دیسی مرغی اور فاسٹ باؤلر کی ناقابلِ فہم گگلی


وزیراعظم عمران خان نے اپنے سو دن پورے ہونے پر تقریر میں معاشی انقلاب لانے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہاتی عورتوں کو دیسی مرغی اور انڈے دیے جائیں گے جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی۔ بعض کم فہم افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایک مرغی ایک عورت کی زندگی بدل سکتی ہے؟ کیا پاکستان میں اتنی دیسی مرغیاں اور انڈے ہیں کہ ہر دیہاتی عورت کو دیے جا سکیں؟ ان ناقدین کے پاس ویژن ہوتی تو یہ سوال نہ پوچھتے۔

مرغی ملنے کے بعد ایک عورت کو صرف اس کے رہائشی ڈربے کا انتظام کرنا ہو گا۔ یا وہ بھی نہ ہو تو خیر ہے۔ مرغی خود ہی کسی درخت پر رات بسر کر لے گی۔ باقی اس کو پالنے کا خرچہ بھی کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کے ممتاز بینکر اور مزاح نگار یوسفی فرما گئے ہیں کہ ”مرغ اور ملا کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے، دانہ دنکا، کیڑے مکوڑے، کنکر پتھر چن کر اپنا پیٹ بھر لیں گے“۔ اس لئے یہ مرغیاں سیلف سسٹینڈ پراجیکٹ ہوتی ہیں۔

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی ملک کی معیشت میں مرغی کا کیا کردار ہوتا ہے؟ اگر ہم اپنے ازلی دشمن انڈیا کی روز افزوں ترقی کرتی ہوئی معیشت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا کی تقریباً ساری فصلیں، مرغیاں، بھینسیں اور انڈے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے انڈیا کا غذائی مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

ادھر مشرقی پنجاب کے کسان نہایت غریب ہیں۔ لیکن گوردارہ ڈیرہ بابا نانک کی یاترا کرنے کی خواہش ان میں بے پناہ ہے۔ یہ گوردوارہ ان کے لئے ویسا ہی مقدس مقام ہے جیسے مسلمانوں کے لئے مسجد نبوی۔ وزیراعظم کے اس منصوبے کے بعد پاکستان میں مرغیوں کی ہائی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے کرتار پور بارڈر کھلنے کے بعد انڈیا سے آنے والے یاتری بغل میں مرغی اور ٹوکری میں انڈے لے کر آنے لگیں گے تاکہ ان کی یاترا کا خرچہ پورا ہو۔ دوسری طرف پاکستان سے بھی ماہرین بارڈر پار بھیجے جا سکتے ہیں جو بھارت سے مرغیاں پکڑ کر لے آئیں گے۔

اس منصوبے سے کئی فائدے ہوں گے۔ مثلاً بھارت اپنی معیشت پر منڈلاتے اس بھیانک خطرے کو دیکھتے ہوئے عالمی فورمز پر جب یہ شکایت کرے گا کہ پاکستان کراس بارڈر مرغی چوری کر رہا ہے تو ساری دنیا اس کا مذاق اڑائے گی۔ اسے اندازہ ہی نہیں ہو پائے گا کہ یہ واقعی نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور بھارتی معیشت کی اصل طاقت، سرمایہ اور خوشحالی اس طرح پاکستان منتقل ہو رہے ہیں۔

دنیا نہیں سمجھ رہی لیکن عیار بھارتی گجراتی بنیا نریندر مودی ہمارے وزیراعظم کی اس گہری چال کو سمجھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے وہ خود بارڈر پر نہیں آیا حالانکہ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم کی آمد کو دیکھتے ہوئے پروٹوکول کا یہ تقاضا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم خود آتا۔ نہ ہی اس نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو آنے دیا۔

ان کی بے بسی کا لطف لیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ فاسٹ باؤلر عمران خان نے ایسی گگلی ماری ہے کہ بھارتی اسے کھیلنے سے بھی قاصر ہیں اور چھوڑنے سے بھی۔

چھوڑنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ ان پر کروڑوں سکھوں کا شدید دباؤ ہے۔ بارڈر نہ کھولنے کی صورت میں نہ صرف خالصتان تحریک دوبارہ زندہ ہو جائے گی بلکہ ہمیں ہرگز تعجب نہیں ہو گا اگر اس کے نتیجے میں بھارتی فوج کی اصل طاقت یعنی سکھ دستے بغاوت کر دیں۔ اور اگر کھول دیتے ہیں تو ان کی ساری مرغیاں پاکستان پہنچ جائیں گی۔ اب نریندر مودی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ بے بسی سے دانت پیستا رہے اور بھارتی سرمائے کی پاکستان منتقلی کو دیکھتا رہے۔

غالباً لین پول نے کہا تھا کہ سپین سے عربوں کا جانا ایسے تھا جیسے سونے کی چڑیا اڑ گئی ہو، تمام ترقی خوشحالی اور علم اس سے رخصت ہو گئے۔ مستقبل کا مورخ کہے گا کہ دیسی مرغی منصوبے اور کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان ویسا ہی تھا جیسے بھارت سے سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہتھیا لی گئی ہو، اس کی تمام ترقی خوشحالی اور علم اس سے رخصت ہو کر پاکستان منتقل ہو گئے ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar