امجد صابری۔۔۔  محبت کا قتل


\"kaleem\"میں اس وقت دفتر میں ایک میٹنگ میں موجود تھا جب کراچی سے یہ خبر آئی کہ امجد صابری فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ افسردگی کے عالم میں کراچی کے کچھ دوستو ں سے بات کی تو دل بجھ سا گیا۔ دل سے دعا نکلی کہ پروردگار میرے خدشات غلط ثابت کردے لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ ایک وقت مقرر ہے جس کی حکمت صرف اوپر والا ہی جانتا ہے چند منٹ میں اس خبر کی تصدیق ہوگئی کہ امجد صابری اب ہم میں نہیں رہے۔ میوزک سے لگاؤ اور صوفیا کی ارادت مندی کے سبب مجھے قوالی سے ایک خاص انس ہے۔ ہڈیوں کو جما دینے والی سردی کی راتو ں کے پچھلے پہراندھیرے میں لگائی گئی آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر صوفیانہ کلام سننے سے جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ نصرت فتح علی خان، عزیز میاں، شیر علی، مہر علی، قاری سعید چشتی، امجد کے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول صابری ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنی ریاضت کے سبب قوالی کے فن کو ایسا عروج بخشا کہ اردو، فارسی یا پنجابی زبانوں میں صوفیانہ کلام کو نہ سمجھنے والے گورے بھی جب قوالی سنتے تو ان پر وجد انی کیفیت طاری ہوجاتی۔ برصغیر پاک و ہند میں قوالی نہ صرف صوفیا نہ کلام کے فروغ کا باعث بنی ہے بلکہ اسلام کی اشاعت میں بھی قوالی کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔

 قوال چاہے دنیا بھر میں پہنچانا جائے یا اس کی مقبولیت کا گراف کم ہو لیکن ان میں ایک رویہ یکساں ہوتا ہے کہ وہ اپنے فن کا مظاہر ہ ہر اس جگہ کرنے پر تیار ہوتے ہیں جہاں ان کو عزت سے بلایا جائے۔ صوفیا کے مزارات کے گدی نشین، میرے جیسے دنیا دار اور بعض اوقات اچھی شہرت نہ رکھنے والے افراد بھی قوالی کا اہتمام کرتے ہیں لیکن دنیا شاہد ہے کہ قوالی کے اہتمام میں کبھی کسی قوال نے کسی کو انکار نہیں کیا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ قوالی کا بنیادی فلسفہ صوفیانہ تعلیمات کے تحت معاشرے میں باہمی احترام اور محبت کا فروغ ہے کیونکہ صوفیا کا مذہب مخلوق سے محبت سے سوا کچھ نہیں۔ آپ کبھی غور کیجئے گا قوالوں کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی انکساری اور خوش اخلاقی پائی جاتی ہے میرا خیال ہے ان کی طبیعت میں یہ خوش اخلاقی صوفیا کی صحبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے دیکھا جائے تو صوفیانہ کلام پیش کرنے والے قوال محبت کے سفیر ہوتے ہیں۔ آپ میں سے کسی کا اگر امجد سے تعلق رہا ہے تو وہ اچھی طرح جانتا ہوگا امجد صابری اپنے اجداد کی طرح ایک شائستہ انسان تھے۔ لیکن شاید اس دور میں ان جیسے شائستہ انسانوں اور محبت کے سفیروں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ا یک دوست نے امجد صابری کی ان کے بچوں کے ساتھ کچھ تصاویر بھیجی ہیں۔ ایک تصویر میں امجد اپنی دو بیٹیوں کے درمیان بیٹھے ہیں اور بچیاں فرط محبت سے ان کے ساتھ لپٹی جار ہی ہیں۔ افسوس اس معاشرے میں بسنے والے چند درندوں نے امجد صابری کی بیٹیوں کو یتیم کر دیا۔ ایک لمحے کو مجھے لگا جیسے خود میری بیٹیا ں یتیم ہو گئی ہوں، امجد صابری کے کم سن بیٹے کے آنسو مجھے اپنی اولاد کے آنسوؤں کا درد سمجھا گئے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم امجد صابری کے اہل خانہ کے درد کی شدت کو محسوس کر ہی نہیں سکتے۔ نقصان صرف امجد کے اہل خانہ کا ہوا، امجد کے بچوں کا ہوا، جو اس بے رحم دنیا میں بے آسرا ہو چکے ہیں، نقصان ہوا ہے تو اس سہاگن کا جس نے دعاؤں کے سائے میں اسے گھر سے رخصت کیا ہوگا لیکن اب وہ خود حالات کی بے رحم اور کڑی دھوپ میں سائے سے محروم ہو چکی ہے، امجد صابری کی ماں زندہ درگور ہو چکی ہوگی جسے اپنے کڑیل جوان بیٹے کا لاشہ دیکھنے کی سزا ملی۔ اس کی بوڑھی آنکھیں سوال کرتی ہیں کہ اس نے اپنے بیٹے کی صورت میں پاکستان کو جو کچھ دیا اس کے بدلے میں اسے کیا ملا؟

\"Amjad-Sabriحقیقت یہ ہے کہ کل کوئی اور بریکنگ نیوز آئے گی اور یہ بے رحم اوربے حس معاشرہ امجد صابری کی قبر کی مٹی خشک ہونے سے پہلے اسے بھول جائے گا۔ امجد صابری کی موت نے دکھ کی جو فضا پید ا کی وہ سوا ہو گئی! جب میں نے دیکھا کہ بریکنگ نیوز کے بھوکے اس معاشرے میں ہر بندہ یہ دوڑ جیتنے کے لئے مرا جا رہا ہے کہ وہ سب سے پہلے امجد کی خون میں لت پت لاش کی تصویریں یا فوٹیج بنا کر یا کہیں سے کاپی کر کے ”حملے کے فوراَ بعد کے مناظر“ فیس بک، ٹوئٹر یا واٹس ایپ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلا دے۔ ایک فوٹیج میں حملے کے بعد جمع ہونے والے افراد کی آوازیں سنیں تو ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ کوئی انسان قتل ہوگیا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ یہ تصاویر اور مناظر امجد صابری کے بیوی بچوں، بہن بھائیوں اور دوسرے اہلخانہ کے دکھ کو ایک انتہا درجے کی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیں گے۔ ہمت کر کے میں نے فیس بک پر اپنے دوستوں سے گزارش کی کہ وہ اس سلسلے کو روکیں، اور ایک خوش شکل انسان کی خوش نما تصاویر کو استعمال کریں۔ مقام شکر ہے کہ اس معاشرے میں ابھی بات کو سننے اور سمجھنے والے لوگ موجود ہیں کیونکہ دو چار گھنٹوں میں کم از کم میری یا میرے دوستوں کی فیس بک وال سے خون میں لت پت امجد صابری کی تصاویر اور فوٹیج ہٹا لی گئیں۔ لیکن اب ایک نیا تماشا شروع ہوچکا ہے کہ ایک غیر متعلق تصویر کو بغیر کسی تحقیق کے امجد صابری کے قاتلوں کی تصویر بتا کر پھیلایا جارہا ہے۔ سفاکیت کی حدوں کو چھوتی جہالت اور شعور کی کمی ہمیں اس مرحلے پر لے آئی ہے کہ ہم لاشوں سے بھی کھیلنے لگ گئے ہیں۔ امجد کو ابھی خا ک نصیب نہیں ہوئی تھی کہ وقت سحر برادرم سبوخ سید کی طرف سے اطلاع ملی کی ایک کالم نگار نے ”پکی خبر“ دی ہے کہ امجد صابری کو پنجتنی اور مولا علیؓ والی قوالی پڑھنے پر قتل کیا گیا۔ دوسری طرف ایم کیوایم اور پاک سرزمین پارٹی کے بیانات ہیں جو اپنا سیاسی چورن بیچنے کی گھٹیا حرکت کے علاوہ کچھ نہیں۔ افسوس اور تعزیت کے ساتھ ساتھ مذمتوں کا بھی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، کاش یہ ”مذمتی مافیا“ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا تو آج ہم امجد صابری کا ماتم نہ کر رہے ہوتے۔ چشم تصور سے میں دیکھ رہا ہوں کہ اس سارے بکھیڑے سے دور عالم اعراف میں پہنچنے والا امجد صابری خون میں لت پت خالق کائنات کے حضوراپنے قتل کا حساب مانگ رہا ہے۔ امجد صابری کی زندگی میں ایک برا وقت بھی آیا تھا جب ایک ٹی وی چینل پر اس کے منقبت پڑھنے کے دوران ایک کم علم اینکر کی حرکت سے وہ سارا پروگرام توہین مذہب کے زمرے میں آ گیا۔ شائد صوفیا کی دعاؤں کا ہی اثر تھا کہ امجد اس تنازعے سے بچ نکلا، لیکن وہ اس اندھی گولی سے نہ بچ سکا جس نے محبت میں گندھی زبان والے امن کے سفیروں کے گھروں کی راہ دیکھ لی ہے۔ بلاشبہ یہ قتل صرف امجد صابری کا قتل نہیں، محبت کے ایک سفیر کا قتل ہے، محبت کا قتل ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔