کیا ہم موت کے تماش بین ہیں؟


\"asif-farrukhi_1\" بھر دے جھولی، در سے تیرے نہ جاؤں گا خالی، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میرا دوست اپنے فیس بک پر قوالی کے یہ بول بار بار اپنے اسٹیٹس کے طور پر کیوں لگائے جارہا ہے۔

میں نے یہ قوالی شام گئے تک نہیں سُنی۔ پھر جب سننا شروع کی تو مجھ سے سُنا نہیں گیا۔

کل شام سے جن لوگوں کے تاثرات میں سُن رہا ہوں وہ امجد صابری نہ قوالی، دونوں میں سے کسی کے اس درجے عقیدت مند نہیں ہیں کہ ان کا ماتم کرنے لگیں۔ میں خود بھی اس طرف ذرا دیر سے آیا۔ لیکن وہ آوازیں تو کان میں پڑتی آئی تھیں۔

بھر دے جھولی اور تاجدار حرم، یہ قوالیاں آوازوں کے اس خزینے کا حصّہ تھیں جو ہماری سماعت کا حصّہ خودبخود ان دنوں بن گیا جب بچپن کے دن رخصت ہونے لگے۔ یاد نہیں آتا کہ کبھی ان قوالیوں کو التزام کے ساتھ خاص طور پر بیٹھ کر سُنا ہو۔ مگر یہ پھر بھی فضاؤں میں گونج رہی تھیں اور چُپکے چُپکے نہ جانے کیسے دل میں اُتر کر مانوس بن جاتیں۔

بعض قوالیاں تو نوجوانی کی اداسی کو جیسے زبان عطا کر دیتی تھیں__ میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا۔۔۔ کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم ۔۔۔ یا پھر بیچ میں بندش آجاتی، نہ کاہے لیہو لگائے چھتیاں۔۔۔

\"Amjad-Sabri\"اسی زمانے میں قوالی کی محفلوں سے اپنے والد کی دل چسپی دیکھی اور اسے تصوّف سے ان کی وابستگی کا شاخسانہ جانا۔ پھر جب آوازوں کے تعاقب میں سفر شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ امیر خسروؒ کے بنا کردہ اور دہلی میں سات سو سال پہلے قائم شدہ قوال بچّہ گھرانے کی بدولت قوالی کا دوبارہ احیاء ہوا ہے اور وہ بھی اس انداز سے کہ یہ اس ستم زدہ شہر کراچی کی برہم تخلیقی فضا کا ایک حیرت انگیز عنصر بن گیا، جس کی نمائندگی ایاز فرید و ابومحمد اور پھر استاد نصیر الدین سامی کے فرزندان جو سامی برادران کے نام سے معروف ہیں، بڑے بھرپور انداز سے کررہے ہیں۔

سماع کی اس روح پرور رم جھم میں امجد صابری مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پاپ موسیقی سے سر ملاتے اور شو بزنس کے مطالبات سے کچھ زیادہ قریب محسوس ہوئے۔ دوچار ملاقاتیں بھی ہوئیں مگر یہ سب کہنے سُننے کا موقع کہاں ملا۔ جدید سازوں والی موسیقی سے آنکھیں لڑانا یا ٹیلی ویژن کے طویل، بے ہنگم پروگراموں کا پیٹ بھرنے کے لیے آمادہ ہو جانا کوئی ایسا جرم تو نہیں کہ اس کی پاداش میں قتل کا حکم جاری کر دیا جائے۔ اسے گایا تو قوالی میں بھی گیا ہے مگر بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل مجھے اس وقت مہدی حسن کی آواز میں یوں یاد آرہی ہے جیسے دل آہستہ آہستہ لہو سے بھرتا جارہا ہے۔۔۔

چشم قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

\"weil2\"نعتوں، غزلوں اور قوالیوں کی مختلف بندشوں کو دیوانہ وار ری وائنڈ کیے چلا رہا ہوں جیسے یہی میرا ردعمل ہے۔ یہ چند الفاظ بہرحال میرا ردعمل نہیں بلکہ اس ردعمل کا ردعمل ہیں جو امجد صابری کے خون ناحق کے بعد سے ظاہر ہونا شروع ہوا ہے۔

خاک پر بہہ جانے والے خون کے قطرے ٹپک ہی رہے ہوں گے کہ مختلف بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایسا لگتا ہے یہ سرکاری گدھ اس انتظار میں منڈلاتے رہتے ہیں کہ ذرا موقع ملے اور وہ ایسے بیانات کی یورش کردیں جو سننے میں بارعب معلوم ہوں اور معنی سے بالکل عاری ہوں۔ ایک سیاسی جماعت نے کہا وہ ہمارے کارکنوں کی طرح تھے، کسی اور نے کہا دراصل وہ ہمارے موقف سے بہت ہمدردی رکھتے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں ان کی زندگی میں کیوں نہ کہی گئیں؟ ان کی وفاداریاں جتانے کے لیے دُنیا سے گزر جانے کی نوبت کیوں آنے دی گئی؟ پھر وہی گھسے پٹے فقرے جو کثرتِ استعمال سے معنی کھوچکے ہیں اور ان کے ادا کرنے والوں کو کسی ذہنی کاوش کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی۔۔۔ ذرا دیر میں دوسرے ملکوں سے (جہاں سے ان دنوں حکومت کی کارکردگی چلائی جا رہی ہے) ٹیلی فون اور ٹوئٹ پر وہ مانوس، بہت دیکھے بھالے پیغامات آنے لگے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب بیانات جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت مشینی طور پر آتے ہیں۔ اپنے الفاظ سے بھی یہ کوئی انسانی سرگرمی نہیں معلوم ہوتے۔ کسی نے ان کے خاندان کی خدمات اور قربانیوں کی داد دی، کسی نے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے ’’اس واقعے کا سخت نوٹس‘‘ لے لیا، اس کا جو بھی مطلب نکلتا ہو۔ شاید یہی کہ چند دنوں کے مناسب وقفے کے بعد اسے داخلِ دفتر کر دیا جائے گا۔ ایک اور صاحب نے فرمایا کہ بہت جلد ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔ دور کی کوڑی لانے والے ایک صاحب نے اسے سندھ کا امن وامان تباہ کرنے کی غرض سے سندھ حکومت کے خلاف منظم سازش قرار دیا۔ گھن گرج والے الفاظ کا گرد وغبار چھٹ جائے تو کوئی ان سے پوچھے کہ یہ ماجرا کیا ہے کہ سازش منظم ہے اور حکومت محض واویلا مچا رہی ہے۔ کیا حکومت کی نااہلی اور ناکردہ کاری سے بڑھ کر سندھ کے خلاف کوئی سازش ہوسکتی ہے۔

\"sontag-trimmed\"سب سے آخر میں ٹیپ کا بند کہ فلاں بڑے صاحب نے لواحقین سے اظہار ہم دردی کیا۔ سوگواری کی یہ نئی رسم چلی ہے۔میرا بھی جی چاہتا ہے کہ مرحوم سے بڑھ کر ان بڑے صاحب کے لواحقین سے ہم دردی کروں۔ ان کے لواحقین یعنی پاکستان کے شہری۔

سرکاری کارندوں کو تو ان کے حال پر چھوڑیے کہ وہ مارکیز کے الفاظ میں ’’ایک پیش گفتہ موت‘‘ کی روک تھام کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ اس سے زیادہ تکلیف مجھے ان تصویروں سے ہوئی ہے جو کسی نے موقع سے پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت منجھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ برق رفتاری سے کھینچیں اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیں کہ جو رہ گئے ہیں وہ بھی دیکھ لیں۔ اس عمل میں تیزی، مہارت اور رسائی کا دخل زیادہ ہوتا ہے اور کسی اخلاقی ذمہ داری کی طرف خیال بھی نہیں جانے پاتا۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ ویڈیو جس میں گاڑی کی ونڈ اسکرین کے کرچی کرچی ہونے والے شیشے اور سیٹ پر ڈھلکتے ہوئے لاشے سے بہنے والے خون کی روانی کو عکس بند کرلیا گیا ہے۔

بڑی بے رحمی کے ساتھ یہ وڈیو جاری ہوا اور تیزی کے ساتھ شیئر ہونے لگا کہ ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ جائے۔

اس ویڈیو کی مسلسل پوسٹنگ سے خائف ہو کر میں نے اعتراض درج کرایا تو مجھے یاد آیا کہ دوسروں کا درد دیکھنے والوں کے لیے بعض دفعہ تماشا بن جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے عروج کے دنوں میں فرانسیسی دانش ور سیمونے ویئل (Simone Weil) نے ہومر کی رزمیہ نظام ایلیڈ کے حوالے سے لکھا تھا کہ جو کوئی بھی تشدد سے گزرتا ہے، تشدد اسے محض اے ’’شے‘‘ بنا کر رکھ دیتا ہے۔ تشدد کے مسلسل عمل سے گزرتے ہوئے کراچی کے شہری اس طرح کی شے بنتے جارہے ہیں۔ حس و خبر سے عاری، میکانیکی عمل پر مائل۔ مجھے یاد آیا کہ یہ فقرہ میں نے سوزن سونٹیگ کی بہت وقیع کتاب ’’دوسروں کے درد کے بارے میں‘‘ میں پڑھا تھا۔ جنگی تباہی کی تصویروں کی سرعام نمائش کو جدید دنیا کے مزاج کا خصوصی حصّہ قرار دیتے ہوئے اس نے افلاطون کا حوالہ دیا تھا اور لکھا تھا کہ ہمارے اندر درد، \"sontag\"ستم، قتل وغارت گری کے نظاروں کے لیے ایک خواہش سی بلکہ بھوک موجود ہے۔

ایسی تصویروں کو دیکھ کر دوسروں کے لیے آگے بڑھاتے ہوئے ہم خود کیا سے کیا بن جاتے ہیں۔ کو اس طرح ’’استعمال‘‘ کررہے ہیں جیسے کسی نئی متعارف ’’پروڈکٹ‘‘ کو بازار سے خرید کر لارہے ہیں اور اسے برت رہے ہیں۔ اب موت کی طرف دُز دیدہ نگاہوں سے اس طرح جھانک رہے ہیں جیسے کوئی لذّت بھرا، شہوت انگریز نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہو۔ اور وہ بھی بالکل مفت۔

پہلے ہم موت کے صارفین بن گئے تھے، اب ترقی کرکے موت کے تماش بین بن رہے ہیں۔

آئیے، خون اچھالیں، ترقّی کا جشن منائیں!

امجد صابری کی آواز گونج رہی ہے۔۔۔ ’’حامیِ بیکساں، کیا کہے گا جہاں۔۔۔‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “کیا ہم موت کے تماش بین ہیں؟

  • 24-06-2016 at 9:20 am
    Permalink

    I understand the pain and anguish at such a loss which continues a long list of murders to challenge us as a society – Asif does put a blanket blame on the of government however it is more than just their failure its a failure of all of us and more so of the people of Karachi with others collaborating by their persisting silence

Comments are closed.