ٹیلی فون


انور عکاوی (لبنان) مصنف :
مترجم : مسعود صابر

جن دنوں میں صیدون کے مشرق میں ایک بلند مگر خشک پہاڑی علاقے میں واقع ’مغدلونہ‘ نامی ایک چھوٹے سے لبنانی گاؤں میں بڑا ہو رہا تھا تو ’وقت‘ کی کسی کے لیے کوئئی خاص اہمیت نہ تھی ما سوائے ان لوگوں کے جو قریب المرگ ہوتے تھے یا پھر وہ جو کسی عدالت کے باہر حاضری کے لیے انتظار کر رہے ہوتے تھے کیوں کہ انہوں نے کہیں زمین پر حد بندی کے نشانات کی خلاف ورزی کی ہوتی تھی۔

اس زمانے میں واقعتا گھنٹوں دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب رکھنے کے لیے کسی گھڑی یا کیلنڈر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ ہم نے کون سا کام کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے عراقی مرغابیوں کو پتہ ہوتا تھا کہ انہوں نے کب شمال کو پروازکرنی ہے کیونکہ صحرا سے اٹھنے والی گرم ہوا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یا پھر بھیڑوں کو یہ علم ہوتا تھا کہ انہوں نے کب اپنے گیلے گیلے میمنوں کو جنم دینا ہے جو مارچ کی سخت سرد ہوا میں اپنی کانپتی ہوئی کمزور ٹانگوں پر بمشکل کھڑے ہوتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں آگئے ہیں اور اگر آ ہی گئے ہیں تو انہیں اب کیا کرنا ہے۔

وہ واحد گھڑیال جس کی ہمیں ان دنوں میں حقیقتاً ضرورت ہوتی تھی وہ سورج تھا۔ یہ روزانہ ابھرتا اور ڈوب جاتا تھا اور موسم گزرتے رہتے تھے۔ ہم بیج بوتے فصل کاٹتے کھانا کھاتے کھیل تماشے کرتے اپنی عم زادوں سے شادیاں کرتے اور بچے پیدا کرتے جن کو کالی کھانسی اور چیچک جیسی بیماریاں لگتی تھیں۔ پھر ان میں سے جو بچ جاتے وہ آگے اپنی عم زادوں سے شادیاں کرتے اور بچے پیدا کرتے جن کو کالی کھانسی اور چیچک جیسی بیماریاں لگتی تھیں۔ ہم لوگ یونہی زندگی جیتے محبت کرتے محنت کرتے اور مر جاتے تھے۔ کبھی بھی یہ جاننے کی ضرورت محسوس کیے بغیر کہ یہ کون سا سال یا پھر دن کا کون سا حصہ ہے۔

ایسا نہیں کہ ہمارے پاس وقت یا زندگی کے اہم واقعات کا حساب رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا بلکہ ہمارا کیلنڈر تو الہی کیلنڈر تھا کیونکہ یہ خدا کے کیے ہوئے کاموں سے عبارت ہوتا تھا۔ خدا خود ہی ہماری زندگیوں میں سنگ میل نصب کرتاچلا جاتا تھا کبھی زلزلے کی شکل میں کبھی سیلاب تو کبھی کسی وبا یا پھر فصل پر کیڑوں کے حملے کی صورت میں۔ اور ہمارا یہ سادہ سا کیلنڈر ہمیں خوب کام دیتا تھا۔

مثال کے طور پر طیطا ام خلیل کی تاریخ پیدائش ہی کو لے لیجیے۔ وہ مغدلونہ اور تمام نواحی دیہات میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ خاتون تھی۔ میں اس سے پہلی بار تب ملا تھا جب بڑی جنگ کے اختتام پر ہم لوگ شام سے لوٹے تھے اور دادی مریم کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ام خلیل میرے والد کو ان کی واپسی پر خوش آمدید کہنے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی غیر ملک میں پیدا ہونے والی بیوی یعنی میری ماں کو گہری ناقدانہ نظروں سے دیکھنے آئی تھی۔

ام خلیل اس وقت بھی اتنی بوڑھی تھی کہ اس کے گال میرے والد کی گہرے رنگ کی تمباکو والی تھیلی جیسے لگتے تھے۔ جب میں نے دادی مریم کے کہنے پر اس کے گال کا بوسہ لیا (دادی مصر تھی کہ میں اس کی دوست کے ساتھ اظہار خلوص کروں ) تو مجھے یوں لگا تھا جیسے میں نے موٹے کپڑے کے ایک ایسے دستانے کو چوم لیا تھا جو پسینے میں گیلا ہونے کی بعد ایک مدت تک الماری میں بند پڑا رہا ہو۔ ام خلیل نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اس طرح کی ہیئت اور ذائقہ آدمی کو کتنا بوڑھا ہو کر حاصل ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی ام خلیل لاٹھی ٹیکتی اور لڑکھڑاتی ہوئی اپنے گھر روانہ ہوئی تو میں نے دادی سے پوچھا:

’دادی دادی۔ ام خلیل کتنی بوڑھی ہو گی َ؟ ‘

دادی کو اس سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ دیر سوچنا پڑا۔ اس نے کہا

’جہاں تک مجھے علم ہے۔ طیطا اس بڑی برف باری کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ جس میں سرپنچ کے گھر کی چھت بیٹھ گئی تھی۔ ‘

’اور یہ کب ہوا تھا؟ ‘ میں نے پوچھا۔

’یہ اس سال ہوا تھا جب زلزلے کی وجہ سے مشرقی کمرے کی دیوارمیں شگاف آ گیا تھا۔ ‘ دادی نے بتایا۔

’اوریہ کب ہوا تھا‘ میں نے پوچھا۔

’ یہ۔ اس وقت ہوا تھا جب بڑے زلزلے کی وجہ سے مشرقی کمرے کی دیوار میں شگاف آ گیا تھا‘

میرے لیے اتنا ہی کافی تھا اور اس سے زیادہ صحیح جواب بھلا ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اس جواب سے مطمئن ہو کر میں اٹھا اور اس گیند سے کھیلنے لگ گیا جو ایک پرانی جراب میں بہت سی دوسری پرانی جرابیں ٹھونس کر بنایا گیا تھا۔

یمارے اس چھوٹے سے گاؤں میں یونہی ہوتا تھا اور لوگ پچھلی باتوں کو بس اسی طرح یاد رکھتے تھے کہ کوئی کسی زلزلے یا سیلاب سے اتنے سال پہلے یا بعد پیدا ہوا تھا یا فلاں کی شادی یا موت خشک سالی یا شدید برف باری یا اسی طرح کی کسی اور قدرتی آفت سے اتنے سال پہلے یا بعد ہوئی تھی۔ ان تمام تاریخوں میں جو تاریخ سب سے زیادہ غیر معمولی تھی وہ درزن انطونی اور سعید حجام (جوکہ دانت اکھاڑنے کا کام بھی کرتا تھا) کی شادی کی تاریخ تھی۔

یہی سال تھا جس میں ایک طوفان کے بعد آسمان سے سنگترے اور مچھلیاں برسی تھیں۔ یہ بات آپ کے لیے کتنی بھی ناقابل یقین ہو بہرحال سچ تھی کیوں کہ اسے گاؤں کے دو بڑے معزز لوگوں نے بیان کیا تھا۔ ان میں سے ایک ابو جارج لوہارتھا اور دوسرا ابو سعد جو کہ خچروں کی حجامت بنانے کے پیشے سے وابستہ تھا۔ یہ دوں وں ایسے لوگ تھے جو کبھی اپنی جان بچانے کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ یہ کہانی انھوں نے اتنی بار سنائی اور دہرائی تھی کہ یہ مغدلونہ کے کیلنڈر میں ہمیشہ کے لئے درج ہو گئی تھی بالکل ویسے ہی جیسے اس سے پہلے کیڑوں کے حملے والے سال اور سیاہ چاند والے سال کی کہانیاں درج ہو چکی تھیں۔ خود میرے والد نے بھی اس کہانی کی تصدیق کی تھی۔ انھوں نے بتایا تھا کے جب آسمان سے سنگتروں اور مچھلیوں کی بارش ہوئی تھی تو وہ ایک کم عمر لڑکے تھے۔ ایک طوفانی رات کے بعد جب وہ صبح جاگے تو ان کا صحن تازہ سنگتروں اور ان کے بیچ تڑپتی مچھلیوں سے بھرا پڑا تھا جو کہ ان کی کہنیوں تک بڑی تھیں۔

وہ مچھلیاں برسانے والے طوفان کا سال مغدلونہ کا کوئی آخری یادگار سال نہیں تھا بلکہ اس کے بعد بھی ایسے بہت سے سال آئے جن میں عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات پیش آئے تھے۔ یہ وہ سنگ ہائے میل تھے جو مغدلونہ کے کیلنڈر میں خود الہامی ہاتھوں نے نصب کیے تھے۔

مثل کے طور پر وہ سال جب شدید سوکھا پڑا تھا۔ باران رحمت کے دروازے مہینوں کے لیے بند ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ واحد چشمہ جہاں سے سارے گاؤں والے پانی بھرتے تھے محض قطرات تک محدود رہ گیا تھا۔ یہ چشمہ گاؤں سے کوئی میل بھر دور تھا۔ یہ ایک دریائی راستے میں کھلتا تھا اور ایک صاف جگہ پر تالاب کی شکل میں اکٹھا ہوتا تھا۔ اس کے کناروں پر باریک مٹی اور بکری کی سخت مینگنیاں پڑی ہوتی تھیں کیوں کہ سہ پہرکو یہاں چرواہے اپنے گلوں کو پانی پلانے کے لئے لاتے تھے۔

خشک سالی کے دنوں میں یہ جگہ ہر وقت شور مچاتے بچوں سے بھری ہوتی تھی جن کی بڑی بھوری آنکھیں ہوتی تھیں اور ہاتھ چپچپاتے ہوئے ہوتے تھے۔ ان کی مائیں جوان بھری پری مگر تھکی ماندی عورتیں ہوتی تھیں جن کے کندھوں کی ہڈیاں نمایاں اور ایڑیاں پھٹی اور گھسی ہوئی ہوتی تھیں۔ ہم بچے ادھر ادھر بھاگتے پھرتے اور چھپن چھپائی کھیلتے جب کہ عورتیں مسلسل باتیں کرتی رہتیں یا اپنے پیروں سے مکھیاں مارتی رہتیں اور ساتھ ساتھ اپنی باری کا انتظار کرتی رہتیں تاکہ اپنے برتنوں میں پانی بھر کے گھر لے جا سکیں جہاں ان کے اونگھتے ہوئے مرد اور گیلے نچڑے ہوئے بچے ان کے منتظر ہوتے تھے۔

ایسے دن بھی آتے تھے جب مٹی کے ایک ذرا سے برتن کو اس قیمتی ٹھنڈے پانی سے بھرنے کے لیے طلوع سحر سے دیر سہ پہر تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس طویل انتظار کے دوران گرمی مکھیوں اور فضلے کی بو کے بیچ میں عورتوں کے مزاج کبھی کبھی برہم بھی ہو جایا کرتے تھے۔ نسبتا جوان عورتیں جو اپنے بچوں کے لئے فکر مند ہوتی تھیں اس بات پر جھگڑ پڑتی تھیں کہ اب پانی بھرنے کی باری کس کی تھی۔ کبھی کبھی تو یہ جھگڑا لپاڈگی اور دھینگا مشتی تک جا پہنچتا تھا۔

ایسا ہوتا تو عورتیں ایک دوسری کو بالوں سے پکڑ لیتیں لعن طعن کرتیں ایک دوسری پر تھوکتیں اور ایک دوسری کو ایسی صلواتیں سناتیں کہ میرے کان جھنجھنا اٹھتے۔ ہم چھوٹے بھورے رنگ کے لڑکے جو وہاں اپنی اپنی ماؤں کے ساتھ پانی بھرنے آئے ہوتے تھے ان لڑائیوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ کیونکہ جب عورتیں ایک دوسری کو گھسیٹتی اور الٹاتی تھیں تو ہمیں ان کے رنگین زیر جامے دیکھنے کا موقع مل جاتا تھا، کبھی کبھی جب قسمت زیادہ اچھی ہوتی تو ہمیں اس سے زیادہ بھی دیکھنے کا موقع مل جاتا تھا کیونکہ بعض عورتوں نے اپنے لمبے لبادوں کے نیچے کچھ بھی نہیں پہن رکھا ہوتا تھا۔

میرے خدا! میں ایسی لڑائیوں کا کتنا مشتاق رہتا تھا۔ مجھے وہ ہجوم وہ جوش وخروش اور باریک مٹی پر رقص کرتی وہ دھوپ آج بھی یاد ہے جب ایسی ہی ایک لڑائی کے دوران کپڑے پھٹ گئے تھے اور ایک جوان سفید پستان عریاں ہو گیا تھا جسے فورا ہی چھپا دیا گیا تھا۔ میرے اپنے کیلنڈر میں خشک سالی والا وہ سال میرے بچپن کے بہترین سالوں میں سے ایک تھا کیوں کہ اس سال میں میں نے اس گرد آلود پہاڑی چشمے اور تالاب کے کنارے کچھ حیران کن اور پراسرار چیزوں کی پہلی جھلکیاں دیکھی تھیں اوران آرزووں سے پہلی بارآشنا ہوا تھا جو عورتوں کے کپڑوں کی تہوں کے نیچے چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ آسمان سے گرتے ہوئے سنگترے اور مچھلیاں۔ اسے تو آپ آسانی سے ہضم کر سکتے ہیں۔

لیکن ایک اور معنوں میں خشک سالی کا یہ سال میری زندگی کے بدترین سالوں میں سے ایک بھی تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال ابو رجا نے جو کہ ایک ریٹائرڈ باورچی تھا ( اورہم لڑکوں کواپنے ماتھے سے اخروٹ توڑ کر دکھایا کرتا تھا) یہ فیصلہ کیا تھا کہ اب وقت آ گیا تھا کہ مغدلونہ کا اپنا ٹیلی فون ہو۔ اس کا کہنا تھا کہ ہرجدید اور مہذب گاؤں کوایک عدد ٹیلی فون کی ضرورت ہوتی ہے اور مغدلونہ بھی اس وقت تک مہذب نہیں کہلوا سکتا تھا جب تک کہ وہاں ٹیلی فون نا لگ جائے۔ یہ ٹیلی فون ہی تھا جو مغدلونہ کو بیرونی دنیا سے جوڑ سکتا تھا۔

میں اس بحث کو سمجھنے کے لیے بہت کم عمر تھا۔ البتہ کچھ دوسرے لوگوں نے مثلاً شکری جو کہ ترک فوج کا ریٹائرڈ ڈرل ماسٹر تھا اور ابو حنا نے جو کہ انگوروں کے باغ کا رکھوالا تھا، ابو رجا کو گاؤں میں ٹیلی فون لانے کے ارادے سے باز رکھنے کی کافی کوشش کی مگر ابو رجا اور دوسرے دیہاتیوں نے بلند آوازی کا استعمال کرتے ہوئے ان دونوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کروا دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ترقی کے مخالف تھے اور ایک اچھی چیز کو مغدلونہ میں آنے سے روکنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں