آپ آزاد ہیں۔۔۔ پھر سے کہیے گا


\"yousafدوسری عالمی جنگ ختم ہو چکی تھی، برصغیر پاک و ہند میں گاندھی جی کی تحریک عدم تشدد اور مسلم لیگ کا مطالبہِ قیامِ پاکستان زبانِ زد عام تھا۔ تین جون کے اعلان آزادی کو اڑسٹھ روز گزر چکے تھے۔ گیا رہ اگست کا دن بھر پور رنگینیاں بکھیرتے اور انمٹ یادیں سمیٹتے مشرق سے مغرب کا سفر جاری رکھے تھا اور ادھر ریاست پاکستان کے مستقبل کا ڈھانچہ طے پا رہا تھا۔

 یہی کوئی بمشکل سات دہائیاں پہلے فرمایا گیا تھا کہ \”آپ آزاد ہیں اپنے مذہبی معاملات و ذمہ داریوں میں۔ ریاست کا آپ کے ایمان عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ مذہب اور ریاستی امور ایک دوسرے سے جدا مگر تمام شہری برابر ہوں گے\”۔ 40 سالہ پاسٹر ریاض رحمت گود میں بچہ اُٹھائے افسردگی کے عالم میں گلی میں چند افراد کے جھرمٹ میں کھڑے اہم تاریخی واقعہ کا خلاصہ بیان کر رہے تھے۔ ان کے گرد دو درجن کے قریب جمع افراد کے افسردہ چہرے گزشتہ روز کے نا انصافی کے واقعہ کی گواہی دہے رہے تھے۔ \”دو نمبر\” شہری گھروں سے نکل کر ٹولیوں میں کھڑے دلچسپ تبصرے کر رہے تھے۔ \”نہ ساڈے گرجے محفوظ نے تے نہ اسیں\” (نہ ہم محفوظ ہیں اور نہ ہمارے گرجا گھر) ایک خاتون نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر میری توجہ حاصل کرتے ہوئے مضتصراً گہری بات کہہ ڈالی۔

اسکولوں میں گرمی کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے گلی میں بچوں نے قبضہ جما رکھا تھا۔ ہجوم کے بیچ سے دبی دبی آوازیں \”کہاں ہے مذہبی آزادی؟\” سنائی دے رہی تھیں مگر سبری فروش اور غبارے بیچنے والے کی دبنگ آواز ان پر غالب آ گئی ۔

لاہور میں فیروز پور روڈ پر اچھرہ بازار کے مدمقابل 50 سال سے آباد یہ فا ضلیہ کالونی ہے۔ یہاں کے باسیوں کو میسر شہری سہولیات عام طور پر متوسط طبقہ کی دیگر آبادیوں سے چنداں مختلف نہیں اور انسانی رویے بھی جوں کے توں۔ کئی دہائیوں سے مذہبی ہم آہنگی مثالی تھی مگر اب کسی کی نظر لگ گئی۔

\”ماہ جون کے بارہویں روز اتوار کے دن مسیحی معمول کے مطابق متحدہ چرچ میں عبادت میں مشغول تھے کہ یکا یک عبادتی ماحول پکڑ دھکڑ، ڈر اور خوف میں تبدیل ہو گیا۔ میں تو تین سالہ آیان کو لے کر کونے میں جا چھپی\”، جواں سال خاتون لرزتے ہونٹوں اور خوف سے بھری آنکھوں سے چرچ میں ہونے والی پولیس گردی کا تذکرہ کرنے لگی۔

\”ایک شخص جوتوں سمیت، پولیس کی وردی پہنے، اسلحہ تھامے اور للکارتے ہوئے چرچ میں داخل ہوا۔ اس نے دعائیہ تقریب رکوا دی، مائیک بند کر وا دئیے، مسیحی ایمانی کتب پاوں تلے روند ڈالیں، آلاتِ موسیقی جو حمد و ثنا کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُنہیں نقصان پہینچانے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ اس قدر آناً فاناً ہوا کہ کسی کو ردِ عمل کی جرات نہ ہو سکی۔ پاسٹر ریاض نے اسے مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیا اور پولیس اہلکار کو چرچ سے نکالنے کی کوشش کی تو اس نے انہیں سرکاری وردی، سرکاری عہدہ اور سرکاری اسلحہ کے رعب سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر فوراً حکمنامہ بھی جاری کر دیا کہ \”بند کرو یہ ـــ اور آئندہ یہاں یہ شور شرابا نہ ہو \”۔

چند روز پہلے مذہبی آزادی پر پابندی کا ایسا ہی ایک واقعہ ناروال میں بھی پیش آیا جہاں چند افراد نے ایک عمر رسیدہ مبشرِ انجیل کو \”ٹھیک ٹھاک\” سبق سکھایا اور آئندہ ایسی \”حرکات\” سے باز رہنے کا حکم صادر فرما دیا۔ ملتان میں مسیحی نشریات کا کیبل ٹی وی بند کروا دیا گیا۔ لاہور شامکے بھٹیاں میں چرچ کے سازو سامان کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کراچی میں چرچ کی زمین پر قبضہ کی کوششیں جاری ہیں۔

فاضلیہ کالونی چرچ لاہور میں پولیس گردی کا نوٹس لے لیا گیا، پرچہ درج ہوا اور اہلکار کو معطل بھی کر دیا گیا۔ محفل میں کسی نے سوال اٹھایا کہ اگر مذہبی آزادی کا حق نوٹس لینے، اہلکاروں اور شر انگیزوں کی معطلی تک ہی محدود ہے تو کیوں نا آئین پاکستان میں سے مذہبی آزادی کا آرٹیکل بیس ہی معطل کر دیا جائے، تو جواباً محفل میں موجود تمام سر گویا اقرار مٰیں ہلنے لگے۔

چلتے چلتے ایک نوجوان نے تو قائد کی تقریر \”آپ آزاد ہیں ـ ـ ـ ـ\” میں ہی ترمیم کر کے اس میں \”نہیں \” کے اضافے کی تجویز دے ڈالی تاکہ آئندہ بابائے قوم کے الفاظ کا پاس رکھنے ہوئے کسی شہری کو دوسروں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، لہٰذا مشتہر کیا جائے اور سب کان کھول کر سن لیں کہ مذہبی آزادی کے معاملات میں \”یو آر ناٹ فری\” ( آپ آزاد نہیں ہیں)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔