کے ایل نارنگ ساقی اور ان کی نئی کتاب!!


(گزشتہ سے پیوستہ )

جارج برناڈ شا کا نیا ڈرامہ تھیٹر میں پیش کیا جارہا تھا عوام کو یہ ڈرامہ بہت پسند آیا۔ پبلک نے فرمائش کی کہ ڈرامہ نگار کو اسٹیج پر لائیں تاکہ ان کے دیدار کرسکیں۔ برناڈ شا اسٹیج پر آ کرلوگوںکا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ ایک جانب سے آواز آئی ’’تمہار ا ڈرامہ بالکل بکواس ہے۔‘‘ تھیٹر میں بیٹھے تماشائی حیران رہ گئے۔برناڈ شا آگے بڑھا اوربولا ’’میرے دوست میں تم سے سو فیصد اتفاق کرتاہوں لیکن اس قدر بھیڑ کےسامنے ہم دونوں کی حیثیت ہی کیا ہے؟‘‘

آئین اسٹائن ٹرام میں سفر کر رہے تھے۔ کنڈکٹر نے انہیں ٹکٹ کے ساتھ کچھ سکے واپس کئے۔ انہوں نے بغیر ریزگاری گنے ہی کنڈکٹر کو کہہ دیا کہ آپ نے ریزگاری پوری واپس نہیں کی۔ کنڈکٹر نے ان کے ہاتھ سے لے کر ریزگاری گنی تو وہ پوری تھی۔ جس پر اس نے دنیا کے سب بڑے ریاضی کے ماہر کے ہاتھ پر ریزگاری رکھتے ہوئے کہا ’’میراخیال کہ آپ کو گنتی ہی نہیں آتی۔‘‘

1912میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے کےلئے ٹیگور قریباً 125نظمیں لے کر انگلستان گئے اور انگریز مصنف ڈیلمر روتھن اسٹائن سے ملاقات کی۔ ان کے توسط سے آئرلینڈ کے انقلابی اور نو آبادیات شکن شاعر والٹر برٹن ہیٹس سے رابطہ کیا۔ ہیٹس نے ٹیگور کی نظموں کی اصلاح کی اور 1913میں ٹیگور کی نظم ’’گیتانجلی‘‘ کا تعارف بھی تحریر کیا اور اسی سال نومبر کے مہینے میں ٹیگور کا نام ادب کے نوبیل انعام کے لئے منتخب کرلیا گیا۔

ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ ٹیگور کو نوبیل انعام ملنے کے بعد جب ہیٹس نے ٹیگور کی تحریروں کو توجہ اور گہرائی سے پڑھا تو ان کو جذباتی کوڑا کرکٹ کہہ کر یکسر مسترد کردیا۔

دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی ’’پیسہ‘‘ اخبار کے ایڈیٹرجو مولوی محبوب عالم کے پوتے تھے ، وہ لندن گئے۔ وہ برطانیہ کے وزیراعظم چرچل سے ملنے کے متمنی تھے۔ بالاخر ملاقات کا وقت طے ہوا تو وہ چرچل سے ملنے گئے چونکہ ملاقات کا وقت صرف پانچ منٹ طے ہوا تھا، انہوں نے جاتے ہی دھمکی آمیز لہجے میں چرچل سے کہا ’’آپ کی عافیت اسی میں ہے کہ آپ خود ہندوستان کو آزاد کردیں ورنہ ‘‘ کہہ کر وہ رکے۔

چرچل کے ذہن میں کئی طرح کے خدشے منڈلانے لگے لہٰذا چرچل نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’ورنہ کیا ہوگا؟‘‘ اس پر ایڈیٹر موصوف نے کہا ’’میں ہندوستان واپس جا کر پیسہ اخبار میں آپ کے خلاف اداریہ لکھوں گا۔‘‘

برناڈ شاہ کا ڈرامہ اسٹیج ہو رہا تھا۔ انہوںنے چرچل کو پہلے شو کے لئے دعوت نامہ بھیجا اور لکھا کہ ’’اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لایئے اگر کوئی ہے تو؟‘‘ چرچل نے جواب میں شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’’معاف کیجئے پہلے شو میں مصروفیات کی بنا پر حاضر ہونے سے معذور ہوں ہاں دوسرے شو میں ضرور حاضر ہوسکوںگا اگر یہ شو ہوا تو؟‘‘

راک فیلر کو سیکرٹری نے بتایا کہ ’’کل شام کے اخبار میں ایک لکھنے والے نے آپ پر سخت تنقید کی ہے۔‘‘ راک فیلر چپ رہا اور دوسری باتیں کرنے لگا۔ سیکرٹری نے دوبارہ کہا ’’اس گدھے ادیب کی حماقت کا آپ کوئی جواب نہیں دیں گے؟‘‘ راک فیلر بولے ’’یہ اخبار بالکل غیرمعروف ہے۔

آج سے پہلے میں نے اس کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ یہ کل شام کو شائع ہوا تھا اور رات کو ردی کی ٹوکری میں چلا گیا ہوگا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں نے میرے خلاف باتیں پڑھی ہوں۔ دوچار دن میں وہ لوگ بھول جائیں گے۔ اگر میں جواب لکھوں گا توپڑھ کر لوگ پرانا اخبار ڈھونڈ کر پڑھیں گے اور احمق لکھنےوالے اور اخبار دونوں میرے جواب سے ملک گیر شہرت حاصل کرلیں گے۔ ‘‘

سمرسٹ مام کی کتابوں کی رائلٹی کی کافی بڑی رقم اسپین میں جمع ہوگئی تھی۔ اسپین کے قانون کے مطابق یہ رقم ملک سے باہر نہیں جاسکتی تھی۔ سمرسٹ اسپین پہنچے تاکہ اس رقم کو خرچ کرسکیں۔ انہوں نے سب سے مہنگے ہوٹل میں قیام کیا اور فراخدلی سے کھانے پینے پر خرچ کرتے رہے۔

جب انہوں نےمحسوس کیا کہ رائلٹی کا بیشتر حصہ خرچ ہوچکا تو اسپین سے واپسی کا سوچتے ہوئے ہوٹل والوں سے بل طلب کیا۔ انہوں نے بل لینے سے انکارکرتے ہوئے کہا ’’سر! آپ جیسے مشہور و مقبول ادیب نے ہمارے ہوٹل میں قیام کیا۔ یہ ہمارے لئے باعث ِ فخر ہے اور آپ کے قیام سے ہوٹل کی اس قدر پبلسٹی ہوئی کہ آپ سے بل لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘

ونسٹن چرچل ایک جلسے میں تقریر کررہے تھے۔ سامعین میں بیٹھی ایک عورت کو ان کی کچھ باتیں ناگوار گزریں۔ وہ کھڑے ہو کر تقریر پر اعتراض کرتے ہوئے بولی ’’اگر تم میرے شوہر ہوتے تو میں تمہیں زہر دے دیتی‘‘ اس پر چرچل نے بےساختہ کہا ’’محترمہ! اگر آپ میری بیوی ہوتیں تو میں خود ہی زہر کھا لیتا۔‘‘

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں