برطانوی عوام نے یورپی یونین سے انخلا کے حق میں فیصلہ دے دیا


\"eourope\"برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا انخلا سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق برطانوی عوام کی اکثریت یورپی یونین سے نکلنے کی حامی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریفرنڈم میں ریکارڈ 72 فیصد سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔نتائج کے مطابق یورپی یونین سے انخلاءکی حمایت میں 51.8 فیصد جبکہ مخالفت میں 48.2 فیصد افراد نے ووٹ دیا۔
برطانوی عوام کے فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو پر لگ گئے اور اس کی قیمت سو ڈالر اضافے سے 1360 ڈالر فی اونس تک جاپہنچی، جبکہ بین الاقومی مارکیٹ میں برطانوی پاو¿نڈ کی قدر میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے اور وہ 31 سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔
برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا انخلاءکے حوالے سے پولنگ گزشتہ روز یعنی 23 جون کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک ہوئی، ریفرنڈم میں تقریباً 4 کروڑ 64 لاکھ سے زائد افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔
اس سے قبل کہا جارہا تھا کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) اور اس کے مخالفین کی تعداد تقریباً یکساں ہے اور کوئی بھی گروپ کامیاب ہوسکتا ہے۔اس ریفرنڈم کو برطانوی تاریخ کا اہم ترین لمحہ قرار دیا گیا اور برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی و مخالفین بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
آغاز میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی رکن پارلیمنٹ نائیجل فراز نے شمالی شہر لیڈز میں شہریوں سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ انتہائی اہم ووٹنگ ہوگی جس کا موقع شاید دوبارہ آپ کو نہ مل سکے۔
اسی طرح برطانیہ کے یورپی یونین سے اتحاد کے حامی سابق وزیراعظم جان میجر کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی اہمیت عام انتخابات سے بھی زیادہ ہے، اس سے لوگوں کی زندگی متاثر ہوگی اور ان کے معیار زندگی اور مستقبل پر فرق پڑے گا۔
یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے قیام کے بعد دنیا کے ان حصوں میں امن قائم ہوا ہے جہاں اکثر تنازعات رہتے تھے۔
ریفرنڈم کے لیے بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین نے 4 ماہ تک مہم چلائی اور اس میں دو اہم معاملات معیشت اور امیگریشن پر ہی زیادہ تر بات کی گئی۔حالیہ دنوں میں بریگزٹ کے حوالے سے رائے عامہ کے جائزوں کے حساب سے لندن اسٹاک مارکیٹ مسلسل اتار چڑھاو¿ کا شکار رہی ہے۔
بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتدائ میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔