برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا


ترکِ مذہب بڑا گناہ ہے یا اپنے مذہبی گروہ کے مجموعی فہم پر تنقید کرنا؟ پروفیسر دبییش آنند اِن دونوں جرائم کے مرتکب ہیں۔ ان جیسا ایتھیسٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔
میں چھوٹی عمر سے مذہب کی بڑی بڑی کتابیں پڑھتا رہا ہوں۔ لیکن دہریت (atheism) سے میرا آمنا سامنا سب سے پہلے دسویں جماعت میں ہوا تھا۔ یوٹیوب پر اسلامی لیکچرز دیکھنے کے شوق میں ایک دن کسی دہریے (atheist) پروفیسر کا لیکچر سن لیا۔ کالج کے زمانے میں فلسفہ و ادب پڑھنا شروع کیا تو معلوم پڑا کہ دہریت کو سمجھے بغیر مذہب کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی۔ جسے “لا” کی سمجھ نہیں پڑی اُسے ”الا اللہ” کہنے کا کیا لطف آئے گا۔ اقبال نے کہا تھا:
لبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے “لا” سے
مگر مُسلم کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ” اِلّا”

یونیورسٹی اور پروفیشنل لائف میں چند لوگوں سے دوستی ہوئی جو مذہب ترک کر چکے تھے یا کرنے والے تھے۔ ان لوگوں سے مذہب اور سماج کے پیچیدہ رشتوں کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی۔ ان میں بہت سے لوگوں کا بنیادی اعتراض مذہبی لوگوں “کمزور علمی استدلال” نہیں بلکہ “نظریۂ اشتعال” تھا۔ کئی کئی لوگ خدا کے منکر نہیں تھے، مذہب کے انکاری تھے۔ میں ان دوستوں کو اپنے طور پر مسلمان بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن میرا سامنا ابھی کسی بلند افکار ایتھیسٹ سے نہیں ہوا تھا۔
فرانسیسی ماہرِ عمرانیات (sociologist) ایمل ڈرکھائم کے نزدیک خدا کی پوجا کرنا دراصل اپنے معاشرے کی پرستش ہے۔ یہ نظریہ میرے ایمان سے متصادم حالت میں ہے۔ اس لیے میں اِسے قبول نہیں‌ کرتا۔ میں ایک مذہبی دل و ذہن کا مالک ہوں۔ لیکن سن 1992 میں‌ ایک برہمن نوجوان نے اپنے “معاشرے کی پرستش” سے توبہ کرلی تھی۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان دبیش آنند تھا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہونے والے مُلک گیر فسادات کے نتیجے میں تقریبََا دو ہزار مسلمان قتل کیے گئے۔ ان فسادات نے اس نوجوان کا ایمان بھی منہدم کردیا۔ دبییش آنند نے اس‌ خون کی ہولی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہی تو ہندو انتہا پسند جماعتیں اس کا دین و ایمان جانچنے لگیں۔اس سے پوچھا گیا کیا تم ہندو نہیں؟ دبییش آنند کو بتایا گیا کہ ‘ہم’ اعلی و ارفع مخلوق ہیں۔ بھگوان کے چنیدہ، ہندوستان کے اصلی وارث۔ اور ‘وہ’ مسلمان ہیں۔ ‘وہ’ ہماری مذہبی تاریخ اور ورثے کے دشمن ہیں۔ ‘ہمیں’ ہندو قوم کو مضبوط بنانا ہے۔ لیکن وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ دبییش آنند اس ” مَن و تُو” کے جھگڑے سے آگے نکلنے والا ہے۔
“اُس دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ایسے گروہ کا حصہ نہیں‌ ہوں جو انسانوں کی جان لینے کے لیے اپنے دھرم کو ہتھیار بناتا ہے،” پروفیسر دیبیش آنند یہ جملہ کہنے کے بعد خاموش ہوگئے۔ وہ گردن جھکائے ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ کلاس میں سناٹا ہو گیا۔ وہ ہماری کلاس “سوشیولوجی آف ریلیجن” میں گیسٹ اسپیکر کے طور پر لیکچر دے رہے تھے۔ پروفیسر آنند یونیورسٹی آف ویسٹمنسٹر (لندن) کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشل سائنسز کے ہیڈ ہیں۔
کلاس میں خاموشی ٹوٹی تو پروفیسر گویا ہوئے: “مجھے مذہب سےکوئی بیر نہیں۔ اس دن کے بعد بھی جب کبھی میری والدہ مندر، مسجد، گردوارے، گرجاگھر یا کسی درگاہ پر جاتیں تو میں بھی ان کے ساتھ ماتھا ٹیک لیتا۔ لیکن میں مذہبی انتہا پسندی کے آگے نہیں‌ جھک سکتا۔”
لندن آنے سے پہلے نامور صحافی اور دی نیوز انٹرنیشنل کے رپورٹر ضیا الرحمن نے مجھے پروفیسر آنند سے متعارف کروایا تھا۔ میں نے جب “مذہب، قانون اور معاشرے” کے موضوع پر ماسٹرز کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ پروفیسر آنند میرے ڈگری پروگرام کا کوئی کورس نہیں پڑھا رہے۔ لیکن مجھے ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے تھے۔ میں‌ نے سوشل میڈیا پر دیکھا تھا کہ ہندو انتہا پسند انہیں غدارِ وطن اور پاکستان کا ایجینٹ کہتے ہیں۔ ان کے خیالات جان کر معلوم ہوا کہ وہ کسی ملک کے ایجینٹ نہیں، بلکہ شدت پسندی کے خلاف ایک change agent کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کردار ادا کرنے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حال ہی میں پروفیسر کی والدہ کا انتقال ہوا تو سوشل میڈیا کے چند صارفین نے بدتمیزی کی ہر حد پار کردی۔
میں اب تک پروفیسر آنند کی کئی کلاسز اٹینڈ‌کر چکا ہوں۔ وہ انٹرنیشنل ریلیشنز کی کلاس میں‌ ہوں یا پوسٹ کولونیل پولیٹکس کی، وہ کریمینولوجی کی کلاس لے رہے ہوں یا جینڈر اسٹدیز کی، پروفیسر دنیا بھر اور خاص طور پر ہندوستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے مسائل کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔ ایک دن کلاس کے بعد میں نے پروفیسر سے پوچھا کہ وہ ہندو انتہا پسند تنظیموں کو ہدفِ تنقید کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ پروفیسر نے کہا کیوں کہ وہ اس معاشرے کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہٹلر کے زمانے میں بھی اکثریت اس کے ظلم و بربریت کے حق میں نہیں تھی لیکن اکثریت کی خاموشی نے ہٹلر کے حوصلے بلند کیے۔ گجرات میں‌ مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو ہندو اکثریت نے چپ سادھ لی۔ پروفیسر نے کہا وہ برطانوی شہریت ضرور اختیار کر چکے ہیں لیکن ان کا دل اب بھی ہندوستان میں رہنے والے تمام انسانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ظلم ہندو پر ہو یا مسلمان پر، وہ مظلوم کے ساتھ ہیں۔ ظلم کرنے والا ہندو ہو یا مسلمان، وہ ظالم کے خلاف ہیں۔ پروفیسر نے کہا دراصل ہم انتہا پسندی کا بیج اپنے بچوں کے دل میں یہ کہہ کر بوتے ہیں کہ ‘ہمارا’ مذہبی نظریہ سچا ہے اِس لیے ‘ہم’ اچھے ہیں۔ اور ‘ اُن’ کا مذہبی نظریہ جھوٹا ہے اِس لیے ‘وہ’ بُرے ہیں۔ یہ بیج اُن بچوں کے دلوں میں‌ تفریق کے پودے اگاتا ہے جو نفرت کے درخت بن کر انتہا پسندی کا ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ پروفیسر نے یہ فلسفہ اپنی کتاب Hindu Nationalism in India and the Politics of Fear میں مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہندو انتہا پسند کس طرح مسلمانوں کو ولن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر نے کہا کہ کسی گروہ کو dehumanise کرنے کے بعد اس کے قتلِ عام کو عوامی سطح پر قبول کروانا ممکن ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ فلسطین اور کشمیر میں ہو رہا ہے۔ پروفیسر نے کہا ہمیں self and other کی سیاست کے‌خلاف کھڑا ہونا ہے۔
پروفیسر آنند کی یہ گفتگو سننے کے بعد میری آنکھوں کے سامنے ان دوستوں کے چہرے آ گئے جو مذہب ترک کرچکے ہیں۔ میرے لیے یہ بات ماننا بہت آسان تھی کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد پروفیسر آنند نے ہندو مذہب سے دوری اختیار کرلی۔ یہ اس لیے کہ میں‌ مسلمان ہوں۔ لیکن میرے لیےیہ بات تسلیم کرنا مشکل تھی کہ میرے ایک جاننے والے نے اسلام سے دوری اُس وقت اختیار کی جب ایک مشتعل گروہ نے پاکستان میں ایک اقیلتی گروہ کی عبادت گاہ گرادی اور بعد ازاں اس اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ قتل ہوئے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا میں بھی یہی مانتا ہوں کہ ہمارا مذہبی نظریہ سچا ہے اِس لیے ہم اچھے ہیں، اور اُن کا مذہبی نظریہ جھوٹا ہے اِس لے وہ بُرے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے مذہبی نظریے پہ عمل کرتا رہوں کسی اور مذہبی گروہ سے نفرت کیے بغیر؟
میری آنکھوں کے سامنے مسجدوں، اقلیتوں کی عبادت گاہوں، امام بارگاہوں اور درگاہوں پر ہونے والے وہ حملے بھی آ گئے جن کی خبریں میں خود اخبار کی نوکری کرتے ہوئے شایع کرتا تھا۔ لیکن پاکستان میں کچھ اقلیتیں‌ ایسی بھی ہیں‌ جن کےحقوق کی بات کرنا تو دور کی بات، ہم ان پرہونے والے حملوں کی مذمت کرنا بھی نہیں چاہتے۔ میں سوچتا رہا کہ میں پاکستان کے سُنی اکثریتی گروہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ کیا میں‌ نے اپنے ملک میں‌رہنے والی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی؟ یا میں بھی ایک خاموش اکثریت کا حصہ ہوں؟ کہیں میں کسی گروہ کو dehumanise کرنے پہ تو یقین نہیں رکھتا؟ کیا کسی گروہ کے قتل کی تائید کرنا فساد فی الرض کے زمرے میں نہیں‌ آتا؟ کیا اسلام میں شرک کے بعد سب بڑا گناہ فساد نہیں؟ کیا میں اسلام کو واقعی اپنا دین سمجھتا ہوں؟ یا پاکستان میں مسلمان ہونا صرف اپنے گروہ کی تائید کرنے کا نام ہے؟ کیا اپنے مذہبی گروہ کے مجموعی فہم پر تنقید کرنا ترکِ مذہب سے بھی بڑا گناہ ہے؟

برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا
میرے ساقی مجھے مستِ مئے عرفاں کرنا
(بیدم شاہ وارثی)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نجم سہروردی

نجم سہروردی دی نیوز انٹرنیشنل، ایکپریس ٹریبیون اور انگریزی چینل ٹریبیون 24/7 میں بطور رپورٹر، سب ایڈیٹر اور نیوز پروڈیوسر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان دنوں لندن میں یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے ''مذہب، قانون اور معاشرے" کے موضوع پر ماسٹرز کر رہے ہیں

najam-soharwardi has 3 posts and counting.See all posts by najam-soharwardi