دہشت گردوں کے سہولت کار….


munawar shahidانیس دن قبل ہی ہم سب نے نیا سال حسب سابق روایتی جوش و خروش سے منایا تھا حالانکہ ٹھیک چار یوم قبل ہی یعنی 27 دسمبر کو پاکستانی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بے حال پاکستانی قوم اچھے دنوں کی امید کے سہارے نئے سال میں داخل ہوتی ہے لیکن ان کی امیدیں اس وقت دم توڑ جاتی ہیں جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے ۔ اس برس بھی کچھ ایسا ہوا ہے یعنی نئے سال کے آغاز پر ہی بیس جنوری کوقوم کو نئے سانحے سے دوچار ہونا پڑ ا حالانکہ اگر 2007 ءکے بعد کے بڑے بڑے المناک دہشت گردی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو یاد آجائے گا کہ یکم جنوری2010 کو بھی شمال مغربی ضلع بنوں کے ایک گاوئں میں والی بال کے میچ کے دوران خودکش حملہ میں 101 افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن وہ چونکہ کوئی تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ کھیل کا گراﺅنڈ تھا اسی لئے کسی کو یاد نہیں ماسوائے ان کو جن کے پیارے کھیل کے میدان سے ہی موت کے سفر پر چلے گئے تھے۔ اب باچاخاں یونیورسٹی پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے ثابت کردیا ہے کہ ان کی نہ تو کمر ٹوٹی ہے اور نہ ہی نیٹ ورک کمزور ہوا ہے بلکہ اس حد تک نیٹ ورک فعال تھا کہ بقول خبروں کے ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد بھی اس کا موبائل بجتا رہا۔
سوشل میڈیا پر اس بات کا بہت چرچا تھا کہ دہشت گردوں کی کالز کو ٹریس کر کے پتہ لگا لیا گیا ہے کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ کاش یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو یقینا 21 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ لازمی بات ہے اگر وہ کارروائی کے دوران باتیں کرتے رہے تو پھر اس کی منصوبہ بندی کے لئے بھی سینکڑوں کالز کی ہوں گی جو ٹریس نہ کی گئیں۔ یہی وہ کمزوری ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتی وزراءکی اپنی معلومات اورذمہ داری کا یہ حال ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ سمیت صوبائی وزیر قانون تک ملک کے اندر داعش کے وجود سے انکار کرتے رہے لیکن پھر یکے بعد دیگرے جب سیالکوٹ اور لاہور سے بڑے نیٹ ورک پکڑے گئے اور عالمی میڈیا میں بھی خبریں گردش کرنے لگیں تو پھر ان کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ واقعی داعش کے کچھ گروپ پکڑے گئے ہیں۔ اب اس سانحہ سے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اندرون ملک چھپے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے اور وہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ جب جی چاہتا ہے بھاری جانی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ اس وقت دہشت گردوں کو سب سے زیادہ طاقت اندرونی سہولت کاروں سے حاصل ہے۔ پشاور میں بھی قریبی مسجد کے امام کی سہولت کے باعث دہشت گرد کامیاب ہوئے تھے، لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملوں کو بھی رائے ونڈ میں مقامی طور پر سہولت مہیا کی گئی تھی۔ اسی طرح ہر بڑے واقعہ کے پیچھے دہشت گردی کی کامیابی میں ان سہولت کاروں کا بہت بڑا کردار ہے جس کو سرکاری اور دیگر ریاستی ادارے نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ اصل میں اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے بعض اسلامی ممالک کی اندرونی مالی مداخلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباﺅ کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس کا خمیازہ ایسی ہی دہشت گرد کارروائیوں کی شکل میں قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
دہشت گردی کے حوالے سے کم از کم بہت بہتر بیان روس کے صدر پوٹن نے دیا تھا جو تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔ پوٹن نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو معاف کرنا اگرچہ خدا کا کام ہے مگر ان دہشت گردوں کو اوپر خدا کے پاس پہنچانا میرا کام ہے۔ ہماری سیاسی بصیرت اور انسانی ہمدردی اور اہلیت کا تو یہ حال ہے کہ بیان بھی کوئی ایسا نہیں دے سکتے جس سے کچھ دلاسہ ہی مل جائے بلکہ الٹا کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے باچا خان یونیورسٹی کے سانحہ پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تعلیمی اداروں پر حملوں سے قوم کا عزم مضبوط ہوا ہے“۔ واہ کیا دلاسہ دیا ہے۔ تو پھر جناب یہ دہشت گردی تو نہ ہوئی یہ تو وہ قوم کے عزم کو مضبوط کرنے نکلے ہوئے ہیں اور قوم کا عزم ہی مضبوط نہیں ہو رہا جس کے لئے انسانی خون بہانا پڑ رہا ہے۔ کاش وفاقی وزیر وہ رپورٹ ہی پڑھ لیتے جو امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کی طرف سے شائع ہوئی ہے جس میں اب تک پاکستان میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے ساڑھے آٹھ سو حملوںکی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں جس کے مطابق تعلیمی اداروں پر دہشت گردی سے ہلاکتوں میں پاکستان نمبر ایک ہے۔ گلوبل ٹیرر ازم ڈیٹا بیس کے چالیس سالہ ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں تعلیمی اداروں پر حملوں کے نتیجہ میں اب تک 461 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ خطرناک پشاور کا حملہ تھا جو دسمبر2014ءمیں ہوا تھا۔ رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق 1970ءسے لے کر2014ءتک جنوبی ایشیا میں تعلیمی اداروں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ۔ اسی عرصہ کے دوران دنیا بھر کے تعلیمی اداروں پر 1436 دہشت گردی کے حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں سے ساٹھ فیصد پاکستان کے تعلیمی اداروں پر ہوئے۔ اس رپورٹ میں تجزیہ نگاروں نے ماضی و حال کی صورت حال کا بھی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق اب بھی پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کی کمی نہیں جہاں چار دیواری یا اونچی دیواریں ہی نہیں ہیں۔ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا نے جرمن تشریاتی ادارے کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن ضرب غضب سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن دہشت گردوں میں کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور میرے خیال میں دہشت گردوں کے حملہ کرنے کی صلاحیت کا دوبارہ جائزہ لے کر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے اندر سیاسی عدم رواداری کے باعث صوبوں کے مابین نیشنل ایکشن پلان اور دیگر سیکورٹی کے معاملات میں بھی مفاہمت کا فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بھی دہشت گردوں کوبراہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دے کر اس پر عمل کیا جا رہا ہے لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ابھی تک اندرونی سہولت کاروں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے سیاسی و مذہبی جماعتیں اور لیڈر ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ 2007 ءکے بعد سے اب تک پاکستان بھر میں 35 ایسے بڑے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی صرف ملکی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ہی ممکن ہے اور پاکستان کے اندر اب بے رحم کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ

وزیراعظم نوازشریف صاحب نے بھی کہا ہے۔ کسی دانشور نے باچاخان یونیورسٹی کے سانحے پر بہت تبصرہ کرتے ہوئے کوزے میں دریا بند کردیا اور کہا کہ دشمن کے بچے بہت تیز نکلے جو ایک سال ہی میں سکول سے یونیورسٹی پہنچ گئے…. جب کہ دوسری طرف ایک سال صرف ترانے اور اس کا میوزک بنانے ہی پر صرف کر دیا گیا۔


Comments

FB Login Required - comments