں یہ شعور آجاتا ہے ہم بہت سارے دیگر مفید کام کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

ہم سب واقف ہیں سیاست اور اقتدار کی ہوس کیسے کیسے کھیل کھیلتی اور کھلاتی ہے۔ ابتدا ہی سے سیاست کو سہارا دینے والا سب سے اہم ستون مذہب رہا ہے۔ کلیسا کی بدمعاشیاں ہوں، برصغیر میں بادشاہ گر سید برادران ہوں یا عہد موجود میں مولانا فضل الرحمٰن عفی عنہ وغیرہ کے کردار مثال کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مذہب اور سائنس انسانوں کو متحد کرنے اور انسانوں کی ترقی اور فائدے کے باکمال ذرائع ہیں لیکن افسوس ان دونوں کا استعمال ہی برعکس مقاصد کے لئے کیا گیا۔ مذہب کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال ہی کی بدولت مذہب پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔

اسلام اس لحاظ سے دین فطرت ہے جو جیو اور جینے دو کی عملی شکل پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی اقلیت کو روند ڈالے۔ یہ وہ مذہب ہے جس کے شارع نے خود پر کوڑا پھینکنے والی کی بھی ایسی عیادت اور خدمت کی ہے کہ وہ نہ صرف شرمسار ہوئی بلکہ اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے جدید ترین رہنے اور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ترقی کے راستوں پر گامزن انسانوں کے دل و دماغ کو مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لوگوں کے لئے موعظہ حسنہ اور لا اکراہ فی الدین کا داعی ہے۔

رواداری اور برداشت کے ساتھ بقائے باہمی، زبان اور ہاتھ سے کہیں زیادہ کردار کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھنے والا یہ مذہب سیاست کو اپنے تابع رکھتا ہے تو مدینہ کی مثالی ریاست قائم ہوتی ہے۔ اور اسی مذہب کو جب سیاست اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے اور اس کے کرتا دھرتا جب ولا تشترو بآیات اللہ ثمنا قلیلا کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر کچھ ایسی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو میری آج کی بات کا اختتامی پیرا گراف ہیں۔ اب ہمارے ہاں انسانیت کی بات نہیں ہوتی، انسانی حقوق کا تذکرہ نہیں ہوتا البتہ خونریزی اور فساد کے حق میں بہت سے جواز نکال لئے جاتے ہیں۔ جنت کا حصول لوگوں کی خدمت اور ان سے محبت کی بجائے ان کی تکلیف یا موت میں رکھ دیا گیا ہے۔

\”ہاؤ ڈیئر یو حمزہ\” نامی مضمون میں میں نے بین السطور ایک رویے کے خلاف آواز اٹھائی تو احباب نے اسے میری اخلاقی بزدلی سمجھا۔ جناب یہ مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ مذہب یا عقیدے کا معاملہ حساس ترین ہوتا ہے، خاص طور پر جس معاشرے میں انحطاط اپنی حد کو پہنچ چکا ہو، افراد معاشرہ کے پاس واحد سہارا مذہب رہ جاتا ہے اور وہ اس کی کسی بھی صحیح یا غلط شکل کی بحث میں پڑے بغیر اس کے لئے لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم بھی اسی معاشرے کے افراد ہیں جو مذہب پر عمل کرنے میں تو مستعد نہیں لیکن اس کے نام پر جان لینے کو باعث بخشش تسلیم کرتے ہیں۔ چند مفاد پرستوں کی وجہ سے مذہب ضابطہ حیات کم اور ضابطہ تعزیرات اور فتاوی کفر کا وسیلہ زیادہ بن گیا ہے۔ ہمارے ہاں دلیل کا جواب گالی، گولی، فتویٰ، پابندی قتل ،غرض کہ سب کچھ ہے، دلیل نہیں ہے۔

ہمارا وتیرہ رہا ہے کہ بنام اسلام اس ملک میں اقلیتوں ( ہندو، عیسائی وغیرہ) پر ظلم ہوتے رہے ہیں۔ احمدی بھی حکومت پاکستان کی متفق علیہ اعلان کردہ اقلیتی جماعت ہیں، لیکن عام آدمی کے دل میں ان کے خلاف کافی نفرت ڈال دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی اقلیت پر ظلم ہو، ہم کھلے عام اور علی الاعلان اس کے خلاف اقلیتی بھائیوں سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن احمدیوں کے ساتھ جب بھی مذہبی عدم رواداری کی بدولت کوئی حادثہ یا ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو میرے سمیت ہر مسلمان کہیں نہ کہیں اسے ان کی واجب سزا سمجھتا ہے۔ ہمارے دل میں اس کے خلاف کوئی خاص جذبہ پیدا نہیں ہوتا نہ ہی ہم میں سے کوئی اس کی کھلی مذمت کرتے ہوئے \”اقلیتی بھائیوں \” سے اظار ہمدردی کرتا یا ان کے ساتھ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ یاد رہے کہ رحمت، رحم اور عفو وہ خصوصیات ہیں جو ہمارے رب اور اس کے محبوبﷺ دونوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں، یعنی ان میں تخصیص نہیں للعالمین جیسی عمومیت ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں ہم اپنے رسولﷺ کی سیرت کے ان پہلوؤں پر غور اور عمل کرنے کا نہیں سوچتے۔ بہت سی باتیں متنازع اور مبہم ہیں لیکن اس حقیقت کو درست مان بھی لیا جائے تو اسوہ حسنہ ﷺ کے مطابق لکم دینکم ولی دین کا راستہ کھلا ہے ہی نا۔

بات شروع کی تھی تو چند امثال کا تذکرہ مضمون کے اختتام تک چھوڑا تھا۔ سیاست کے کھیل میں قیام پاکستان کے بعد کی چند امثال اور پھر اجازت۔ شیخ الاسلام کے دھرنے میں واقعہ کربلا اور مذہب کے حوالے، قرانی آیات کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال، عمران خان کا طالبان کے حق میں رویہ، شریف خاندان اور آل سعود، بے نظیر سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک تسبیح کی نمائش، ضیاء الحق اور مولانا فضل الرحمن کا انقلاب، اسلامی تعزیرات، ایوب خان کی حمایت میں فاطمہ جناح کے خلاف فتوے، سقوط ڈھاکہ کے بعد کے پر آشوب عہد میں 1973 کے آئین کی منظوری اور بھٹو جیسے لبرل اور سیکولر لیڈر کی ثواب دارین حاصل کرنے کی کوششیں۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔ افلا تتفکرون۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “انحطاط پذیر معاشرے میں مذہب کا سیاسی استعمال

  • 24-06-2016 at 12:23 pm
    Permalink

    مذہب پر عمل پیراء ہمہ شمہ کے علاوہ اکثریت کے نزدیک مذہب شاید محض گروہ بندی اور غیر منطقی بحث و مباحثہ کے لیئے رہ گیا ہے، ایسا مباحثہ جس کا کوئی تعمیری مقصد کیا ہوگا جب اکثریت علم و عمل سے کوسوں دور ہو بس یہ بھی ایک تفریحی عنصر بن گیا ہے یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیئے کہ انا مومن الاعلیٰ۔ البتہ دلیل پر بات کرنے والے مخلصین کے لیئے موؤدبانہ عرض ہے کہ دلیل صرف اہل دلیل سے ہی مانگی جائے، یوں سرے بازار ہر راہ چلتے سے دلیل مانگے گے تو ہر شخص اپنی ذہنی استعداد کے مطابق ہی جواب دے گا۔ یہ بتانے کی اب شائد ضرورت نہیں کہ اس صورت میں قصور جواب دینے والے کا ہے یا دلیل مانگنے والے کا

Comments are closed.