عمران خان کو سو دن اور دے دیں: نواز شریف


”عمران حکومت کے سو دن پورے ہو گئے کیا کہیں گے؟ “۔ ”سو دن اور دے دیں“ یہ الفاظ مملکت خداد داد پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے ہیں جو انھوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہے۔

احتساب عدالت میں میاں نواز شریف آج لگ بھگ 125 ویں پیشی بھگت رہے تھے کورٹ رپورٹننگ کرتے ہوئے مجھے بھی ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے اسی بلڈنگ میں پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں موجودہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ریاست عارف علوی کا بھی کیس ہے دونوں صاحبان عہدے سنبھالنے سے قبل دو، دو مرتبہ عدات میں پیش ہوئے وہ پہلے لاڈلے تھے اب تو آئین انھیں استثنیٰ دیتا ہے۔

ایون فلیڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف نے جارحانہ رویہ اپنا رکھا تھا روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے اپنی گفتگو میں وہ ان تمام چیزوں کی نشاندہی کرتے جو سول حکمرانوں کی راہ میں رکاوٹ ہوتی سول ملڑی تعلقات پر بھی کھل کر بات کرتے۔

ایون فلیڈ ریفرنس میں سزا اور اپنی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کی وفات کے بعد وہ زیادہ وقت خاموشی میں گزارتے ہیں میں نے ان کے سٹاف افسر شکیل اعوان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ میاں نواز شریف صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا کم کھانے لگے ہیں۔ شام پانچ بجے وہ ڈنر کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔

لوگوں سے ملاقات بھی کم کر دی ہے۔ میں نے گزرے روز میاں نواز سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ مہر بہ لب ہیں، آپ کی خاموشی سے لیگی کارکنان اضطراب کا شکار ہیں؟ انھوں نے میری جانب بغور دیکھا مسکرائے اور کہا ابھی وقت نہیں ہے۔

العزیزیہ کے بعد فلیگ شپ ریفرنس بھی آخری مراحل میں ہے سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی مدت دس دسمبر ہے اور غالب امکان ہے کہ سات آٹھ دسمبر تک فیصلہ آ جائے گا۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب جج ارشد ملک کر رہے ہیں جبکہ ایون فلیڈ ریفرنس کی سماعت احتساب جج محمد بشیر نے کی تھی۔ دونوں ججز صاحبان کے مزاج میں بھی فرق ہے۔ محمد بشیر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل کورٹ روم سے متصل کمرے میں چلے جاتے تھے جبکہ ارشد ملک کرسی انصاف پر بیٹھے بیٹھے فیصلہ سنا دیتے ہیں یہ کہانی پھر سہی۔

گزشتہ روز سماعت کے موقع پر میاں نواز شریف زیادہ دیر سوئے رہے۔ کمرہ عدالت میں محمود اچکزئی ان سے ملنے کے لیے آئے تو مشاہد حسین سید نے میاں نواز شریف کو جگا کر محمود اچکزئی کی آمد کی اطلاع دی۔

سماعت ختم ہونے کے بعد تخیل میں دونوں رہنماؤں کی پندرہ منٹ تک گفت و شنید ہوئی تجسس بڑھا کہ خبر نکالوں تو یہ جان پایا کہ میاں نواز شریف عمران حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انھیں جتنا وقت ملے گا یہ اتنی ہی غلطیاں کریں گے اور ان غلطیوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے پھر ان کے پاس فرار کا راستہ نہیں بچے گا۔

سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کے دوران سوال کیا تو جج ارشد ملک کی حس ظرافت پھڑکی۔ وہ خواجہ حارث سے مخاطب ہوئے اور بولے ”یہ بی بی سی اردو ہے خبروں کے ساتھ حاضر ہیں خواجہ حارث“ اس پر کمرہ عدالت کشت زعفران بن گئی۔

میاں نواز شریف کمرہ عدالت میں سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی سے بھی مستقبل کے حوالے سے مشاورت کرتے رہے۔ مشاورت میں بزرگ سیاست دان راجہ ظفرالحق بھی موجود رہے۔

جیسے جیسے فیصلے گھڑی قریب آتی جا رہی ہے احتساب عدالت میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں سردار ممتاز، سئینٹر چوہدری تنویر، سئینٹر جاوید عباسی، سیلم ضیاء، راجہ ظفرالحق، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ظفر اقبال جھگڑا، پرویز رشید، سجاد خان، طارق فاطمی، زیب جعفر، ایم این اے طاہرہ اورنگزیب، میاں جاوید لطیف، زہروہ ودود فاطمی، ناصر بٹ اور دیگر موجود تھے۔ ان میں سے اکثر روزانہ کی بنیادوں پر میاں نواز شریف کے ساتھ ہر پیشی پر حاضر ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 7 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui