فوجی عدالتیں اور انصاف


\"aimalانٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹس جو دنیا کے نامور ججوں اور قانون دانوں پر مشتمل ایک غیر سرکاری معتبر ادارہ ہے دنیا میں قانون کی بالادستی کو فروغ دینے کے زریعے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرتا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں اس کمیشن کی حال ہی میں ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے۔ یہ کسی اور ملک کے بارے میں ہوتی تو وہاں کہرام مچ جاتا۔

آئی سی جے نے اکسیویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے ایکٹ مجریہ 1952 کی روشنی میں قائم فوجی عدالتوں کا ایک جائزہ لیا ھے۔ اس ترمیم کے تحت گیارہ فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ جنوری 2015 سے لیکر آئی سی جے کی رپورٹ تیار ہونے تک کل 82 مقدمات نمٹائے گئے۔ جس میں 105 افراد کے کیسوں کو سنا گیا۔ ان میں سے 81 ملزموں کو سزا سنائی گئی۔ 77 افراد کو پھانسی اور 4 کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جبکہ ابھی تک 12 افراد کو پھانسی بھی دی جا چکی ہے۔

 ان سزا یافتگان کے علاوہ انہی کیسوں کے باقی ملزموں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں جاری کی گئی ہیں کہ ان کا کیا بنا۔ سزایافتہ افراد میں 43 کا تعلق تحریک طالبان پاکستان، 8 کا القاعدہ، 7 کا سپاہ صحابہ، 6 کا حرکت الجہاد اسلامی وغیرہ سے ھے۔

 آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں عدالتی کارروائی کے حوالے سے اپنے تحفظات کے ساتھ ساتھ چند ایک عوامی مشکلات کا ذکر بھی کیا ھے۔ مثلا فیصلے کی کاپی کا نہ ملنا جس میں شواہد اور سزا دینے کی وجوھات کا ذکر ھو، الزامات کی تفصیل نہ بتانا ، ملزمان کو اپنی پسند کے وکیل مقرر کرنے کا حق نہ دینا شامل ہیں۔

اس طرح قیدیوں سے ناروا سلوک اور مبینہ طور پر دو بچوں کو سزا دینے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں کے حوالے سے تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کئی ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے اس حوالے سے اپنی مخالفت اور تحفظات کا اظہار کیا۔

اس طرح اکیسویں ترمیم کے پیش کرتے وقت بھی اکثر سیاسی جماعتوں اور سول سوسایٹی خاص کر وکلاء کے اس پر شدید تحفظات تھے مگر اس وقت وسیع تر قومی مفاد میں بہ امر مجبوری یہ ترمیم قبول کی گئی۔ حکومت نے کسی حد تک ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کے تحفظات اور خدشات کی روشنی میں اس قانون میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں۔

دہشت گردی کے مسلے کا حل فوجی عدالتوں کے قیام کی صورت میں ڈھونڈا گیا تھا۔ اس وقت تک عدالتوں میں دھشت گردی کے مقدمات کی رفتار سست تھی اس کے علاوہ عدالتی اہلکار خوف اور دہشت کا شکار بھی محسوس ہوتے تھے۔ تفتیش کا نظام روایتی اور ناقص تھا جس کی وجہ سے ملزمان کو سزا دلوانا ممکن ہی نہ رہتا تھا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر فیصلے ھو بھی جاتے ہیں تو ان پر عملدرامد کی نوبت ہی نہیں آتی تھی۔ فوجی عدالتوں کے قیام سے مقدمات جلد نمٹائے جانے لگے۔

اس قسم کی رپورٹوں کے حوالے سے ھمارا رویہ بڑا سطحی قسم کا ھوتا ھے اور ھر اس رپورٹ میں جس میں سیکورٹی فورسز کا ذکر ھو یا تو ھاتھ لگانے سے گریز کیا جاتا ھے اور یا اکثر نظرانداز کیا جاتا ھے۔ اس رویے کے نتیجے میں دو قسم کے نقصانات ھوتے ھیں۔

ایک تو غلطیاں اور کمزوریاں دور کرنے کیلئے جس قسم کے اندرونی اور بیرونی دباؤ کی ضرورت ھوتی ھے وہ کمزور رہ جاتا یا اکثر ناپید ہی ہوتا ہے۔ اصلاح احوال کا موقع ضائع کیا جاتا رہا ھے۔ جہاں تک تنقید کا تعلق ھے تو ہمارے ہاں کئی قسم کے منفی رویے موجود ھیں۔ بحیثیت قوم کے ھمارے ہاں تنقید کی پزیرائی نہیں کی جاتی بلکہ الٹا برا مانا جاتا ھے اور ایسا کرنے سے صورت حال خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔

کچھ ادارے مقدس بنائے گئے ہیں چاہے وہاں کتنی کمزوریاں یا خامیاں موجود کیوں نہ ھوں ان پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔ اکثر تنقید کو دشمن کا پروپیگنڈا قراردے دیا جاتا ھے۔ عمومی ذہنیت یہ ھے کہ کمزوریوں اور نقائص کی نشاندہی کرنا ملک دشمنی اور ان غلطیوں اور کمزوریوں سے جو نقصان ھو رہا ھوتا ھے اس کی بازپرس کرنا ہی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ تک نہیں سوچا جاتا کہ اگر کوئی نشاندہی کر رہا ہے تو غلطیاں موجود ہیں، تبھی ایسا ہو رہا ہے۔

 اس کے علاوہ بعض اوقات تحفظات اور تنقید پر سنجیدہ غور اور اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لینے کی بجائے بحض اوقات ادارہ جاتی تعصب اور ادارہ جاتی مفاد کی وجہ سے بھی مسائیل نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں۔ نہ اصلاح احوال ہو پاتی ہے نہ دیرپا حل سامنے آ پاتے ہیں۔

سیکورٹی فورسز کے اپنی اندرونی مانیٹرنگ، چیک اینڈ بیلنس سسٹم اورسخت ڈسپلن کی وجہ سے عوام کی ان اداروں سے توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ قومی ادارے جتنا زیادہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے اتنا ہی ہمارے ریاستی احترام میں اضافہ ہوگا۔

اب دنیا سمٹ کر ایک عالمی گاوں بن چکی ھے اور پاکستان اسی عالمی گاؤں کا ایک حصہ ہے۔ عالمی برادری انسانی حقوق عدالتی نظام کے حوالے سے ہماری کارکردگی پر نظر رکھے گی۔ بار بار جائزے لیکر اگر کمزوریاں یا حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں گی تو اس کی نشاندہی اور بہتری کیلئے سفارشات بھی پیش کرے گی اور ہر ممکن دباؤ بھی ڈالے گی۔

 آئی سی جے نے فوجی عدالتوں میں منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی معیارات (basic standards of fair trial) کو یقینی بنانے اور سزایافتہ افراد کے خاندانوں کی شکایات کی روشنی میں ان معیارات کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ھے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو عدالتی نظام کو چاہے سول ھو یا فوجی بین الاقوامی اداروں کی تحفظات اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے مسلمہ اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر چلانا چائیے۔ ہمیں اپنا قانونی سسٹم نقائص اور کمزوریوں سے پاک کرنا ھو گا تاکہ بیرونی اداروں اور ھمارے دشمنوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے اور غیر ضروری طور پر ملک کی بدنامی نہ ھو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “فوجی عدالتیں اور انصاف

Comments are closed.