کرتار پور بارڈر کا کھلنا اور یوٹرن ماسٹر کا مہا یوٹرن


کرتار پور راہداری بالآخر کھول دی گئی، جس راہداری کے کھلنے کی خواہش مند شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی تھیں اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی مگر کریڈٹ ملا یوٹرن ماسٹر وزیراعظم عمران خان صاحب کو۔ کرتار پور راہداری کھلنا یقیناً ایک احسن اقدام ہے مگر جس طریقے سے اسے کھولنے کا اعلان کیا گیا اور پھر اسے تاریخی پیش رفت کہہ کر اس پر بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے۔ کرتار پور باڈر کھولنے کی کوشش شہید بینظیر بھٹو نی کی تو ان پر علیحدگی پسند سکھوں کی مدد کا الزام عائد کر کے انہیں سیکیورٹی رسک کہا گیا اور ان کی اس ایماندارانہ کاوش کو سبوتاژ کردیا گیا۔ پھر جب میاں نواز شریف نے یہی کوشش کی تو ان کی بھی کوششوں کو شرمندۂ تعبیر ہونے سے روک دیا گیا۔

 پھر موقع آتا ہے جناب عمران خان صاحب کی حلف برداری کا جب سابق بھارتی کرکٹر و ریاستی وزیر بھارتی پنجاب نوجوت سنگھ سدھو ان کی دعوت پر پاکستان آئے اور اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب نے انہیں جادو کی جپھی ڈالتے ہوئے کرتار پور راہداری کھولنے کی ”اپنی“ خواہش کا اظہار کیا۔ ان کی جادو کی جپھی نے واقعی جادو کا سا اثر کیا اور محض سو دنوں میں جنوبی پنجاب تو صوبہ نہ بن سکا، مگر کرتار پور راہ داری کھولنے کا سنگ بنیاد ضرور رکھ دیا گیا۔

 اب اس میں خان صاحب کی حکومت کا کتنا کمال ہے اس بات سے قطع نظر یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس تاریخی تقریب میں جب خان صاحب فرما رہے تھے کہ ”ہندوستان اور پاکستان کو ماضی کی غلطیوں اور تلخ یادوں کو بھلا کر دوستی کی نئی راہیں متعین کرنی ہوں گی۔ جب جرمنی اور فرانس ماضی میں ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود ایک یونین کے تحت مل کر چل سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ “ تو شاید وہ بھول گئے تھے کہ اس سے پیشتر وہ اپنے حریف میاں نواز شریف کی ایسی ہی کوششوں اور کاوشوں کو غداری کے مترادف قرار دے چکے تھے۔

مگر اس مہا یوٹرن کے باوجود یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور حکومت پاکستان کے اس مثبت اقدام کا بھارت نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ ”کرتار پور راہ داری کھولنے کے لئے بھارت کئی سالوں سے مطالبہ کرتا رہا ہے جو اب مان لیا گیا ہے، یہ تاریخی قدم ضرور ہے مگر دو طرفہ مذاکرات بحالی کے لئے کافی نہیں ہے۔ پاکستان کو بھارت میں دہشت گردی بند کرنا ہوگی اس کے بعد ہی مذاکرات کی بحالی پر بات ہوسکتی ہے۔“ مودی سرکار کا مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ وہ اس قدم کو سراہتی تو ہے مگر ایک چھوٹے سے تناظر میں، کیونکہ وہ اس اقدام کی مخالفت کرکے آنے والے انتخابات میں سکھوں کی حمایت و ہمدردی سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتی۔

کرتار پور راہ داری کے کھلنے پر وزیراعظم پاکستان تاریخی یوٹرن لیتے نظر آئے جب وہ پاک بھارت تجارت کی بحالی، دونوں ملکوں میں غربت کے خاتمے، بنیادی اختلافی امور پر مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے تو وہ دراصل ماضی میں پاک بھارت تعلقات پر اپنے مؤقف کے بلکل برعکس خواہشات کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ میاں نواز شریف کی حکومت پر مودی سے ذاتی قربت اور شریف خاندان کے کاروباری مفادات قرار دے کر ان پر شدید تنقید کرتے تھے اور میاں صاحب کو غداری کے سرٹیفکیٹ الاٹ کرتے تھے۔

وہ اور ان کے اکابر رفقا ہندوستان کو پاکستان میں براہ راست دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے میاں صاحب کی حکومت کو مودی اور ان کے کاروباری شخصیات کا سہولت کار بھی کہتے رہے ہیں۔ خان صاحب اور ان کے ساتھی انڈین دہشتگرد، را ایجنٹ کلبھوشن یادو کو سزا دینے میں غیرضروری تاخیر، انڈیا کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت، کشمیر میں معصوم و بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام، لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے نہتے پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اکثر واہگہ بارڈر بھی بند کرنے کے مطالبے کرتے رہے ہیں۔

 مگر یوٹرن بادشاہ اگر یوٹرن نہ لے تو لیڈر ہی کیسے کہلا سکتا ہے سو جب جنرل باجوہ نے کرتار پور بارڈر کھولنے کی ”اپنی“ خواہش کا اظہار کیا تو ہمارے یوٹرن وزیراعظم نے فوراً یوٹرن لیتے ہوئے اس اقدام کو اپنی حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیا اور صرف تین ماہ میں اسے عملی جامہ بھی پہنایا تو ان کی خوشی دیدنی تھی ان کے حامی انہیں تاریخ کا عظیم لیڈر کہتے بڑے فخریہ انداز میں ان کی مدح سرائی کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ ماضی میں دو وزرائے اعظم یہ کام نہیں کر سکے کیونکہ جو قوتیں یہ بارڈر کھولنے کے لئے راضی نہ تھیں وہ آج خود اسے کھولنے کی خواہش کا اظہار کر رہی تھیں، تو اس میں خان صاحب کی لیڈرشپ کا کیا کمال ہے۔

 خان صاحب جوش خطابت میں نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی پنجاب سے انتخاب لڑنے اور ان کی کامیابی کی پیش گوئی کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ کہیں وہ پاکستانی پنجاب کے غیور اور محب وطن پاکستانیوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان تو کھڑا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے تاریخی اقدام کے حق میں تایخی خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں پر مظالم کا کیوں بھول گئے، کیوں انہیں لائن آف کنٹرول پر بھارتی دراندازی، بے گناہ نہتے پاکستانیوں کی ہلاکتیں نظر نہیں آئیں، کیوں انہوں نے بھارت کو کشمیر کا بارڈر بھی کھولنے کی تجویز نہیں دی، انہوں نے بھارت کی ایک ارب چالیس کروڑ آبادی میں سے بارہ کروڑ کی اقلیتی آبادی سکھوں کے مذہبی مقامات کی زیارت کو ترجیح دی، جبکہ مسلمان بھارت میں سکھوں سے زیادہ بڑی اقلیت ہیں، ان کے لئے مذہبی مقامات کی زیاتوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے کھوکھراپار موناباؤ سرحد کھولنے کی تجویز دینا وہ کیوں بھول گئے۔

بھارت پاکستان پر علیحدگی پسند سکھوں کی حمایت سمیت دیگر بھارتی علیحدگی پسندوں کی مدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ اور ہم کرتار پور بارڈر کھول کر سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے سکھوں کی ہمدردیاں حاصل کرلی ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر بھارت پاکستان میں موجود انتہا پسند گروپوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھانا شروع کردے۔ اگر کرتار پور بارڈر کھولنے کی ایک منطق کاروبار میں اضافہ بھی ہے تو پھر بھارت سے ملحقہ ساری سرحدیں کھول دینی چاہیے تاکہ بھارتی پیسہ زیادہ سے زیادہ پاکستان آ سکے۔

تحریک انصاف کے حامی کرتار پور بارڈر کھلنے کے معاملے کو اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں کی بہت بڑی کامیابی سمجھ کر بھنگڑے تو ڈال رہے ہیں مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ بھارت نے آج بھی کشمیر میں کتنے ہی نہتے کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔ بھارت اب بھی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، کلبھوشن یادو آج بھی پھانسی کی سزا کا منتظر ہے، بھارت اب بھی پاکستان میں انتہا پسند، علیحدگی پسند، دہشتگردوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کا ثبوت کراچی میں چینی کونسلیٹ پر دہشتگرد حملہ ہے۔

 آخر ان سو دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ خان صاحب بھارت کی محبت میں اتنا ڈوب گئے کہ انہیں تمام اختلافات بھلا کر ساتھ چلنے کی پیشکش تو کر رہے ہیں مگر اپنے ملک کی حزبِ اختلاف کو کچلنے کے لئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ آج وہ خود وزیراعظم ہیں مگر آج ان کی جگہ حزبِ اختلاف کی کسی جماعت کا وزیراعظم ہوتا تو ان کا مؤقف اس کے بلکل الٹ ہوتا۔ وہ اور ان کے ساتھی اپنے مخالف پر ملک دشمنی اور بھارت نوازی کی فتوائیں جاری کر رہے ہوتے۔

اس لئے یہ بہتر ہوا کہ آج وہ وزیراعظم بن کر بھارت سے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے وہی کوششیں کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو ماضی میں کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ خان صاحب کو چاہیے کہ قومی اسمبلی میں آ کے اپنے مہا یوٹرن پر حزبِ اختلاف اور قوم کو اعتماد میں لیں کہ آخر ایسی کون سی مجبوریاں آڑے آگئیں کہ ایک ایسے دشمن کو رام کرنے کے لئے انہیں اس طرح یوٹرن لینا پڑا جو ان کے ملک میں دہشتگردی اور سرحدوں کی خلاف ورزی، نہتے ہم وطنوں کے قتل عام، کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں