قتل، دعوے، حقوق، خوں ریزی۔۔۔ صبح ہو گی تو فیصلہ ہو گا


\"mujahidپاکستان آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس ہفتہ کے شروع میں اعلان کیا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے۔ اس سے اگلے روز کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اور ہائی کورٹ ایڈووکیٹ اویس علی شاہ کو دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا۔ چار مسلح لوگ مدد کے لئے پکارتے چیختے جوان آدمی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے لیکن پورے شہر میں کوئی مداخلت کی جرات نہ کر سکا۔ سندھ میں سیکورٹی فورسز نے اعلان کیا کہ کراچی کی سیکورٹی ہائی الرٹ پر کر دی گئی ہے تاکہ چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب کروایا جا سکے۔ ابھی پولیس، حکومت اور رینجرز کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھائے جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح نقاب پوشوں نے بدھ کو دن دہاڑے عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کو دن دہاڑے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ جمعرات کو ہزاروں لوگوں نے اشک بار آنکھوں سے انہیں سپردخاک کر دیا لیکن پولیس دونوں معاملات میں ابتدائی رپورٹ درج کرنے کے لئے بھی حالات و واقعات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کیا اب بھی کسی کو شبہ ہے کہ ملک میں پولیس کا نظام ناقص اور لوگوں کی زندگی مارنے والوں کے رحم و کرم پر ہے!

دو روز میں یہ سنگین جرائم ایک ایسے شہر میں رونما ہوئے ہیں جہاں رینجرز ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے امن و امان قائم کرنے کی ذمے داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو اڑھائی برس کے دوران کراچی کا امن بحال کرنے کے نام پر ملک کی دو اہم ترین سیاسی جماعتوں کو لاچار بنا دیا گیا ہے۔ صوبے میں اگرچہ منتخب حکومت کام کر رہی ہے، نام کا ایک وزیراعلیٰ اور سرکاری وسائل سے استفادہ کرنے والے چند وزیر بھی موجود ہیں لیکن عملی اختیارات رینجرز اور فوج کے پاس ہیں۔ صوبائی حکومت اجازت دے یا نہ دے، سیاسی مفاہمت ہو یا نہ ہو۔ رینجرز نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ شہر سے جرائم اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ ایسے معاملات انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جن میں گرفتار شدگان کے بارے میں میڈیا میں کوئی خبر سامنے آئی ہے یا رینجرز کی غیر قانونی دست درازی کی شکایت کی جاتی ہے۔ اکثر معاملات میں تو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کسی شخص کو کس بنیاد پر پکڑا گیا اور حراست کے دوران اس سے ”حقائق“ اگلوانے کے لئے کون سے ہتھکنڈے اختیار کئے گئے۔ 90 دن کی حراست کے دوران گرفتار شدگان کے ساتھ ہر قسم کا ناقابل بیان اور ”قابل دست اندازی پولیس“ ظلم و جبر روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن نہ صوبے کی منتخب حکومت اف کرنے کی مجال کر سکتی ہے اور نہ ملک کے دبنگ وزیر داخلہ ان گرفتاریوں اور زیر حراست لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ رہ گئے شہر کے لوگ تو انہیں یہ لالی پوپ دے دیا گیا ہے کہ شہر میں امن بحال ہو گیا۔ ٹارگٹ کلنگ ختم ہو چکی ہے۔ دہشت گرد بھاگ گئے ہیں اور شہر پر اب پھر اس کے رہنے والوں کا راج ہے۔ یہ تفہیم عام کرنے اور یہ دعویٰ کرنے والے اداروں پر اب یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اس ”پرامن“ شہر میں یکے بعد دیگرے اتنے سنگین جرائم کیسے سرزد ہوئے۔

\"funeral\"دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر فوج اور رینجرز نے بے شمار اختیارات حاصل کئے ہوئے ہیں۔ شہری آزادیاں سلب ہو چکی ہیں۔ بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے لوگوں کا معاملہ چند برس کے بے سروپا احتجاج کے بعد بھارت کی دراندازی کا نعرہ لگا کر مسترد کیا جاچکا ہے۔ شمالی وزیرستان اور فاٹا کے علاقوں میں امن کے لئے ’کس قیمت پر‘ کس حد تک بحال ہوا ہے۔ اس کا حساب کتاب بھی صرف فوج کے پاس ہے۔ اس ملک کے لوگ اور حکومت تو یہ سوچ کر انگلی منہ میں دبائے ہوئے ہیں کہ فوج نے دہشت گردی کو ختم کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ اسی آپریشن کے دوران ملک کے ایک سابق گورنر اور ایک سابق وزیراعظم کے صاحبزادے بالترتیب پانچ سال اور تین سال دہشت گردوں کے قبضے میں رہ کر رہا ہوئے ہیں۔ نہ اس حبس بے جا سے رہا ہونے والوں کو سچ بولنے کا یارا ہے اور نہ سکیورٹی فورسز حقائق سے عوام کو آگاہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ لیکن یہ دونوں خاندان ہی نہیں اس ملک کے لاکھوں کروڑوں عوام بھی خوش ہیں کہ دو خاندانوں کی خوشیاں لوٹ آئیں۔ لیکن یہ سوال تو آپریشن ضرب عضب کو ملک کی تقدیر سے منسلک کرنے والوں سے ہی پوچھا جائے گا کہ پاکستان ایک منظم اور باقاعدہ ملک ہے، یہاں حکومت ہے، فوج ہے، قانون ہے اور عدالتیں ہیں۔ لیکن یہاں اس کے انتہائی بااثر شہریوں کے ساتھ بھی یوں سلوک کیا جاتا ہے گویا وہ کسی جنگل کے باسی ہوں۔ جس کی جان بچی رہے وہ خوش اور جو کسی مجرم کے چنگل سے چھوٹ گیا، وہ بھی نہال۔ لیکن کوئی جوابدہ ہونے اور صورت حال سے آگاہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کس سے منصفی چاہیں؟

اویس علی شاہ کا اغوا اور امجد صابری کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت ملک کے معاملات دہشت گرد چلا رہے ہیں۔ وہ جیسے چاہیں، جب چاہیں، کوئی بھی جرم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت پھیلانے والوں کا بنیادی مقصد مارنا نہیں بلکہ خوف پھیلانا ہوتا ہے۔ وہ اس مقصد میں بخوبی کامیاب ہیں۔ لیکن آپریشن ضرب عضب کی کامیابیاں گنوانے والے خاموش ہیں۔ یہ معاملات صرف ان ہائی پروفائل جرائم کا ہے جو میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں اور زبان زد عام ہو جاتے ہیں۔ اغوا ہونے والے یا مارے جانے والے ایسے ان گنت لوگوں کا تو مذکور ہی کیا جو یا تو جائیداد فروخت کر کے خاموشی سے مطلوبہ رقم ادا کر دیتے ہیں یا اپنے مرنے والے پر روپیٹ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ جب ملک میں صوبے کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کا گھرانہ محفوظ نہ ہو اور جہاں موسیقی کے سروں پر خوشیاں اور راحتیں عام کرنے والے کا خون ارزاں کر دیا جائے ۔ اس شہر بے اماں میں کوئی دہائی دینے کے لئے کس کے پاس جائے اور کیا کہے۔

پاک فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے ہفتہ عشرہ قبل آپریشن ضرب عضب کے دو سال مکمل ہونے کے بعد فوج کی کامیابیوں کی ایک طویل فہرست میڈیا کو فراہم کی تھی۔ گزشتہ روز ریڈیو جرمنی کی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اس بات کی دہائی دی ہے کہ دنیا نے پاکستان کو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کے کسی فوجی لیڈر کو اس قسم کا شکوہ کرنے سے پہلے خود اپنی غلط پالیسیوں اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کر لینا چاہئے۔ 80 کی دہائی میں سوویت یونین کو ”شکست“ دینے کے زعم اور امریکہ کی خدمت گزاری کے شوق میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے اس پورے خطے میں جس مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دیا اور پھر جس طرح جہاد کشمیر کے نام پر جہادی گروپ استوار کئے گئے، دراصل اسی پالیسی نے پاکستان کے راستے میں وہ کانٹے بکھیرے تھے، جو اب اسے پلکوں سے چننے پڑ رہے ہیں۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب کا نام لیتے ہوئے یہ اعلان کروائے جاتے ہیں کہ پاکستان نے عسکریت پسندی کی سرپرستی کرنے، اچھے برے طالبان کی تمیز کرنے کے علاوہ افغانستان کو اسٹریٹجک ڈیپتھ سمجھنے کی پالیسی ترک کر دی ہے۔ لیکن عملی طور پر اس پالیسی کے مظاہر دیکھنے میں نہیں آتے۔ نہ بھارت اس بات سے خوش ہے کہ پاکستان بدستور ان عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے جو ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث ہیں اور نہ امریکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ جنوبی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کرتے ہوئے، حقانی نیٹ ورک کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں یہ باور کرنا بے بنیاد نہیں کہ اگرچہ پاکستان عسکریت پسندوں سے دوستی ترک کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پالیسی کی یہ تبدیلی عملی طور سے منطبق نہیں ہو پا رہی۔ اب بھی بھارت کے ساتھ اختلاف کے اظہار کے لئے جماعت الدعوة کے رضاکار بینر اٹھائے پاک فوج زندہ باد اور بھارت مردہ باد کے نعرے لگاتے سڑکوں پر ٹائر اور امریکہ و بھارت کے پرچم نذر آتش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں کوئی ذی شعور یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ پاکستان اور اسلامی عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ جاری ہے اور پاک فوج ان کا صفایا کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ندا فاضلی کی یاد میں....

پاکستانی عوام نے اپنی افواج کو بے حد عزت و احترام دیا ہے۔ اب بھی وہ ان کی قربانیوں اور ملک کے لئے خدمات کا اعتراف کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیت کا تقاضہ ہے کہ ان کی حکمت عملی ”زندہ باد” کے نعرے لگوانے اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے ”خلاف“ بینر آویزاں کروانے تک محدود نہ رہے۔ اسے ایک منظم ادارے کے طور پر رہنے ہر منصوبے کی کامیابی اور ناکامی کی ایسی تفصیل عوام کو بتانا چاہئے جو پروپیگنڈا کا حصہ نہ ہو بلکہ مشکلات میں گھرے پاکستانی عوام کو حقیقی صورت حال کی تصویر دکھا سکے۔ اس تناظر میں اگر فوج کے اس دعویٰ کو دیکھا جائے کہ آپریشن ضرب عضب نے اپنے مقاصد کافی حد تک حاصل کر لئے ہیں اور قبائلی علاقوں سے اجڑنے والے 62 فیصد لوگ واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں تو اس کی تصدیق کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ فاٹا، شمالی وزیرستان اور دیگر علاقے بدستور فوج کے کنٹرول میں ہیں اور کوئی صحافی یا تنظیم وہاں جا کر صورت حال کا جائزہ نہیں لے سکتی ۔ اس طرح ساری معلومات صرف فوج کے طاقتور اور فعال دفتر تعلقات عامہ کے ذریعے فراہم ہوتی ہیں۔ یکطرفہ ذریعہ سے آنے والی سچی معلومات کو بھی مصدقہ نہیں کہا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے فوجی کارروائی کرتے ہوئے قبائلی علاقوں پر ضرور کنٹرول بحال کردیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی قومی ایکشن پلان کے ذریعے مزاج سازی، تدریسی نظام کی اصلاح اور شدت پسندی میں عمومی کمی کے لئے جن اقدامات کی ضرورت تھی، وہ بدستور ناپید ہیں۔ ملک میں کسی اقلیت کے حقوق کے بارے میں سوال اٹھانے پر یا تو قتل کی دھمکی ملتی ہے یا پیمرا مفاد عامہ کے نام پر آواز دبانے کا حکم صادر کرتا ہے۔ مذہبی گروہ بدستور خودسر اور فرقہ واریت اور شدت پسندانہ مذہبی رویوں کی تبلیغ کرنے میں آزاد ہیں۔ نہ مساجد میں ہونے والی تقریروں پر کسی کا کنٹرول ہے اور نہ حکومت یہ جان پاتی ہے کہ مدرسوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے اور اس نصاب کی اصلاح کیسے ہو۔

ملک کے شہریوں کی حفاظت کے لئے اگر چند ہزار لوگوں کو مار کر یا چند سو کو پھانسی لگا کر کام چلایا جا سکتا تو افغانستان، عراق اور شام اس وقت دنیا کے سب سے پرامن معاشرے ہوتے۔ پاکستان میں بھی ہمیں دہشت گردوں کو مارتے بیس برس بیت چکے ہیں۔ اب مار دھاڑ کی نہیں مصالحت اور مفاہمت کی ضرورت ہے۔ محاذ آرائی ختم کر کے بھائی بندی قائم کرنا ہو گی۔ ورنہ خوں ریزی کا موجودہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔ فوج جن گروہوں کو قبائلی علاقوں سے مار بھگاتی ہے وہ جنوبی پنجاب، کراچی اور دوسرے شہروں جا کر ڈیرے ڈالتے ہیں اور موقع ملتے ہی وار کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ سندھ کے چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا اور امجد صابری کی ٹارگٹ کلنگ سے واضح ہو رہا ہے کہ فوج کی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں نے تو اپنا طریقہ کار بدلا ہے۔ اب وہ کسی وزیر کی بجائے، ایک فنکار کو مار رہے ہیں اور ارب پتی سابق وزیراعظم کے بیٹے کی بجائے چیف جسٹس کے صاحبزادے کو اغوا کر رہے ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کو سمجھنے اور ان کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ بیٹے اغوا ہوتے رہیں گے اور شہروں کی گلیاں خوں ریز ہوتی رہیں گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 686 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali