کرتار پور کاریڈور اور نئے امکانات


ستر سال سے سکھ پنتھ کے لوگ روزانہ ایک ارداس (دعا، تمنا) ضرور کرتے تھے کہ، واہےگرو جو گوردوارے اور پوتر استھان (مقدس مقامات) ہم سے بٹوارے کے سمے بچھڑ گئے تھے۔ان سے دوبارہ ہمیں ملا دے۔ اور آنکھیں بند ہونے سے پہلے ایک بار ان کے درشن ضرور کرا دے ۔
1947ءمیں پنجاب بھر میں پھیلی ہوئی سکھوں کی اکثریتی آبادی بھارتی پنجاب منتقل ہو گئی۔
تقسیم کے وقت سکھوں کے انتہائی مقدس مقامات پاکستان کے حصے میں آگئے تھے۔
ان میں سکھ مت کے بانی گرو بابا گرو نانک جی کا جنم استھان ننکانہ صاحب،گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال،گوردوارہ روڑی صاحب گوجرانوالہ،گوردوارہ سچا سودا چوڑکانہ،اور گوردوارہ کرتار پور صاحب،جہاں بابا جی نے اپنی زندگی آخری اٹھارہ برس گزارے اور یہی سے عارضی دنیا کو وداع کہہ کر دائمی دنیا کو روانہ ہوئے۔
بھارت ،پاکستان بین الاقوامی سرحد سے محض چار کلو میٹر دور ہونے کے باوجود سکھوں کے لئے یہ مقام ہمیشہ ناقابل رسائی ہی رہا۔ البتہ ہر سال محدود تعداد میں پاکستان آنے والے سکھ یاتری واہگہ سے لاہور اور وہاں سے 120 کلومیٹر کا سفر طےکر کے کرتار پور کے درشن کر لیتے تھے۔
پاک بھارت تعلقات کی تلخی، اور تنازعات نے لوگوں کو ایک دوسرے سے سینکڑوں،ہزاروں میل دور کر دیا ہے۔
پوری دنیا میں تنازعات کو حل کرنے اور تلخیاں کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن ہمارے ملکوں کی ہٹ دھرم اور کوتاہ اندیش قیادتوں نے اس خطے کو عام لوگوں کے لئے جہنم بنا رکھا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔اب تو امن اور دوستی کی بات کرنے والوں کو سیدھا سیدھا غداری کے سرٹیفیکیٹ سے نواز دیا جاتا ہے ۔بد قسمتی سے پڑوسی ملک ہندوستان جو کہ کبھی اپنی سیکولر شناخت پر فخر کرتا تھا،اب دھیرے دھیرے انتہا پسند اور فرقہ پرست ہندو قیادت کے نرغے میں جا رہا ہے۔ جہاں معقولیت کے لئے اب کچھ زیادہ جگہ نہیں بچی۔ حالانکہ اگر سرحدوں کو نرم کر دیا جاتا۔ عام لوگوں کو ملنے دیا جاتا۔ آر پار آنے جانے کے لئے ویزا کی آسانیاں دی جاتیں، تو نہ صرف یہ کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں بہتری آتی،بلکہ اس خطے کے لوگوں کے لئے خوشحالی کی نئی راہیں بھی کھلتیں۔ اس پورے خطے میں مذہبی مقامات کے علاوہ بھی سیاحت کو فروغ دے کر بہت سی معاشی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔
کرتار پور صاحب میں یاتریوں کے لئے اچھے ہوٹل، ریستوران،اور خریداری مراکز بنانے کی ضرورت ہے۔جیسے ہم لوگ ایران ،عراق اور سعودی عرب جا کر وہاں کے تبرکات اور وہاں کی مقدس مٹی سے بنی تسبیحات،سجدہ گاہیں،جائے نماز ،کھجوریں اور پانی وغیرہ لے آتے ہیں۔ اسی طرح سکھ بھی یہاں سے اس طرح کی مقدس اشیا بطور تبرکات ضرور ساتھ لے جانا چاہیں گے۔اس طرح ہزاروں لوگوں کو یہاں روزگار کے مواقع ملیں گے۔
سکھ پنتھ کے لوگ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ سالہا سال سے یہاں آ رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے بھارتی پنجاب میں پاکستان سے نفرت بہت کم ہے۔کیونکہ جو کچھ وہاں کا میڈیا ان کو پاکستان کے بارے بتاتا ہے ،یہاں آ کر وہ بالکل اس کے الٹ دیکھتے ہیں۔اور پھر وہ میڈیا کی بے سرو پا باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔
ہندووں کو بھی یہاں لانے کی ضرورت ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندووں کے سینکڑوں مقدس مقامات کی حالت یہاں بہت بری ہے۔ ان کا سب سے بڑا اور مقدس ترین مقام یہاں پر کٹاس راج مندر ہے۔وہاں جا کر دیکھا تو مندروں سے مورتیاں غائب تھیں۔اور کوئی ہندو پروہت وہاں موجود نہیں تھا۔ مشرف دور حکومت میں سابق بھارتی وزیرداخلہ لال کرشن ایڈوانی کے کہنے پر وہاں کی کچھ تزئین و آرائش کروائی گئی۔لیکن اسی دور میں مورتیوں کی خریداری کے نام پر چھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم ہڑپ بھی کر لی گئی۔ سپریم کورٹ کو اس معاملے کو بھی دیکھنا چاہیے۔
اگر ہندوستان نہیں بھی کرتا تو بھی ہمیں یہ ضرور کرنا چاہیے کہ ہم سکھوں اور ہندووں کے مقدس مقامات کو بنا سنوار کر ،وہاں سہولتیں بہم پہنچا کر ،وہاں کے لوگوں کے لئے ویزہ کی شرائط نرم کر دیں۔کم از کم 50 سال تک کے بزرگ شہریوں،خاندانوں،طلباء اور سیاحتی گروہوں کے لئے بارڈر پر ہی ویزا فراہم کر دیں۔ ان کو مناسب سیکیورٹی فراہم کر دیں اچھے ہوٹل بنا دیں۔
یقین مانیں،اس طرح سے روزگار کے کئی نئے مواقع پیدا ہونگے۔اربوں ڈالرز پاکستان آئیں گے اور پاکستان کے بارے اچھا تاثر ہندوستان میں جائے گا۔
مشرقی سرحد پر تو ہمیں اس معاملے میں مشکلات درپیش ہیں۔ کیونکہ ہمارا بڑا ہمسایہ تو یہاں سے جانے والے کبوتر، غبارے اور ہوا سے بھی اپنے لوگوں کو ڈراتا رہتا ہے۔تو عام لوگوں کی آزادانہ آمدورفت کو وہ کیسے برداشت کرے گا۔ لیکن ہمارے دوسرے ہمسائے ایران اور چین سے یہاں کتنے لوگ سیر و سیاحت کو آتے ہیں ؟ نہ ہونے کے برابر۔ یہ تو صرف ہماری نالائقی ہی ہے اور کچھ بھی تو نہیں۔
پاکستان سے ایران عراق اور سعودی عرب لاکھوں لوگ مذہبی مقامات کی زیارات کے لئے جاتے ہیں اور وہاں ڈالرز خرچ کرتے ہیں۔جس سے ان ملکوں میں ہوٹل،ریستوران،ٹرانسپورٹ اور دیگر کئی شعبوں میں وہاں کے لوگوں کو خوب فائدہ ہوتا ہے ۔ہم وہاں جا کر خریداریاں بھی کرتے ہیں۔ ہم نے وہاں کے لوگوں کو پاکستا ن کے شمالی علاقوں کی ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں۔وہ حیران رہ گئےکہ پاکستان اتنا خوبصورت ملک ہے؟
کسی دور میں ایران اور پاکستان کے درمیان کوئٹہ ۔زاہدان ریل کے ذریعے سے رابطہ تھا ،وہ بھی اب معطل ہو چکا ہے۔سمندر کے راستے بھی ہمارے ہاں لوگوں کی کوئی آمدو رفت نہیں ہے۔
یہی حال ہمارا قطر اور دبئی وغیرہ سے ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ وہاں جاتے ہیں۔وہاں رہتے ہیں ۔خریداری کرتے ہیں۔وہاں سے کوئی بھی ہمارے پاس نہیں آتا۔ان لوگوں کو کسی نے کبھی پاکستان کی خوبصورتی کا بتایا ہی نہیں۔
ایران ،عراق اور چین سے تو ریل اور سڑک کے ذریعے سے لاکھوں سیاح ہر سال پاکستان آسکتے ہیں۔اور خلیجی امیر ملکوں کے باسیوں کو اگر اچھے میعار کے ہوٹل مناسب سیکیورٹی اور اچھی سڑکیں دستیاب ہوں تو لاکھوں لوگ ہر سال پاکستان کے حسین نظارے دیکھنے یہاں آ سکتے ہیں۔
امیر مسلمان ملکوں کے ان باسیوں کے لئے فیملی ٹورازم کو یہاں بڑھاوا دیا جا سکتا ہے۔ہمارے پاس کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے بس تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے۔ مری ،ناران ،کاغان، ہنزہ ،سکردو اورچترال میں لاکھوں لوگ ہر سال آ سکتے ہیں۔ انہیںں کم قیمت میں اچھے اچھے مقامات دیکھنے کو ملیں گے،اور ہمارے لوگوں کو اچھا روزگار ملے گا۔ اور کل کو یہی پاکستان سے پلٹ کر جانے والے لوگ پوری دنیا کے لئے ہمارے اچھے سفیر ثابت ہونگے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں