میں بزدل ہوں، غدار نہیں….


zeffer2جونہی ٹرین بہاول پور اسٹیشن سے چھوٹی، ایک چھلاوا میری شریکِ حیات کا پرس اچک کر لے گیا۔ میں نے بڑھ کر ہینڈل کھینچا، جس کے نیچے لکھا تھا خبردار ہینڈل کھینچنے کی صورت میں دو ہزار تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ’ہو سکتا ہے‘کا مفہوم تب سمجھ آیا، جب ہینڈل کھینچنے پر بھی ٹرین بتدریج اپنی رفتار بڑھاتی رہی۔ اِس واقعے کے دو گھنٹے بعد، ڈیوٹی پر متعین سپاہی دکھائی دیا، تو اسے بپتا سنائی نیک دِل پلسیئے نے انتہائی عاجزانہ مشورہ دیا کہ اس واردات کی رپٹ درج کروانی ہے تو اگلے اسٹیشن (روہڑی) پر اتر کر بہاول پور لوٹ جایئے۔ ٹرین میں ایف آئی آر کاٹنے کا بندوبست نہیں ہے۔ میری بیوی سرکاری ملازم ہے۔ پرس میں شناختی کارڈ کے علاوہ ڈیوٹی کارڈ بھی تھا۔ جو اس کے لیے سب سے پریشان کن بات تھی۔ کراچی پہنچے اور اس کے کمان دار کی تجویز کے مطابق مقامی تھانے میں پرس کی گم شدگی کی رپٹ درج کروائی۔ جی ہاں گم شدگی کی۔ کیوں کہ محافظ چوری ڈکیتی کی درخواست کاٹنے میں حیل و حجت کرتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ قومی شناختی کارڈ کا حصول تھا۔ نادرا کے تین مختلف دفاتر کا چکر لگا کر پتا چلا کہ چوتھے دفتر سے، جو گھر سے اکیس کلو میٹر دور ہے، وہاں چارہ گری ہوگی۔ تمام کاغذات کی تصدیق کروا کر، چوتھے دفتر کے دوسرے چکر میں، ڈپلے کیٹ آئی ڈی کارڈ کی درخواست جمع کروائی گئی۔ بیس سے تیس دن تک انتظار کرنے کو کہا گیا۔

پرسوں میں نے کار خریدی۔ سی پی ایل سی کلیئر، کوئی قانونی پیچیدگی بھی نہیں، لیکن رشوت کی مد میں تین ہزار بھرنے پڑے، تا کہ گاڑی میرے نام ہو سکے۔ کل چارسدہ میں یونیورسٹی پہ حملے کی خبر سامنے آئی تو میں نے طے کر لیا کہ اپنا قومی کردار نبھاتے ہوے عوام کو لتاڑوں گا، کہ وہ اگر مگر سے نکل کر دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کریں۔ ہم اپنے اداروں پہ تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ’ہم دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں…. وغیرہ‘۔

آج بیوی کا ’ڈے آف‘تھا، تو اسے ہم راہ لیے نادرا کے دفتر گیا تا کہ شناختی کارڈ حاصل کیا جا سکے، جس کی درخواست دیئے، سینتیس اڑتیس دن ہو چکے تھے۔ قطار بنائے باری کا انتظار کیا، شکر الحمد للہ جلد ہی، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں ہماری باری آ گئی۔ بتایا گیا کہ آپ کا شناختی کارڈ ابھی تک نہیں بنا۔ استفسار کیا تو وجہ جاننے کے لیے کھڑکی نمبر ایک پر بھیجا گیا۔ وہاں بھی اللہ نے کرم کیا اور صرف آدھے گھنٹے میں ہم اس عظیم کلرک کے رو برو تھے، جو سرکاری کمپیوٹر کی خرابی کی نوید دے رہا تھا۔ خدا کی مہربانی ہوئی، کمپیوٹر نے انگڑائی لی۔ ہمیں اطلاع دی گئی کہ آپ کل صبح نو بجے، اِسی دفتر کے مینیجر سے ملاقات کیجیے۔ وہ بتائیں گے کہ آپ کے قومی شناختی کارڈ کا ڈیٹا، نادرا کے سِسٹم میں اب تک کیوں اپ لوڈ نہیں کیا گیا۔ وہاں نادرا کے دفتر میں ڈھائی تین گھنٹے کے قیام میں، عوام کو شکوے شکایتیں کرتے ، نا مراد اور مایوس لوٹتے دیکھا۔

آج کا سارا دن یوں بھی برباد گیا کہ گاڑی کے کاغذات لینے نہیں جا سکا۔ مزید یہ کہ باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے سانحے کی تفصیلات نہ جان سکا۔ یہ نہیں پتا چلا کہ اس سانحے پہ کس کس نے مذمتی بیان جاری کیا اور کون کون مذمتی بیان دینے سے رہ گیا۔ تجزیہ کاروں نے کون کون سے پہلووں پہ گفت گو کی، اور کس کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا۔ یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ د ±شمن سے آہنی ہاتھوں سے نپٹنے میں وزیر اعظم کا جذبہ نمایاں دکھائی دے رہا ہے یا آرمی چیف کی بھاگ دوڑ نظر آ رہی ہے۔ اور یہ بھی کہ نیشنل ایکشن پلان کی نا کامی کے اصل ذمہ دار کون ہیں۔ آج حالات حاضرہ سے نا واقف رہا، لیکن میں کل، پرسوں، برسوں کا احوال پیش نظر رکھتے ہوئے بتا سکتا ہوں کہ آج کے دن میڈیا پہ آرمی چیف کا کیا کردار دکھایا گیا ہو گا، سیاست دانوں کا کیا حشر نشر کیا گیا ہو گا۔ دہشت گردوں کو کیسے مطعون کیا گیا ہو گا۔ ہاں میں ایک نہیں، کئی مضامین لکھ سکتا ہوں کہ ایسے میں عوام کو کیوں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ اور کیسے قومیں قربانیاں دے کر عظیم بنتی ہیں۔

نہیں صاحب…. میں ایسا کوئی مضمون نہیں لکھنے والا…. خدا کی قسم ! اس وقت مجھے اِن باتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں، آرمی چیف ہوں، آئینی سربراہ مملکت، سربراہ حکومت یا طالبان۔ گردن میں سریا ڈالے بیورو کریٹس ہوں۔ یا جرگوں کے نام پر عدالتیں لگانے والے قبائلی ہوں، ہاریوں کا لہو پینے والے وڈیرے، مسلکی منافرت پھیلا کر فساد کرانے والے نام نہاد علمائے دین ہوں، یا ایران اور سعودیہ کی حمایت یا مخالفت کرنے والے بٹیرے۔

اِن میں سے کوئی نہیں جو تھر میں سسکتے بچوں کو مرتا دیکھ کر بے چین ہوا جا رہا ہے۔ کیا چاہتے ہیں آپ؟ میں تھر کے عوام سے کہوں، وہ باچا خان یونیورسٹی میں مرنے والوں کو شہید کہیں، ورنہ وہ طالبان کے ساتھی ہیں؟ سبھی کہتے ہیں، ’جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا، وہ برباد ہو جاتا ہے“۔ لیکن نہیں، کوئی نہیں ہے جو عدالتوں کے نظام کو شفاف کرنے میں دل چسپی رکھتا ہو۔ کیا کہوں سائلین سے کہ وہ اس ریاست کا ساتھ دیں جو انصاف دلانے میں نا کام رہی؟ ان میں سے کوئی نہیں ہے، جو دِل چسپی رکھتا ہو کہ میں رشوت دیئے بغیر اپنے پیسوں سے خریدی ہوئی کار اپنے نام کروا سکوں۔ کوئی نہیں ہے جو قومی شناختی کارڈ کی محض ’ڈپلے کیٹ‘دلانے میں آسانیاں فراہم کرنے کو کو خدمت سمجھتا ہو۔ کس سے کہوں؟ کون سے عوام؟

میں ہوں وہ عوام۔ میں ہوں وہ تھری۔ بھوک سے ایڑیاں رگڑ کر مرنے والا بچہ۔ ہاں میں ہی ہوں۔ اپنی وراثتی زمین کا سرٹیفکیٹ لینے کے لیے پٹواری کے در پہ سجدے کرنے والا گنہ گار۔ میں ہوں وہ عوام جو ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کے ہاتھوں کارو کاری ہوتے ہیں۔ میں پولیس ناکوں پہ تذلیل سہنے والا نا چار۔ ٹرین میں لٹنے والا مسافر۔ میں ہی ہوں وہ…. اور ہاں میں ہوں نادرا کے دفتروں میں قطار بنائے، اس ریاست کا باشندہ ہونے کا ثبوت مانگتا، ایک جاہل۔ میں ہوں وہ جس سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ ریاست سے محبت کا اظہار کرے۔ میں وہ نکما ہوں جو گاڑی کے کاغذات بنانے کے لئے رشوت دیتا ہے، لیکن شناختی کارڈ بنواتے وقت رشوت دینا بھول جائے تو خوار۔ یہ ریاست میرا گھر ہے؟ گھر ہے، توایسا، جس کی چھت جگہ جگہ ٹپک رہی ہے۔ یا پھر تحفظ کے نام پر کھڑی دیوار مجھ پہ گر رہی ہے۔ ایسی چار دیواری جس کے دریچوں سے ٹھنڈی ہوا نہیں آتی۔ اِس کی بوسیدہ فصیلوں میں بسنے والے سنپولیوں سے میرے بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔ صد شکر، صد شکر کہ جو آج مرا، وہ میرا بچہ نہیں تھا، لیکن کل….؟

قاتل مجھے مارنے آ رہا ہے، جو میں محافظ سے سوال کروں تو غدار؟ قاتل کا مدد گار؟ نہیں میں غدار نہیں ہوں۔ سنو! میں غدار نہیں، میں بزدل ہوں۔ وہ بزدل جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا….


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “میں بزدل ہوں، غدار نہیں….

  • 22-01-2016 at 11:57 am
    Permalink

    بہت ہی عمدہ تحریر۔ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز اور دنیا کے اربوں انسانوں کا مشترکہ المیہ۔ جیتے رہیں۔

Comments are closed.