شاعری کا زور ہے، نثر کا کیا بنے گا؟


ہر جانب مشاعروں کا زور ہے۔ دور دور کے ملکوں میں، دور دراز شہروں، قصبوں اور دیہات میں مشاعرے ہو رہے ہیں۔کیسی اچھی بات ہے کہ اسی بہانے اردو زبان کا بھلا ہورہا ہے۔ لکھی جارہی ہے، سنی اور سنائی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سراہی جا رہی ہے۔ زبان سے متعلق کوئی بھی تقریب کامیاب نہیں ہوتی جب تک ایک عدد مشاعرہ اس سے نتھی نہ ہو۔

ان ہی مشاعروں کی برکت ہے کہ کتنے ہی شاعروں کو فرصت نہیں، جب دیکھئے وہ ملکوں ملکوں نظر آتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہندوستان پاکستان میں مشاعروں کی اتنی ریل پیل نہیں جتنی دوسرے ملکوں میں ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے نہایت معتبر شاعر حمایت علی شاعر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کا پاسپورٹ دنیا بھر کے ملکوں کی مہروں سے بھر چکا ہے۔

ایک بار ہمارے دوست مجیب صدیقی جنوبی افریقہ گئے وہاں کے کھاتے پیتے لوگوں نے،جن میں اکثر کی زبان گجراتی تھی، ان سے کہا کہ پاکستان سے کسی شاعر کو بلاؤ اور جنوبی افریقہ میں مشاعرہ کراؤ۔ شرط یہ تھی کے شاعر سریلا ہو، اچھا گاتا ہو۔ چنانچہ محترم پیر زادہ قاسم بلائے گئے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ ایک تنہا شاعر کا مشاعرہ کیا اچھا لگے گا۔ کم سے کم ایک شاعر اور ہونا چاہئے۔ بہت ڈھونڈا گیا، دوسرا شاعر نہیں ملا۔مجبوراً مجیب صدیقی نے رات کے دوران ٹہل ٹہل کر دو تین غزلیں کہیں۔ اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جو اشعار بلبل کے نالوں کے پس منظر میں کہے جانے چاہئیں، وہ شیروں کی چنگھاڑوں کی فضا میں کہے گئے ہوںگے۔

اب تو خیر شاعروں کی قلّت ختم ہوئی۔ یہاں مغرب میں کتنی ہی خواتین نے دوسرے کام چھوڑ کر شعر گوئی شروع کردی ہے حالانکہ ایک زمانے میں برطانیہ میں خواتین کثرت سے نثر اور افسانے لکھا کرتی تھیں۔لیکن اب ان کو دنیا بھر سے بلاوے آتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان میں بعض خواتین نہایت عمدہ اور تازہ شعر کہہ رہی ہیں۔

یہاں صورت حال وہ بھارت والی نہیں جہاں ایک زمانے میں خوش شکل اور خوش گلو خواتین نے شاذ ونادر اپنا لکھا ہوا اور اکثر لکھوایا ہوا کلام پڑھ کر شہر ت پالی تھی۔ عرب ریاستوں میں بھارت کی ان خواتین شاعروں کو خاص طور پر بلایا جاتا تھا۔ایسے کم سے کم ایک مشاعرے کی نظامت میرے حصے میں بھی آئی تھی۔

مگر شکر ہے بات نظامت ہی پر ٹل گئی ورنہ ایک بار گوپی چند نارنگ جیسے استاد نے مجھ سے کہا تھا کہ دو چار غزلیں کہہ لیجئے، دنیا بھر سے دعوت آئیگی۔ میں نے کہا کہ غزل کے چمن میں پھول سب ہی کھلا لیتے ہیں، میں نثر کی سنگلاخ زمین کی آبیاری کرنے ہی کو کمال سمجھتا ہوں۔

اردو معاشرے میں مشاعرے کی روایت بہت قدیم ہے۔جب نہ ریڈیو تھا نہ ٹیلی وژن، نہ اخبار تھے نہ ادبی جریدے، لے دیکر ایک مشاعرہ ہی تھا جسکے ذریعے شاعر اپنی تخلیقات کو لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ پھر ہر مشاعرے کے بعد گل دستہ شائع ہوتا تھا جس میں سارا کلام کتابچے کی شکل میں دستیاب ہو جاتا تھا۔

خود مشاعرے کے ادب و آداب بھی بے مثال ہوا کرتے تھے۔ فرشی نشست ہوتی تھی، چاندنی بچھائی جاتی، گاؤ تکیے آراستہ ہوتے، شاعر مسند پر بڑے سلیقے سے بیٹھتے جہاں سنا ہے پہلو بدلنے کو بد تمیزی سمجھا جاتا تھا۔

انبالہ میں، جو کبھی شاعروں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا، لوگوں نے بتایا کہ پہلے زمانوں میں حاضرینِ مشاعرہ دامن میں پھول بھر کر آتے تھے اور اچھے شعر پر نہ صرف داد دیتے تھے بلکہ شاعر پر پھول بھی نچھاور کرتے تھے۔اب تو خیر پھول تو کیا، حاضرین ہوٹنگ نہ کریں تو مشاعرہ سونا سونا لگتا ہے۔

مشاعروں میں پھبتی کسے جانے کی روایت بھی پرانی ہے۔بڑے پائے کے لوگوں نے کبھی کبھی شاعر پر ایسی پھبتی کسی کہ کتابوں میں لکھی گئی۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے مشاعروں میں آوازے کسے جانے کے بہت قصے آج تک سینہ بہ سینہ چلے آتے ہیں۔ مگر عجب بات ہے کہ ہوٹنگ کا چلن ادھر کم ہو چلا ہے۔ شور شرابے کو بد تہذیبی سمجھا جاتا ہے۔

دکن والے تو اس معاملے میں مشہور ہیں۔ ہم آج بھی مشاعروں میں اپنے دکن کے دوستوں کو دیکھتے ہیں، وہ داد نہیں دیتے، خاموش رہتے ہیں۔ داد کو وہ شور گردانتے ہیں اور اسے بد اخلاقی تصور کرتے ہیں۔ میر انیس کے بار ے میں تو سب ہی جانتے ہیں کہ مرثیہ پڑھنے کے لئے دکن بلائے گئے۔میر صاحب کو سننے کے لئے ایک خلقت حاضر تھی۔

وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اپنا کہا ہوا تازہ مرثیہ پڑھنا شروع کیا۔ اب ہونا تو یہ تھا کہ ایک ایک مصرع پر دادو تحسین کے نعر ے بلند ہوتے، وہاں یہ ہوا کہ خاموشی چھائی رہی۔ کسی کونے کھدرے میں بیٹھے ہوئے کسی لکھنوی نے داد کی صدا بلند کی ورنہ دکن والے اپنی روایت کے مطابق چپ سادھے بیٹھے رہے۔

کہتے ہیں کہ میر انیس دو تین بند پڑھ کر منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر گئے کہ میں جمادات اور نباتات کے سامنے مرثیہ نہیں پڑھ سکتا۔سنا ہے کہ اگلے روز فرش مجلس پر مجمع کے درمیان جگہ جگہ لکھنو والے بٹھائے گئے تاکہ وہ داد دیں اور دیکھا دیکھی دکن والے بھی ہمّت کریں۔ تب کہیں اہلِ دکن کو میر انیس کا مرثیہ سننے کا موقع ملا۔

مشاعروں کی شہر ت او رمقبولیت سے مجھے کوئی گلہ نہیں۔مجھے جوخیال ستاتا ہے وہ یہ کہ نظم گوئی اورغزل گوئی کا یہی عالم رہا تو اردو نثر کا کیا ہوگا؟ کون لکھے گا، عوام تک کیسے پہنچے گی، کیا کبھی او رکہیں نثر خوانی کی محفلیں بھی ہوں گی۔ کیا کبھی لوگ بے مثال نثر سننے بھی آئینگے۔ کیا افسانے اور علمی مقالے بھی کسی مجمع کے سامنے پڑھے جائینگے۔

کیا تاریخ نویس لوگوں کی محفلوں میں اپنی تحقیق کے کمالات کا مظاہرہ کر پائیں گے۔ کیا تحقیق کے ماہرین کھوج لگا کر اور نکال کر لائے ہوئے جواہر پارے کسی محفل میں پڑھیں گے اور کیا کسی کمال کی تحقیق پر مجمع سے یہ آواز آئیگی کہ واہ۔ کیا خوب۔ دوبارہ پڑھئے۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں