انڈیا کے کسان: قرضوں کے باعث تین لاکھ خودکشیاں، کوئی اورجگہ ہوتی تو ملک ہل گیا ہوتا

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


کسان احتجاج

BBC
یوگیندر کا کہنا ہے کہ کاشتکار گذشتہ حکومتوں میں بھی بدحال تھے لیکن اس حکومت میں وہ بدترین حالت میں پہنچ گئے ہیں

انڈیا کی مختلف ریاستوں کے ہزاروں کسانوں نے ملک کے ارکان پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بدحالی سے نکالنے کے لیے ان کے تمام قرضے معاف کرنے اور ان کی پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت دینے کے قوانین کو وہ پارلیمنٹ میں منظوری دیں۔ ہزاروں کسانوں نے جمعے کو دارالحکومت دلی میں پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔

الگ الگ رنگ کے پرچم لیے ہوئے، اپنی اپنی زبانوں میں نعرے لگاتے ہوئے ان کسانوں نے رام لیلا میدان سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ ان سبھی کے مسائل مشترک تھے۔ یہ سبھی بدحالی سے گزر رہے ہیں۔

اترا کھنڈ سے آنے والے ایک کاشت کار بلجیت سنگھ نے کہا ‘مودی جی جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سبھی کے قرضے معاف کریں گے۔ کسی کے پندرہ روپے معاف کیے گئے کسی کے بیس روپے معاف کیے تو کسی کا وہ بھی نہیں کیا۔ جب تک ہمیں ہماری پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت نہیں دی جاتی تب تک ہم اسی طرح قرض میں ڈوبے رہیں گے۔’

اسی بارے میں

’کسانوں کی موت کو روکو‘

انڈیا: کھوپڑیوں کے ساتھ کسانوں کا احتجاج

کسانوں کے مارچ کا اہتمام آل انڈیا کسان سنگھرش کمیٹی نے کیا تھا۔ اس میں دو سو سے زیادہ کسانوں کی تنظیمیں شامل ہیں۔ یوگیندر یادو کسانوں کی تحریک سے ایک طویل عرصے سے وابستہ رہے ہیں۔

کسان احتجاج

BBC
بیس برس میں تین لاکھ سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے

ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کے دو اہم مطالبات ہیں۔ پورے ملک میں کسانوں کے سبھی قرضے معاف کرنے اور دوسرے زرعی پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت دینے کے دو بل پارلیمنٹ میں زیر غور ہیں انہیں منظور کیا جائے۔

یوگیندر کا کہنا ہے کہ کاشتکار گذشتہ حکومتوں میں بھی بدحال تھے لیکن اس حکومت میں وہ بدترین حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ ‘بیس برس میں تین لاکھ سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے کوئی اور جگہ ہوتی تو ملک ہل گیا ہوتا لیکن یہ انڈیا ہے یہاں حکومتوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔’

حکومت نے کسانوں کی آمدنی تین برس میں دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وہیں کی وہیں ہے جبکہ پیداوار کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ سوکھے کی مار، ڈیزل، بیج، کھاد اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے کاشت کاری ایک نقصان کا سودا بن گئی ہے۔

یوگیندر کہتے ہیں کہ ‘کھیتی واحد ایسا کاروبار ہے جو گھاٹے کا بزنس ہے۔ میں پورے ملک میں کاشتکاروں سے ملا ہوں مجھے ایک بھی کاشتکار نہیں ملا جو اپنے بیٹے کو کاشتکاری کے پیشے میں ڈالنا چاہتا ہو۔ زرعی شعبہ ایک بحران سے گزر رہا ہے۔‘

کسان احتجاج

BBC
حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے کسانوں کی دوسو سے زیادہ تنظیمیں ایک ساتھ آئیں

زیر زمین پانی کی سطح کافی نیچے جا چکی ہے ۔ مٹی کی زرخیزی میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کا براہ راست اثر کسانوں پر پڑ رہا ہے۔ اگر فصل اچھی ہوتی ہے تو قیمتیں گر جاتی ہیں۔ کسان ایک دائمی بدحالی کی گرفت میں ہیں۔ ہریانہ کے کسان رہنما ماسٹر شیر سنگھ کہتے ہیں کہ ’جب الیکشن آتا ہے تو جماعتیں کسانوں کے پاس آتی ہیں اور جب اقتدار میں آجاتی ہیں تو وہ کارپوریٹ کی سنتی ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ جب تک کسانوں کی پیداوارکی منافع بخش قیمت کی ضمانت نہیں دی جاتی اور اس کے لیے قانون نہیں بنایا جاتا تب تک کسانوں کی بدحالی دور نہیں ہو سکتی۔

حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے کسانوں کی دو سو سے زیادہ تنظیمیں ایک ساتھ آئیں اور کسانوں کی آواز موثر طریقے سے پارلیمنٹ تک پہنچائی گئی۔

کسانوں کی بہتری کے لیے حکومتیں وقتاً فوقتاً کچھ اقدامات کرتی رہی ہیں لیکن اس سے ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کی بدحالی دور کرنے کے لیے وقتی نہیں ایک مستقل حل کی ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp