خلا اور سیاسی خلا میں کوڑا کرکٹ کس کس نے پھیلایا ہے


تجاوزات اور کوڑا کرکٹ ہر ذمے دار اور با شعور شہری نا پسند کرتا ہے۔ تجاوزات قائم کرنے والے اور کوڑا کرکٹ پھیلانے والے افراد معاشرے میں قابل نفریں قرار پاتے ہیں۔ شہر کراچی جو ہر لحاظ سے وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر ہے، اس میں ایک عرصے سے تجاوزات کے قیام کا سلسلہ جاری ہے۔ عدالت عظمی کی ہدایت پر گزشتہ چند روز سے شہری انتظامیہ ایک عرصے سے قائم شدہ تجاوزات ڈھا رہی ہے۔ تجاوزات کے ڈھانے کے عمل کو ایک طبقہ لائق تحسین گردان رہا ہے، تو ایک طبقہ تجاوزات قائم کرنے والے کاروباری افراد کے کاروبار اور روزگار کے خاتمے کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کر رہا ہے۔

تجازات کے قیام کی وجہ کوڑا کرکٹ کا پھیلنا بھی یقینی ہوتا ہے، کیوں کہ کے کاروبار کے لیے تجاوزات عموما لب سڑک ہی قائم کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کوڑا کرکٹ لب سڑک ہی پایا جاتا ہے اور اکثر کاروباری حضرات اور انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت اور شہری و غیر شہری انتظامیہ کوڑے کرکٹ کے ان ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے میں عموما دلچسپی لیتی کم ہی نظر آتی ہے۔ کراچی کی شہری انتظامیہ تو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اٹھانے کے حوالے سے بآسانی یہ عذر کر کے بری الزمہ ہوتی رہی ہے کہ کوڑا کرکٹ اٹھانے والی گاڑیوں میں ڈیزل ڈالنے تک کی رقم انتظامہ کے پلے نہیں ہے۔

وطن عزیز میں تو کوڑا کرکٹ کے خاتمے کے حوالے سے شعور اس سطح پر نہیں ہے، جیسے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی اقوام میں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی اقوام سطح زمین پر کوڑا کرکٹ کے حوالے سے جہاں حساس ہیں، اتنا ہی خلا میں کوڑا کرکٹ کے حوالے سے ہیں۔ کیوں کہ خلا میں موجود یہ ملبہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی تنصیبات سے ٹکرا کر ان کو متاثر یا تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے گزشتہ برس کے اوائل سے خلائی کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے خلائی مشن جاری ہیں۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق خلا میں سب سے زیادہ کوڑا کرکٹ امریکہ اور روس نے پھیلایا ہے۔ ویسے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں امریکہ، برطانیہ اور روس نے سیاسی خلا پیدا کرکے حسب خواہش و بساط خوب سیاسی کوڑا کرکٹ پھیلایا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت جو خلا موجود تھے، وہ بدستور موجود ہیں۔ اس میں سے ایک خلا تعلیم کا بھی ہے، جو پاکستانی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، پذیرائی نہ ہونے کی وجہ سے وطن عزیز سے ان کا انخلاء ایک عرصے سے جاری ہے۔ اسی وجہ سے خلائی میدان میں پاکستان کافی پیچھے ہے، ورنہ خلا میں سب زیادہ کوڑا کرکٹ پھیلانے کا الزام بھی پاکستان پر ہی لگتا۔ اس کے علاوہ وطن عزیز میں سب سے بڑا خلا سیاسی خلا ہے، جو خلائی مخلوق کا پیدا کردہ ہے۔

خلائی مخلوق نے قیام پاکستان کے بعد سے ہی امریکہ و برطانیہ کے مشورے سے اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر کوشش کے بعد سیاسی خلا میں سیاسی کوڑا کرکٹ میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ خلائی مخلوق ایک عرصے سے سیاسی خلا جن شخصیات سے پر کرتی آئی ہے، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد خلائی مخلوق انہی شخصیات کو کوڑا کرکٹ سمجھ کر سیاسی میدان سے صاف کر دیتی ہیں اور سیاسی خلا کسی اور شخصیت سے پر کر دیا جاتا ہے۔ وہ سیاسی شخصیات جو خلائی مخلوق کی خواہش پر ایک عرصے سے سیاسی خلا پر کرتی آ رہی ہیں، اب و سیاسی طور پر ری سائیکل ہوتی جا رہی ہیں اور دوبارہ سیاسی طور پر کار آمد ہونے کے بعد خلائی مخلوق کی چالوں کو سمجھ گئی ہیں۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری جنہوں نے قریباً ہر سیاسی گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے، اپنے بیانوں سے ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں، بہت دانش مند سیاست دان ہیں۔ غالباً ان کو اندازہ ہے کہ 2022 وہ سال ہے، جس میں وطن عزیز میں خلائی مخلوق کی طرف سے سیاسی خلا بڑھنے کا امکان ہے۔ ( گو کہ کچھ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ 2022 سے قبل بھی سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ ) اس لیے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ 2022 میں وطن عزیز سے پہلا فرد خلا میں جائے گا۔

جو شخصیت خلا میں جائے گی، وہاں اس کی کیا سرگرمیاں ہوں گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں خلا میں سب سے زیادہ کوڑا کرکٹ امریکہ و روس پھیلایا ہے، وہیں اکثر ممالک میں سیاسی خلا امریکہ، برطانیہ اور روس کی وجہ سے پیدا ہوا اور سیاسی خلا میں سب سے زیادہ کوڑا کرکٹ ان ہی ممالک نے پیدا کیا ہے۔ رہ گئی بات وطن عزیز کی تو خلا میں تو کوئی شخص اب تک گیا نہیں ہے، اس وجہ سے خلا میں کوڑا کرکٹ پھیلانے کا الزام پاکستان پر نہیں لگ سکتا لیکن وطن عزیز کے سیاسی خلا میں سیاسی کوڑا کرکٹ پھیلانے کی ذمے دار خلائی مخلوق ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں