بریمالا مندر میں داخلے کی ناکام کوشش کرنے والی ریحانہ ’نامناسب لباس‘ کے الزام میں گرفتار


انڈیا کی ریاست کیریلہ میں واقع سبریمالا مندر میں داخلے کی ناکام کوشش کرنے والی کارکن ریحانہ فاطمہ کو’ غیر مناسب لباس‘کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

32 سالہ ریحانہ فاطمہ پر فیس بک پر نامناسب لباس میں تصویر شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو انھوں نے مندر جاتے ہوئے پوسٹ کی تھی۔

ان پر الزام میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے’ اپنی ران کی نمائش‘ کی ہے۔ جمعرات کو ریحانہ کے خاندان کے مطابق ضمانت کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے اور اس پر سماعت جمعے کو گئی۔

ریحانہ فاطمہ ٹیلی کام ٹیکنشن، کارکن اور ماڈل ہیں اور انھیں مظاہرین نے سبریمالا مندر میں داخل ہونے سے روکا دیا تھا اور تاریخی طور پر مندر میں بالغ خواتین کو داخل کی اجازت نہیں۔

مندر کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ 10 سے 50 سال کی عمر کے درمیان خواتین کو حیض آتا ہے اس لیے وہ ‘ناپاکی’ کی حالت میں اس مندر میں نہں جا سکتیں اور دوسرا یہ کہ اس مندر کے بھگوان ایپا نابالغ تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

خواتین کو مندر میں داخلے کی اجازت کے خلاف احتجاج

انڈین خواتین ہمالیہ تو سر کر سکتی ہیں مگر ایک مندر نہیں جا سکتیں

سبریمالا مندر میں جانے سے پہلے مسجد کا طواف لازمی

رواں برس ستمبر میں سپریم کورٹ نے اس مندر میں تمام عمر کی خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی تاہم ابھی تک کوئی خاتون مندر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اکتوبر میں فاطمہ اور ایک خاتون صحافی ایک سو پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں مندر کے احاطے تک پہنچ گئی تھیں تاہم وہاں عقیدت مندوں کی ساتھ کشیدگی کی وجہ سے مندر کے مرکزی ہال میں داخل نہیں ہو سکیں تھیں۔

ریحانہ فاطمہ کی سہیلی اور خواتین کے حقوق کی کارکن آرتی ایس اے نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ریاست کے شہر کوچی میں واقع ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا

گرفتاری کے بعد میجسٹریٹ نے ریحانہ کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ ریحانہ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

اکتوبر میں پہاڑ کی چوٹی پر واقع مندر میں داخل کی کوشش کے دوران ریحانہ فاطمہ نے سیلفی بنائی تھی اور اسے فیس بک پر شیئر کیا۔ اس سیلفی میں وہ سیاہ لباس میں تھیں اور ان کے ماتھے پر ہندؤ رسم کے مطابق تلک تھا جبکہ کلاسک ایپا سٹائل میں بیٹھی ہوئی تھیں۔

پولیس نے ریحانہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ تصویر غیر مناسب تھی اور بھگوان ایپا کے عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنی۔

رواں ماہ ہی ریحانہ نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی اور اس میں استدعا کی گئی تھی کہ پولیس کو انھیں گرفتار کرنے سے روکا جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کی وجہ سے پولیس کے لیے انھیں گرفتار کرنے کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔

ریحانہ فاطمہ

AFP
ریحانہ فاطمہ نے اکتوبر میں مندر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہیں ملی

ریحانہ کی سہیلی آرتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریحانہ کا مقصد کسے کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی ایسا کام کرنا تھا جو کسی کے ناگوار ہوتا۔

ریحانہ فاطمہ کی تصویر کی وجہ سے قدامت پسند ہندو گروپ مشتعل ہو گئے تھے کیونکہ وہ مسلمان بھی ہیں تاہم ریحانہ کے مطابق وہ بگھوان ایپا کی عقیدت مند ہیں۔

آرتی کے مطاقب ریحانہ فاطمہ نے جب فیس بک پر اپنی تصویر شیئر کی تھی تو اس وقت انھیں توہین آمیز پیغامات موصول ہوئے تھے جس میں ریپ کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی اطلاع ملی تھی کہ انڈیا میں 41 سالہ شخص پانچ طنزیہ ٹوئٹس کرنے کے الزام میں تقریباً ایک ماہ سے جیل میں ہے۔

ستمبر میں دہلی کے رہائشی اور دفاعی امور کی ماہر ابھیجیت ایئر مترا نے ملک کے مشرقی ریاست اوڑیسہ میں واقع 13ویں صدی کے کونارک مندر کے بارے میں’ توہین آمیز‘ ویڈیو جاری کی تھی۔

ان کی اس ویڈیو میں مندر کے بارے میں’ غیر مہذب‘ بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تو انھوں نے فوری طور پر وضاحت دی ہے کہ ان کی ٹویٹ ایک مذاق تھی۔

لیکن ایئر کو ان کے جرائم میں متعدد الزامات کا سامنا ہے اور ان پر عبادت کی جگہ پر مختلف گروہوں کے لوگوں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر ان میں اختلافات کو ابھارنے، مذہبی جذبات کو مجروع کرنے اور ’عوام کے لیے باعث تکلیف‘ فعل جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp