ناروے کے سابق وزیراعظم کا سری نگر کا اچانک دورہ، کشمیریوں میں نئی امید


میگنے بانڈوک

Getty Images
ناروے کے سابق وزیر اعظم میگنے بانڈوک کا کشمیر کے اچانک دورے سے بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے

ناروے کے سابق وزیراعظم جیل میگنے بانڈوِک نے گزشتہ ہفتے بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کیا۔ ان کے اس اچانک دورے سے جہاں لوگ حیران ہیں وہیں اس پر کئی طرح کے سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے رہنما اور جموں کشمیر کے سابق وزیراعظم عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انہیں اس دورے کی خبر اخبارات سے ملی ہے پھر بھی انہوں نے اس دورے کا خیر مقدم کیا۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کی ضيافتیں

کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

کشمیر:عسکری، نفسیاتی، سیاسی تبدیلیاں

بی بی سی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ہم معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں یہاں کس نے بھیجا۔

عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت حریت کانفرنس سے بات نہیں کر رہی، انہیں الگ تھلگ کر رکھا ہے اور اگر اس سے حریت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی ملتی ہے تو سب کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

بانڈوِک کا دورہ اچانک ضرور ہوا لیکن خفیہ نہیں تھا کیونکہ اس کہ بعد حریت کانفرنس نے ایک بیان جاری کیا تھا اور حریت کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ناروے کے سابق وزیر اعظم کو دعوت کس نے دی اور یہ پہل کس نے کی۔

میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ انہیں بانڈوِک کے آنے سے ایک دن پہلے ہی ملاقات کی دعوت دی گئی۔

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ مرکز کی مرضی کے بغیر یہ دورہ ممکن نہیں ہے اور مرکزی حکومت کی اجازت، کے بغیر وہ یہاں آ ہی نہیں سکتے تھے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اشوک کول کہتے ہیں کہ انہیں نہیں لگتا یہ مرکز یا بی جے پی کہ پہل ہے۔

میر واعظ عمر فاروق

Getty Images
میر واعظ عمر فاروق

یہاں کے سیاسی حلقوں میں یہ خبر ہے کہ اس دورے کے پیچھے ‘آرٹ آف وِلِنگ کے گرو شری شری روی شنکر ہیں۔اشوک کول نے اس کے امکان سے انکار نہیں کیا۔

انکا کہنا تھا کہ شری شری روی شنکر پہلے بھی کشمیر میں ثالثی کی کوششیں کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت بیرونی ثالثی کو قبول نہیں کرے گی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

ناروے کے سابق وزیر اعظم جیل میگنے بانڈوِک سے ملاقات کے بعد میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے بانڈوِک سے کہا کہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہوگا کہ آپ انڈیا اور پاکستان کو بات چیت کے لیے ایک میز پر لے آئیں۔

کشمی کے لوگ امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں پورا تعاون کریں گے۔

میر واعظ نے انہیں بتایا کہ بھارت بات چیت کے لیے بالکل تیار نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ہم نے ان سے کہا کہ کوئی تیسرا فریق آئے بین الاقوامی ثالثی ہو تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔

بھارت کی حکومت اب تک بین الاقوامی ثالثی کے حق میں نہیں رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے آخری بار 2006 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت میں علیحدگی پسندوں سے بات کی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے وادی میں تشدد کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں میں سکیورٹی فورسز اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں بیس سے زیادہ علیحدگی پسند اور کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ بگڑتے ہوئے حالات میں تمام لوگ بات چیت کا عمل شروع ہونے کی حمایت کرتے ہیں اس لیے ناروے کے سابق وزیراعظم کے دورے سے یہاں کے لوگوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6364 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp