علامہ اقبالؒ کا مردِ کامل”نانک“


قدرت کا ایک اصول ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں ظلم زیادہ بڑھ جاتا ہے اور مظلوم بے بس ہوتا ہے۔ اس دہشت کو ختم کرنے کے لیے خدا اپنے خاص بندوں کا انتخاب کرتا ہے۔ جو اس ظلم کے خلاف تن، من، دھن کے ساتھ کھڑے ہو کر ظالم کے ظلم کو تہس نہس کرتے عام لوگوں کو سُکھ کی سانس لینے دی۔ ظلم کی اس رات کو شعور اور علم والوںنے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے:

مولا بخش کشتہ پنجابی کے عظیم شاعروں میں سے ایک ہیں ان کا فرمان ہے کہ:

جدوں ظلم ہرناکش دا ہوند وریا

اوہدے مٹنے نوں پرہلاد آیا

ہندو مذہب کے فلسفے کے مطابق ہرناکش نے عام لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے تو اُنکے اپنے گھر میں پرہلاد نے جنم لیا اور اس کے ظلموں کا کاتمہ کیا اور ہند کے لوگوں نے سُکھ کی سانس لی۔ اس طرح ایک واقعے کو بھی اسلام میں خوبصورتی سے بیان کیا ہے جس کے لیے شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اس واقع کو اس طرح اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے مہو تماشہ لبِ بام ابھی

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کونمرود کے ظلم کو روکنے کے لیے پیدا کیا۔ اس طرح پندرھویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ظلم اور بربریت کی انتہا ہو چکی تھی کہ لوگ چھوت چھات اور ذات پات کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔ معاشرے میں ستی اوربیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا رواج عام تھا۔ اس بات کا ذکر بھائی گرداس جی نے پنجابی زبان میں کچھ اس طرح کیا ہے۔

ستگور نانک پرگٹیا مِٹی دُھندجگ چانن ہوائ

جیوں کر سورج نکلیا تارے چھپے اندھیر ہوائ

گورو نانک کے دھرتی پر پرگھٹ ہونے سے پہلے سُکھ کا سورج ظلم کے اندھیروں کو چیرتا ہوا طلوع ہوا۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے گورو نانک جی کے جنم پر گورو جی کو خراجِ عقیدت ان الفاظ سے پیش کیا اور اس کا عنوان بھی ”نانک“ رکھا۔

آہ شودر کے لیے ہندوستان غم خانہ ہے

درِد انسانی سے اس بستی کا دِل بیگانہ ہے

برہمن سرشار ہے اب تک مٹی پندار میں

شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں

بت کدہ پھر بعد مُدت کے روشن ہوا

نورِ ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہوا

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو ایک مردِ کامل نے جگایا خواب سے

شاعر مشرق کے لفظوں کے روپ میں چاہت کے موتی گورو ناک کے وقت حالات خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہی۔ اس وقت برہمنوں کا دعویٰ تھا کہ حمد الٰہی کا حق انھیں کو ہے۔ دیوتا لوگ برہمنوں کے صلاح اور مشورہ کے بغیر کسی انسان پر رحم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔برہمن یہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ اُن کے علاوہ دوسری دنیا میں کوئی شے پہنچائی نہیں جا سکتی ہے۔ اور جو کچھ بھی اُن کو کھلایا جائے وہ کھلانے والے کے بزرگوں تک پہنچ جائے گا۔ برہمن صرف مالک کو منزل تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ وہ حالات تھے جس کو ہر لکھنے والے نے اپنے اپنے لفظوں میں بیان کیا۔ جو گورو نانک صاحب جی کے جنم کے وقت غیر سکھ ماخذ میں بیان کیے گئے ہیں۔ انھیں میں اک بڑا ماخذ اُن کے ایک صدی بعد فارسی روپ میں باہمی عالم اور سیاح موبد ذوالفقار دستائی کی نایاب کتاب ”دبستانِ مذاہب“ ہے۔ جس میں سکھوں کو ”نانک پنتھیاں“ کے نام سے کہا ہے۔ یعنی نانک کی راہ پر چلنے والوں کے نام سے لکھا ہے۔

جنم ساکھیاں میں ایک بڑی جنم ساکھی جس کو سوڈھی مہربان (1640ءتا 1531ئ) نے تحریر کیا ہے۔ سوڈھی مہربان چوتھے گورو رام داس جی کے پوتے تھے۔ اور گورو صاحب کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے مطابق گورو صاحب کا جنم پورن ماشی 1526ءبکرمی، (15 اپریل 1469ئ) کو رائے بھوئے کی نئی تلونڈی میں ہوا آپ کے والد کا نام کلیان داس (مہتہ کالو جی) اور ماں کا نام ترپتا جی تھا۔ آپ سے پانچ سال بڑی بہن ”نانکی“ (بے بے نانکی جی) آپ کو بہت ہی پیار کرتی تھی۔ اور اُنکے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اس لیے ”نانک“ (سری گورو نانک صاحب جی) اور ”نانکی“ (بے بے نانکی جی) کی پرورش بہت اچھی طرح ہوئی۔

گورو صاحب نے 15 سال کی عمر تک ہندی، سنسکرت اور فارسی کے ساتھ ساتھ عربی کے علوم پر عبور حاصل کیا۔ اُن کے فارسی اور عربی کے استاد ملاں قطب الدین تھے۔ جیسے جیسے شعور اور گیان آتا گیا۔ گورو صاحب میں خدا کی بھگتی اور ودیا کی تڑپ بڑھتی گئی۔ ودیا اور گیان کی روشنی کے لیے جو سفر کیے اُن کو ’اداسیاں‘ کہا جاتا ہے۔ گورو صاحب کے ان چار سفروں میں دنیا میں خدا کی واحدانیت اور انسان دوستی پر محیط تھا۔ گورو صاحب نے ابتدائی برسوں میں جب وہ ابھی بچپن سے نوجوانی میں قدم رکھا ہی تھا کہ ان کے کاروبار کرنے کے لیے یا انسانیت کو بچانے کے لیے ایک عظیم مقصد تھا۔ انھوں نے عظیم مقصد کو چُن کر اپنی زندگی انسانیت کے لیے وقف کر دی۔ گورو صاحب کی تعلیمات میں بھی انسان دوستی کے خلاف رسم و رواج کی کھل کر مخالفت کی۔ اور اپنی ابتدائی تعلیم میں برہمن کے بنائے ہوئے 7 دھاگوں سے بنائے ہوئے جنیوءکو نہ صرف ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اپنی تعلیمات میں اس طرح کا جنیو مانگا:

دیا کپاہ سنتوکھ سوت جت گندھی ست وٹ

ایہہ جنیو جی کا ایسی تاں پانڈے گھت

نہ ایہہ تٹے نہ مل لگے نہ ایہہ جلے نہ جائے

دھن سو مانس نانکا جو گل چلے پائے

ترجمہ: دَیا (رحم) کی کپاس سے سنتوکھ (صبر) کا سوت بناﺅ اور اس کو پرہیز گاری کی گانٹھیں دے کر سچائی کے بل چڑھاﺅ۔ اگر اس طرح کا کوئی جنیو ہو تو میرے پہننے کے لیے دے دو کیونکہ یہ نہ میلا ہو گا اور نہ ٹوٹے گا۔ اور نہ ہی ہر انسانی جسم کے ساتھ جلے گا۔ وہ بہت خوش قسمت ہو گا۔ جس کو ایسا جنیو گلے میں پہنے کو ملے گا۔گورو نانک صاحب جی نوجوانی میں خدا کی عبادت اور اکیلے میں ست کرتار کا ورد کرتے۔ جب آپ کے والد تو نظر آیا کہ آپ کاروبار میں دلچسپی نہ رکھتے تو آپ کو مودی خانے میں ملازمت دلوا دی گئی وہاں پر آپ راشن تولتے تو لفظ ”تیرا(13)“ پر اٹک گئے تیرہ تیرا اور صرف تیرا کا ورد کرتے۔ اس بارے میں بانی (کلام) میں ارشاد ہے کہ:

نانک تیرا بانیاں تو صاحب میں راس

من تے دھوتا ہے جا صفت کری ارداس

ترجمہ: اے خدا نانک تیرا ونجار ہے اور تو ہی میری جمع پونجی ہے۔ میرے من سے میل تب ختم ہے بگا جب میں تیری صفت ثنا کرتا رہوں گا۔

گورو صاحب نے اپنے سفر (اُداسیوں) میں جہاں جہاں بھی انسانیت کے خلاف رسم و رواج یا روایتوں کو جنم دیا وہاں اُس کو اُن کے اچھے اخلاق اور شعور کی روشنی سے ختم کیا۔ گورو صاحب کی یاترا، ہندوستان پاکستان کے علاوہ ایران، چین، کابل،مصر، مکہ، مدینہ اور ترکی کے سفر کے دوران سچائی کی دعوت دی۔ اس عظیم سفر میں گورو صاحب کے ساتھ اُن کے مسلمان بھائی جنھیں آپ بھائی مردانہ جی کہہ کر بلاتے تھے۔ انھوں نے پورا ساتھ دیا۔ گورو صاحب نے بھائی مردانہ جی کے تین شبد (تین بڑی نظمیں) کو سکھوں کے مذہبی اور الہامی کتاب ”سری گورو گرنتھ صاحب“ میں شامل کیا ہے۔

گورو صاحب جی کا انسان دوستی کے علاوہ دوسرے اہم موضوع جس کو اپنا الٰہی بانی (کلام) میںبیان کیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تصور ہے۔ اُن کی بانی بالکل سورة اخلاص جو قرآن پاک کے تیسویں پارے میں آیات نمبر 112 کا ترجمہ بنتی ہے، فرمان ہے:

ایکو ہے بھائی ایکو ہے

بے محتاج بے انت اپارا

نہ تس مات پتا بندھپ نہ تس کام نہ ناری

تم سم اور کو ناہیں

ترجمہ: میرا اللہ واحد ہے۔ وہ بے محتاج اور بے انت ہے۔ اس کا کوئی ماں ہے نہ باپ، وہ بیٹوں، بیٹیوں سے پاک ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اور رشتہ۔

گورو نانک جی کی تعلیمات سب انسانوں کے لیے ہیں۔ وہ تمام قوموں مذہبوں اور فرقوں کو برابر جانتے ہیں۔ وہ ہندووں، مسلمانوں سادھووں اور صوفیوں سے ایک ہی لہجے میں مخاطب ہوتے تھے۔ انھوں نے ساری زندگی بری رسموں کی مخالفت کی مگر کبھی کسی مذہب کو برانہیں کہا۔ نیک عمل کو زندگی کا جوہر قرار دیا۔

سچوہُ اورے سبھ کو اُپر سچ آچار

سبھ کو اُچا اکھیے نیچ نا دیسے کوئے

ایکنا بھانڈے ساجیئے اِک چانن تہہ لوئے

کرم ملے سچ پائیے دُھر بخس نہ مٹیے کوئے

ترجمہ: سچائی سب چیزوں سے بلند ہے۔ اُس سے بلند صرف سچا عمل ہے۔کوئی بھی نیچ (شودر وغیرہ) نہیں ہے۔ سب انسان برابر ہیں۔ ایک ہی مواد سے ہم سب بنے ہیں۔ اور ایک ہی روشنی ہمیں ملتی ہے۔ خدا کے خاص کرم سے سچ ملتا ہے۔ جس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

گورو نانک صاحب جی کی ساری تعلیمات نظم میں ہیں۔ ذات ابدی کے لیے ان کی بے قرار اور تڑپ، اس کی تخلیق کی خوبصورتی پر اُنکا انند، حیرت، بنی نوع انسان کے لیے ان کی درد مندانہ محبت اور ان کے اخلاقی تصورات اور اپنے دور کے انسانوں پر ظلم و جبر اور لوٹ مار پر ان کی فکر، دل سوزی، یہ سب کچھ ان کی شاعری کے بنیادی موضوعات ہیں۔

آج کل پوری دنیا سے سکھ مذہب کے بانی سری گورو نانک جی مہاراج کے 549 جنم دن پر ننکانہ صاحب آئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے سکھ یاتریوں کے لیے خاص اہتمام کیا ہوا ہے۔ 550 ویں جنم دن پر کرتاپور کے حوالے سے سکھ قوم زیادہ پُرجوش ہے اس لیے اُن کی تعداد روزبروز زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اور آنے والے سال کو حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر منانا چاہتی ہے۔ جس کے لیے خاص طور پر موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی کے بھی شکر گزار ہیں۔ جنھوں نے کرتار پور کھولنے کے انتظامات کیے ہیں۔

متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی آئے ہوئے شردھالوں، سکھ یاتریوں کے میزبانی کی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میں خاص طور پر سیکریٹری متروکہ وقف املاک بورڈ جناب طارق وزیر خان اور ڈپٹی سکریٹری عمران گوندل صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ جنھوں نے بہت خوبصورت انتظامات کر کے پوری دنیا میں بسنے والے پنجابیوں اور سکھ قوم کے دل جیت لیے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

کلیان سنگھ کلیان کی دیگر تحریریں
کلیان سنگھ کلیان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

کلیان سنگھ کلیان

کلیان سنگھ کلیان ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے پنجابی ادبیات میں ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر کے منصب پر تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

kalyan-singh-kalyan has 1 posts and counting.See all posts by kalyan-singh-kalyan