پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن


جھوٹ اگر ایک بار بولا جائے تو وہ جھوٹ ہی رہتا ہے، مگر یہی جھوٹ اگر ہزار بار بولا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے۔ یہ بات ایک بد نام زمانہ نازی پروپیگنڈسٹ جوزف گوئبلز نے کہی تھی۔ یہ بات محض اس لیے غلط نہیں ہے کہ یہ سیاسی تاریخ کے نا پسندیدہ ترین کرداروں میں سے ایک کے ساتھ منسوب ہے‘ بلکہ یہ بات اس لیے غلط ہے کہ یہ حقیقت کے منافی ہے ۔

جھوٹ بار بار دہرانے سے سچ نہیں بن جاتا۔ اس کے بر عکس کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ان کا جھوٹ سچ ہے۔ گوئبلز، ہٹلر اور ان کے ساتھیوں کا یہی المیہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ جھوٹ کو بار بار دہرا کر سچ بنا سکتے ہیں۔ جرمن اور سفید فام نسل کو دنیا کی برتر نسل بنا سکتے ہیں۔ فاشزم کو ایک انسان دوست نظام ثابت کر سکتے ہیں۔ دنیا کی ہر فوج کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہر ملک پر قابض ہو سکتے ہیں۔

فاشزم جب عروج پر تھا تو کچھ وقت کے لیے یہ سب سچ لگنے لگا تھا۔ مگر جب تاریخ نے کروٹ لی تو دنیا مختلف تھی۔ ہٹلر کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ خود سوزی پر مجبور ہوا۔ اور فاشزم پر ایسا خود کش حملہ کیا کہ اس کا نام لینا آج بھی یورپ کے کئی ملکوں میں قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔

یہ صرف ہٹلر تک ہی موقوف نہیں۔ دنیا کا ہر آمر اس المیے سے گزرا ہے۔ آمر جب طاقت کے حصار میں قید ہو۔ اس کے ارد گرد خوشامدی اور مسخرے جمع ہوں۔ اس کی زبان سے نکلی ہوئی گالی کو بھی اقوال زریں قرار دیتے ہوں، تو حکمران خود فریبی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کو سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ لگنے لگتے ہیں۔

یہ ایک المناک بات ہوتی ہے۔ وقتی طور پر ہی سہی سچ پچھلی نشستوں پر چلا جاتا ہے۔ اس لیے گوئبلز کی بات کو غلط قرار دینے کے باوجود جھوٹ کی طاقت سے ڈرنا چاہیے۔ جھوٹ باطل ہے، مگر بد قسمتی سے ایک تباہ کن طاقت رکھتا ہے۔ اس سے انکار بھی خود فریبی ہے۔

خصوصاً ہمارے دور میں جب طاقت، دولت کے زور پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے مظاہرے عام ہیں۔ ہم ما بعدالصداقت دور میں رہتے ہیں۔ ما بعدالحقیقت یا سچائی سے بعد کے زمانے میں زندہ ہیں۔ اس زمانے میں بڑے بڑے جھوٹ تخلیق ہوتے ہیں، جو حقیقت بن کر ہمارے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔

اس دور میں فیک نیوز کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ میڈیا آن لائن اشتہارات کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے تاکہ وہ آن لائن ریونیو پیدا کر سکے۔ اگر ایک جھوٹے مواد یا جھوٹی خبر میں لوگوں کے لیے کشش ہے۔ اس سے دیکھنے اور سننے والوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس سے مالی فائدہ ہوتا ہے تو فیک نیوز چلانے میں کوئی حرج نہیں سمجھی جاتی۔ اب فیک نیوز کے ذریعے انتخابات جیتے جاتے ہیں، حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ لیڈر بنائے جاتے ہیں، گرائے جاتے ہیں۔

چنانچہ یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ ہمارے ارد گرد بہت جھوٹ ہے۔ بے شمار افسانے ہیں۔ جعلی اور جھوٹی خبریں عام ہیں۔

ہم آئے دن اس کے کھلے مظاہرے دیکھتے ہیں۔ فروری دو ہزار چودہ میں روس کے ایک سپیشل یونٹ نے یوکرین پر حملہ کیا۔ کئی اہم تنصیبات پر قبضہ کر لیا۔ حملہ آور کسی فوجی یونیفارم یا نشان کے بغیر تھے۔ روسی حکومت نے اس بات کی واضح تردید کی کہ ان حملہ آوروں کا سرکار یا فوج سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کچھ شہریوں کا ذاتی و انفرادی فعل ہو سکتا ہے، جنہوں نے شائد کسی طرح کھلی منڈی سے روسی ساخت کے ہتھیار اور آلات خرید لیے ہوں۔

روسی قوم پرست جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مگر پوسٹ ٹروتھ کے اس عہد میں وہ اپنے جھوٹ کا یہ جواز ڈھونڈ سکتے تھے کہ یہ چھوٹا سا جھوٹ ایک بڑے مقصد کے لیے ہے۔ روس ایک جائز جنگ میں مصروف ہے۔ اور ایک جائز مقصد کے لیے مرنا مارنا درست ہے۔ اور ایک جائز اور بڑے مقصد کے لیے جھوٹ بولنے میں بھی کوئی برائی نہیں۔ اور وہ بڑا مقصد روس کی حفاظت ہے۔

روسیوں کی قومی متھ یا فرضی داستان یہ ہے کہ روس ایک وجودِ مقدس ہے ، اور دشمن اس کو تباہ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ قدیم منگول، پولز، سویڈز، نپولین اور ہٹلر سے لے کر نیٹو تک تاریخ میں کئی قوتوں نے روس کے جسم کے ٹکڑے کر کے اس کے بطن سے جعلی ممالک بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم پوسٹ ٹروتھ کے اس ہیبت ناک دور میں زندہ ہیں۔ اس دور میں چند عسکری واقعات ہی نہیں، جعلی تاریخ اور جعلی قوم تک پیدا کی جا سکتی ہے۔

پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن نئی چیزیں نہیں ہیں۔ ایک قوم کے وجود سے انکار اور پوری پوری جعلی قومیں تیار کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سال انیس سو اکتیس میں جاپانی فوج نے چین پر حملہ کرنے کے لیے خود اپنے آپ پر جعلی حملہ کیا‘ اور مینچوکو کے نام سے جعلی ملک پیدا کیا۔ چین خود اس بات سے انکار کرتا آ رہا ہے کہ تبت کبھی کوئی خود مختار ملک تھا۔ آسٹریلیا میں برطانوی نوآبادی کو جواز بخشنے کے لیے پچاس ہزار سال پرانی اصلی النسل یا دیسی باشندوں کی تاریخ کو مٹایا گیا۔

بیسویں صدی کے ابتدا میں ایک صیہونی نعرہ عام ہوا۔ بے زمین لوگوں یعنی یہودیوں کی غیر آباد زمین پر واپسی۔ مقامی عرب فلسطین آبادی کے وجود سے انکار اور اسے نظر انداز کیا گیا۔ سال انیس سو انہتر میں اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر نے کہا تھا: فلسطینی نام کے لوگ نہ اس زمین پر تھے اور نہ ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک ممبر نے فروری دو ہزار سولہ میں کہا کہ پلسٹائن نام کی کوئی قوم ہو ہی نہیں سکتی، چونکہ لفظ پی عربی زبان میں موجود ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ سے ہی پوسٹ ٹروتھ عہد میں رہا ہے۔ انسان کی طاقت کا راز ہی افسانہ تراشنا اور اس پر یقین کرنے میں ہے۔ پتھر کے دور سے ہی فرضی داستانیں تھیں‘ جنہوں نے انسان کو متحد رکھا۔ انسان کی داستان تراشی اور داستان گوئی ہی تھی، جس کی وجہ سے اس نے یہ سیارہ فتح کیا۔

اس پر ایک مشترکہ نظام قائم کیا۔ ہم واحد مخلوق ہیں جو لاکھوں اجنبی لوگوں سے تعاون کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم افسانے تخلیق کر سکتے ہیں، ان کو وسیع پیمانے پر پھیلا سکتے ہیں، اور لاکھوں کو ان پر یقین کرنے پر قائل کر سکتے ہیں۔ جب سب ایک ہی داستان پر یقین کرتے ہیں تو ہم ایک ہی قانون کو مانتے ہیں، اور ایک دوسرے سے موثر تعاون کرتے ہیں۔ ملک اور قومیں تشکیل دیتے ہیں۔

آج کا انسان فیک نیوز کے زیر اثر آ رہا ہے۔ وہ نئے مغالطوں کا شکار ہو رہا ہے‘ مگر یہ سلسلہ نیا نہیں ہے۔ تاریخ میںکئی صدیاں لاکھوں انسانوںنے اپنے آپ کو مختلف مغالطوںکے اندر مقید کیے رکھا ۔ انہوں نے کئی روایتی قصے کہانیوں کی سچائی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔

صدیوں سے سماجی حلقوں میں معجزوں ، جن بھوت اور چڑیلوں کی کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں۔ ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں جن کی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں، اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کہانیوں پر یقین کرتے ہیں۔ کچھ جھوٹی کہانیاں ہمیشہ باقی رہتی ہیں، اور نسل در نسل ان پر یقین کیا جاتا ہے۔

قدیم دور میں صرف کچھ مذاہب نے ہی فرضی داستانیں نہیں اپنائیں۔ سیاست میں بھی ایسے ہی ہوا۔ فلسفے اور تاریخ میں بھی فرضی قصے کہانیاں چلتی رہیں۔ کمیونزم، فاشزم اور لبرل ازم میں بھی افسانہ تراشی ہوتی رہی۔ تو پوسٹ ٹروتھ حقیقت میں ہے کیا؟

پوسٹ ٹوتھ کی عام تعریف یہ ہے کہ اس دور میںعوامی رائے سازی میں حقائق سے زیادہ جذبات اور ذاتی عقائد کا دخل ہوتا ہے۔ اس کا مظاہرہ ہم نے کئی بار دیکھا۔ کبھی انتخابات میں اور کبھی ریفرنڈم میں۔ امریکی انتخابات اور برطانوی ریفرنڈم اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ جذبات اور ذاتی عقائد حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔

ہمارے دور کے لوگ حقائق پر مبنی دلیل کے بجائے وہ دلیل تسلیم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے جذبات اور خیالات سے میل کھاتی ہو؛ چنانچہ آنے والے وقتوں میں ہمارے سماج کو نئے اور زیادہ پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہو گا۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں