دسمبر کا روگ


دسمبر آیا چاہتا ہے اور دسمبر کے زخم خوردہ ہر طرف برساتی مینڈک کی طرح ٹراتے نظر آئیں گے، یہ سوشل میڈیا کی دنیا ہے یہاں دسمبر، لوگوں کو تیرے آنے کا غم ہے یا سال کے بیت جانے کا یا پھر میت کے نہ ملنے کا روگ

یہ سال بھی اداسیاں دے کے چلا گیا
تم سے ملے بغیر دسمبر چلا گیا

اداس خزاں زدہ فضا، اور دسمبر کی آمد، انسان شاعر نہ بھی ہو تو کچھ سوچنے پہ مجبور ضرور ہوجاتا ہے۔ شاعر تو پھر شاعر ہوتا ہے اور متاثرین دسمبر تو بہتیرے

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر

دسمبر میں ٹھنڈ کی بدولت دھوپ بھی کمھلا جاتی ہے، اور پیلی پیلی رنگت سوگواری کی فضا قائم کردیتی ہے، اچھا بھلا بندہ دسمبر کے غم میں مبتلا ہوجاتا ہے، لوگ اس موسم کو کچا پکا موسم بھی کہتے ہیں۔ دھوپ بھی تھوڑی دیر کوہی نکلتی ہے کیونکہ سورج اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں

یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

ناکام عاشقوں کو اپنا ہی غم کھائے جاتا ہے، جو دسمبر میں بڑھ کر کئی گنا ہوجاتا ہے۔ کہیں سرد دسمبر پھر سے من میں وہی آگ نہ لگا دے

ہر دسمبر اسی وحشت میں گذارا کہ کہیں
پھر سے آنکھوں میں تیرے خواب نہ آنے لگ جائیں

ویسے آپس کی بات ہے دسمبر میں ہی یہ بخار کیوں چڑھتا ہے، غضب ہت جون کا دکھ بھی دسمبر میں ہرا ہوجاتا ہے۔

بہت سے غم دسمبر میں دسمبر کے نہیں تھے
اسے بھی جون کا غم تھا مگر رویا دسمبر میں

سرد راتوں کی اداسی، دھند میں لپٹی صبحیں، اور کہر زدہ شامیں یہ ہے دسمبر، دن مختصر اور راتیں سنسان اور طویل، دور کہیں آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں، تنہائی گزیدہ عاشق کیا کرے، وہ دسمبر کا نوحہ نہ پڑھے تو کہاں جائے بے چارہ۔

”دسمبر آگیا ہے“ یا
” دسمبر آنے والا ہے“
زرا ہشیار ہوجائیں
میری سب سے گذارش ہے

کچھ شاعر اس طرح بھی ہشیار کرتے ہیں، لیکن ہم سوچتے ہیں کہ بھائی دسمبر کیا چیز ہے، ہم کراچی والوں کو دسمبر کی آمد سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، ہلکا سا ابر چھا جاتا ہے وہ تو ساحلی علاقوں میں ویسے ہی رہتا ہے لیکن دسمبر کی سرد ہواؤں کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا اور اس موسم کا کسی پہ اثر نہیں ہوتا شاید کراچی کے عاشق نقلی چیزیں کھاکھا کر اصلی نہیں رہے۔ ہمارے کراچی میں تو سرد موسم کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا ہم تو رات گیارہ بجے کے بعد ٹن ٹنا ٹن کی آواز اور پھلی گرم کی صدا سے سمجھ جاتے ہیں دسمبر آگیا۔ اپناسردی کا شوق پورا کرنے کے لیے پنکھے چلا کر کمبل اوڑھ کر گرما گرم کافی کی چسکیاں لینا مزے دیتا ہے اور اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر مونگ پھلی توڑنے کی کڑک کڑک کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے

میں ایک بوری میں لایا ہوں بھر کے مونگ پھلی
کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے

دوسرے خشک میوہ جات تو تصویر مین دیکھ کر ہی خوش ہولیتے ہیں چلغوزہ بھی دسمبر کی سوغات تھی اب تو غریب تو غریب امیر بھی اسے کھانے سے پناہ مانگتے ہیں اگر کسی کو ڈاکٹر نسخے میں لکھ دے تو شاید چلغوزہ دوا کی خوراک سمجھ کے کھا لیا جائے۔

یہاں تو دسمبر نزلہ، کھانسی، زکام کی سوغات لے کر آتا ہے، عاشق کھوں کھوں اور معشوق سوں سوں کرتا رہتا ہے تو کراچی والوں کا وقت تو قرشی کا جوہر جوشاندہ پینے میں گزرتا ہے، اور یہ الفاظ دماغ میں کلبلاتے ہیں کہ

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں دسمبر کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
فیض سے معذرت، اب اجازت دسمبر جلد آرہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں