چیف جسٹس کی فکر مندی اور بھکاری کی بے پروائی


میں اسے یہاں دیکھ کے حیران رہ گیا، وہ چائے پی رہا تھا، اور اخبار کھولے ادارتی صفحہ دیکھ رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جب میں موٹر مکینک سے اپنی گاڑی مرمت کروا رہا تھا، تو وہ مجھ سے بھیک میں بیس رُپے کا کڑکتا نوٹ لے کر گیا تھا۔ کراچی ایرپورٹ سے شاہ راہ فیصل پر قدم رکھو، تو سامنے ہی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، عرف عام میں اس کو ”چھوٹا گیٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں موٹر مکینک، کار اے سی، پوشش، بیٹری، ویل الائنمنٹ بیلنسنگ، آٹو اسپیر پارٹس شاپس، الغرض گاڑیوں سے متعلق سبھی کاروبار ہیں۔ انھی کے بیچ میں کہیں کہیں خوانچوں پر اصلی اور لذید حلیم، اسکرین ثابت کرنے والے کو ایک لاکھ انعام دینے کا اعلان کرتا شربت فروش، چائے خانے، روش، نہاری اور مقوی اعضا خوراک کی بہتات ہے۔ غریبوں کے دو ہی شوق ہوتے ہیں، ایک تو جب کھانا خوب کھانا، کہ کھانے کے لیے ہی وہ کام کرتے ہیں، اور دوسرا۔ دوسرا یہاں بتانا مناسب نہیں، کیوں کہ فیصلہ ہوا ہے، آیندہ ”ہم سب“ پر ایسی گندی گندی باتیں نہیں ہوا کریں گی۔

میں ‌ ذکر کر رہا تھا، اس بھکاری کا، جو چائے نوش جاں کرتے اخبار کا ادارتی صفحہ کھولے بیٹھا تھا۔ میں اپنی پیالی اٹھائے اس کے سامنے جا بیٹھا۔ اُس نے چھچلتی نگہ مجھ پہ کی، اور اخبار میں متوجہ ہو گیا۔
”آپ حیران ہوئے مجھے اخبار پڑھتا دیکھ کے؟ اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔ کیوں بھئی؟ کیا بھکاری اخبار نہیں پڑھ سکتا؟ “ اسی نے گفت گو کا آغاز کیا۔
”کیوں نہیں پڑھ سکتا؟ حیرت یہ ہو رہی ہے کہ پڑھ سکتے ہو تو کوئی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کرتے؟ بھیک کیوں مانگتے ہو؟ “

اچھا؟ تو آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں؟ ”اس نے اخبار ایک طرف رکھتے چائے کا کپ اٹھا لیا۔ “ وہ لوگ، جو سمجھتے ہیں، تعلیم روزگار دلاتی ہے! تعلیم شخصیت کی تعمیر کے لیے ہوتی ہے۔ ”بھکاری کا لہجہ شستہ تھا۔
”شخصیت کی تعمیر؟ بچے کتنے ہیں، تمھارے؟ “ مجھے کچھ خیال آیا تو سوال کر دیا۔
”بڑا پرسنل سا سوال پوچھا ہے۔ لیکن بتا دیتا ہوں۔ نو! “

”نو؟ “ میری حیرت دیدنی ہو گی۔
”ہاں! نو۔ نائن۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ “

”نو بچے ہیں، تو بھیک ہی مانگو گے۔ تمھیں پتا بھی ہے، پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ ہو گئی ہے، اور پھر چیف جسٹس صاحب نے حال ہی

میں اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے؟! ”
”سنو! نو بچے ہیں اس لیے بھیک نہیں مانگ رہا۔ بھیک مانگتا ہوں، اس لیے نو بچے ہیں ؛ دسواں آنے والا ہے۔ “
”دسواں؟ یع۔ یع۔ یعنی، دسواں؟ “
”ہاں! یعنی دسواں۔ “

”بیویاں کتنی ہیں تمھاری؟ “
”ایک ہی۔ “
”ایک بیوی سے دس بچے؟ “

”دو تو پیدا ہوتے ہی مر گئے تھے۔ اصل میں بارہ ہوتے۔ “
”بارہ؟ اور کوئی کام نہیں ہے، تمھیں؟ “
”محترم! آپ ایٹیکیٹس سے نا بلد ہیں۔ لگتا ہے آپ کی تعلیم میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ “

”میری تعلیم میں؟ “ مجھے غصہ آ رہا تھا۔
”یقینا! اب اسی طرح کے سوال میں پوچھوں، تو آپ تلملا اٹھیں گے۔ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ “
میںجذبز ہوا۔ ”میرے جتنے بھی ہیں، تمھیں اس سے مطلب؟ “

”یہی میں بھی کہنا چاہتا ہوں۔ آپ کو مجھ سے مطلب؟ آپ نے بیس رُپے کا نوٹ دیا تھا، یہاں چائے بھی تیس کی بِکتی ہے۔ بیس رُپے دے کر میرے بیوی بچوں تک پہنچ گئے، یہ مناسب بات نہیں ہے۔ “

بات تو اس کی ٹھیک تھی؛ میں کچھ نرم پڑا۔ ”لیکن بھائی، کبھی سوچا ہے کہ ہماری غربت کی بڑی وجہ کیا ہے؟ یہی آبادی کا روز افزوں بڑھنا۔ دُنیا کے اتنے وسائل نہیں ہیں، جتنی آبادی بڑھتی جا رہی ہے، اور اس پر چیف جسٹس صاحب نے تو جو فکر مندی کا اظہار کیا ہے، سو کیا ہے ؛ پھر بھائی وجاہت مسعود بھی اس موضوع پر کالم لکھتے رہتے ہیں۔ “
”پڑھا ہے، چیف جسٹس صاحب کا بیان اور وجاہت مسعود کو بھی پڑھتا رہتا ہوں ؛ لفظوں سے توتا مینا بناتے ہیں۔ “ بھکاری نے منہ بسورتے جواب دیا۔

”کس کی بات کر رہے ہو“؟ میں نے وضاحت چاہی۔
”ادھر میرے پنڈ کی ماچھن تھی، وہ آٹے سے توتا مینا بنایا کرتی تھی۔ ہر ایک کا اپنا اپنا فن ہے۔ کوئی لفظوں کی بازی گری دکھاتا ہے، تو کوئی موت کے کنویں میں موٹر سائکل کے کرتب دکھاتا ہے۔ میں کس کی بات کر رہا ہوں، اسے چھوڑیے ؛ یہ سمجھیں کہ بھیک مانگنا بھی ایک فن ہے۔ “

”بھیک مانگنا کیسے فن ہوا؟ “ میں نے اسے گھیرنے کا ارادہ کیا۔
”آپ کو سمجھانا مشکل ہوگا، کیوں کہ آپ بھی ایسے ہی ٹیبوز کا شکار ہیں، جیسے بہت سے ہیں۔ سیگرٹ کی ڈبی پر تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے، لکھا دیکھ کر یہ نہیں سوچتے شراب کی بوتل پر کھوپڑی کی شبیہہ کیوں نہیں دی گئی! “
”لیکن سیگرٹ کینسر کرتا ہے ؛ جدید سائنس سے ثابت ہے۔ “

”جدید سائنس شراب کو نعمت بتاتی ہے؟ ارے بھائی جگر برباد ہو جاتا ہے۔ “
”ہاں! وہ تو ٹھیک ہے، لیکن ہم آبادی کی بات کر رہے تھے۔ “ میں نے اسے موضوع پر لایا۔
”چلیں آبادی کی بات کر لیتے ہیں۔ یہ بتائیے! ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ بچے دو ہی اچھے؟ “
”اس لیے کہ ریاست پر بوجھ نہ پڑے۔ “
”کون سی ریاست؟ “
”ہماری ریاست۔ اور کون سی ریاست؟ “

اس نے یوں ‌ ہاتھ ہلایا، جیسے مکھی اڑاتا ہو۔ ”یہ باتیں وہاں اچھی لگتی ہیں، جہاں ریاست ماں کا کردار ادا کرے۔ ہر شہری، ریاست کا بچہ ہو۔ ریاست اس کو تحفظ دیتی ہو۔ تعلیم دینے کی ذمہ داری ہو، علاج یقینی بنائے، اولڈ ہوم ہو، سوشل سیکورٹی ہو۔ تب ریاست کہے کہ بچے کم پیدا کرو، کہ ریاست کے وسائل صحیح طرح سے استعمال ہوں۔ یہ مناسب مطالبہ ہے۔ ہماری ریاست دیتی کیا ہے؟ کل میرا موبائل فون چھِنا، منتیں کر دیکھیں، لیکن ایف آئی آر نہ درج ہوئی۔ ہنہ ریاست۔ “

”شکر الحمد للہ! ہم پاکستانی ہیں۔ ہم آزاد ہیں۔ اب تو حکومت اور فوج بھی ایک پیج پر ہیں ؛ لہاذا ہماری آزادی اور ترقی کا سفر تیز ہو گا۔ اگر میں آپ یعنی ہم غلام ہوتے تو آج آزادی کی اس نعمت کا اندازہ ہوتا۔ ان سے پوچھو جو غلام قومیں ہیں۔ “ میں نے جونھی تقریر شروع کی، اس نے ہاتھ اٹھا کے روک دیا۔ اس کے چہرے پر بیزاری کے آثار تھے۔

”برا نہ مانیے گا جناب! آپ بھی توتے کی طرح رٹے رٹائے جملے بول رہے ہیں۔ آپ کو بتا دیا گیا ہے، کہ یہی آزادی ہے، آپ نے مان لیا۔ جس دن آپ آزاد ہوں گے، اس دن آپ سمجھیں گے، آزادی کی نعمت کیا ہے۔ لیکن آپ کے سوچنے کا یہی انداز رہا، تو آپ کبھی آزاد نہیں ہوں گے۔ آزادی چاہتے ہیں، تو ان ٹیبوز سے جان چھڑائیے۔ “

وہ یک دم اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے ابھی بہت کچھ کہنا تھا، لیکن اس نے موقع ہی نہیں دیا۔
”سنیں جناب! میرے نو بچے ہیں، ان میں سے چھہ کماؤ ہیں۔ اپنی بھیک خود کماتے ہیں۔ باقی تین چھوٹے ہیں، لیکن ماں ‌ کے ساتھ جاتے ہیں، ان کی آمدن بھی کم نہیں۔ “
میں تلملا کے بولا، ”بھیک مانگنا اچھی عادت نہیں ہے۔ اپنے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا۔ “

”پھر وہی رٹا رٹایا جملہ، جس جملے کے معنی بھی نہیں معلوم؟ ہماری ریاست تو خود بھیک مانگتی ہے۔ تفصیل بتاوں کیا، کہ کہاں کہاں، کس کس ملک بھیک کے لیے جاتے ہیں؟ اس بھیک میں سے شہریوں تک کتنا پہنچتا ہے، اس کا کوئی حساب ہے؟ جو ریاست اپنے وسائل نہیں بڑھا سکی، شہری کو اسکول، اسپتال، دوا، انصاف نہیں دے سکی، وہ شہری سے کیوں کر کہتی ہے، کم بچے پیدا کرو؟ شہری اس کی بات کیوں ‌ مانے؟ تم نے دیکھا ہے، جو جتنا غریب ہے اس کے اتنے ہی بچے ہیں۔ “

”یہی تو وجہ ہے ان کے غریب رہنے کی۔ “ جیسے مجھے نکتہ مل گیا ہو۔
”نہیں! ان کی غربت کی یہ وجہ نہیں ہے۔ وہ زیادہ بچے اس لیے پیدا کرتے ہیں، کہ ان کے کمانے والے ہاتھ بڑھیں“۔
”لیکن چیف جسٹس صاحب نے خود کہا ہے، کہ آبادی کم۔ “
اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتا، وہ سلام کر کے رخصت ہو گیا۔ اُس نے سلام سے پہلے کیا کہا، وہ یہاں لکھا نہیں جا سکتا، کہ سینسر پالیسی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 256 posts and counting.See all posts by zeffer-imran