‌ ڈاکٹر عمر سیف کی برطرفی


‌ جن حضرات نے 80 یا نوے کی دہائی میں سیاست کا بغور جائزہ لیا ہے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اگر کسی حکومت سے کوئی عوامی فلاح کا کام اتفاق سے سرزد ہو بھی گیا تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ پراجیکٹ لپیٹ دیا گیا کیونکہ حکومت بدل گئی۔ حکومت بدلنے کے ساتھ ہی نئی حکومت کی پہلی ترجیح مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے پچھلی حکومت کے شروع کیے گئے منصوبوں کو نظرانداز کرنا ہوتا تھا۔ اس سے ان منصوبوں پر خرچ ہونے والی ساری سرمایہ کاری خاک ہو جاتی تھی۔

‌اگر کبھی کسی نے ان منصوبوں پر ضائع ہونے والے وسائل کی مالیت کی جمع تفریق کی تو ہوشربا حقائق سامنے ائیں گے۔ عمران خان کے اقتدار میں انے سے یہ امید بندھی تھی کہ کچھ نیا ہو گا لیکن خان صاحب کی ٹیم کی تمام توانائیاں صرف یہ ثابت کرنے میں صرف ہو رہی ہیں کہ پچھلے دور میں پاکستان پر شیاطین کی حکومت تھی۔ ہم مانتے ہیں کہ بہت کچھ غلط ہوا اور ہو رہا تھا لیکن بہت کچھ اچھا بھی ہو رہا تھا اگرچہ چیونٹی کی رفتار سے سہی لیکن سفر اگے کی طرف جاری تھا۔ سابقہ حکومت کے قابل قدر کاموں میں ایک پنجاب آئی ٹی بورڈ کا قیام بھی تھا اور اس کے روح رواں ڈاکٹر عمر سیف تھے۔

ڈاکٹر عمر سیف لمز یونیورسٹی کے گریجوئیٹ ہیں، بائیس سال کی عمر میں کیمبرج یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ میساچو سٹس یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ہی پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی ڈاکٹر صاحب اس دوران متعلقہ ادارے کی فیکلٹی سے بھی وابستہ رہے یہاں وہ کمپیوٹر سائنس اینڈ آرٹیفیشل ‌ انٹیلیجنس لیبارٹری میں بطور ریسرچ سائنسدان پراجیکٹ آکسیجن کا حصہ رہے۔ 2006 میں مائیکرو سافٹ نے انہیں پائنیر ایوارڈ سے نوازا

اسی سال امریکن یونیورسٹی سے اینوویٹر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اگست 2014 میں حکومت پاکستان نے تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اگلے سال یونیسیف چیئر بھی ان کے حصے میں ائی۔ ڈاکٹر صاحب کی اکیڈیمک کامیابیوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سمسال اور بٹ میٹ نمایاں ہیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب کے سمسال سے بیلنز اف میسیجز بیک وقت بھیجے جا سکتے ہیں۔ بٹ میٹ ان ممالک میں ڈاؤنلوڈنگ کو آسان اور تیزرفتار بناتا ہے جہاں بینڈز وڈتھ بہت سلو ہو۔

‌ یہ پنجاب اور پاکستان کے عوام کی خوش قسمتی تھی کہ عمر سیف اس وقت کے حکومتی زعماء کی نظر میں ا گئے اور شہباز شریف نے انہیں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی اور ان کی رضامندی پر نومبر 2011 میں بطور چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس وقت اس ادارہ کے وہی حالات تھے جو اس نوعیت کے سرکاری اداروں کے ہوتے ہیں۔ چند دکھاوے کے پراجیکٹ جو کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔ تقریبنا ستر کے قریب ملازمین تھے اور ادارے کا سالانہ حاصل وصول صفر جمع صفر تھا۔

ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں صرف ایک سال کے اندر ادارے کی کارکردگی نظر انے لگی سب سے بڑا کام جو شہباز شریف کا دیرینہ خواب تھا وہ محکمہ مال کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کی شکل میں منتقلی۔ جو لوگ محکمہ مال کی کارگزاری اور نوعیت سے واقف ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا کام تھا اج اپ کو اگر اپنی زمین کی جمع بندی درکار ہو تو اپنے علاقے کے کمپیوٹر ریکارڈ افس میں جائیں سرکاری فیس جمع کروائیں اور مطلوبہ دستاویز لے کر گھر ا جائیں اس کام کی اہمیت اگر کوئی جان سکتا ہے تو دیہی علاقہ کے چھوٹے زمیندار، جن کی جوتیاں گھس جاتی تھیں پٹوار خانوں کے چکر لگاتے لگاتے جہاں پٹواری ایک بے تاج بادشاہ کی طرح نہ صرف ان کی عزت نفس مجروح کرتا تھا بلکہ کئی گنا فیس بھی وصول کرتا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کا ایک اور بہت بڑا کارنامہ ڈینگی کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایپ کی تیاری تھی جس کی مدد سے ڈینگی کے متوقع حملوں کو روکنے میں بے پناہ مدد ملی ڈاکٹر صاحب کی خدمات صرف پنجاب تک محدود نہیں تھیں بلکہ کے پی کے میں پولیس ریفارمز جن پر تحریک انصاف بجا طور پر فخر کرتی تھی بھی ڈاکٹر صاحب کی مدد کے بغیر نامکمل تھیں۔ اس مضمون کی طوالت اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ بات کو سمیٹا جائے۔ لیکن یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر عمر سیف پر آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داری بھی جہاں ڈاکٹر صاحب بلا معاوضہ کام کرتے تھے۔ چند ہی برسوں میں عرفہ کریم ٹاور میں قائم یہ ادارہ پاکستان کی چند بہترین یونیورسٹیز میں شمار ہونے لگا ہے۔

‌ ایسی شخصیت کو بیک جنبش اپنے عہدے سے ہٹا دینا سمجھ سے باہر ہے شاید ان کا قصور یہ تھا کہ انہیں اس عہدے پر میاں شہباز شریف نے متعین کیا تھا۔ اس مین کوئی شک نہیں کہ پنجاب آئی ٹی بورڈ پہلے بھی موجود تھا اور انشا اللہ ڈاکٹر عمر سیف کی برطرفی کے بعد بھی قائم رہے گا لیکن شاید اس طریقے سے فعال نہ رہ سکے جس طرح ڈاکٹر عمر سیف کی زیرنگرانی کام کر رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس ملک کا اثاثہ ہیں اور اپنے اثاثوں کی بے قدری کرنے والی قومیں ہمیشہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

پروفیسر سجاد حیدر کی دیگر تحریریں
پروفیسر سجاد حیدر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں