کوتوال کو للکارتی فہمیدہ ریاض


یارو بس اتنا کرم کرنا/پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا/ مجھے کوئی سند نہ عطا کرنا دینداری کی /مت کہنا جوشِ خطابت میں/دراصل یہ عورت مومن تھی/مت اٹھنا ثابت کرنے کو ملک و ملت سے وفاداری/مت کوشش کرنا اپنالیں حکام کم از کم لاش ہی۔یہ میری جانے والی دوست فہمیدہ ریاض کی نظم کا ایک بندہے۔

وہ کب سے جانے کا انتظار کررہی تھی۔ ہاں سچ مچ 1979میں ’’آواز‘‘ رسالے میں اس نے لکھا’’ آج بھٹو کو نہیں،جمہوریت کو پھانسی دی گئی ہے،بس یہ فقرہ اور اس کی بلوچ سیاست دانوں کی حکومت ختم کرنے پہ بھٹو صاحب سے ناراضی، ان سب باتوں کو لیکر ایجنسیوں والے اسکے ٹوٹے پھوٹے گھر کے چپل کرسیاں کپڑے، آن کر پھینک جاتے تھے، روز اس کے گھر آکر تھانیدار بیٹھ جاتے تھے۔

اس پر ایک نہیں کئی مقدمے بنائے گئے اور سب سے بڑھ کر اس پر ملک سے غداری کا مقدمہ بنایا گیا کہ آخر یہ کیوں کہا کہ آج بھٹو کو نہیں، جمہوریت کو پھانسی دی گئی۔ان سارے مقدموں سے تنگ آکر، ہم کچھ دوستوں کی مدد سے انڈیا کا ویزا حاصل کرسکی۔ غریب تھی، اس لئے انڈیا چلی گئی ورنہ وہ بھی فیض صاحب اور احمد فراز کی طرح لندن چلی جاتی۔

اسکا انڈیا جانا، اس کیلئے کلنک بن گیا۔ ہر اخبار اور ہر شخص اس کو اور ہم سب کو انڈین ایجنٹ لکھ رہا تھا۔ انڈیا جاکر کوئی بھی پاکستانی دلی جاتا، فہمیدہ سے ملنے سے گریز کرتا۔ وہ اور دکھی ہوتی۔ ہندوستان کے لکھنے والے بھی کنی کتراکے نکل جاتے۔1985ءمیں، میں دلی گئی، میرے شوہر یوسف کو مرے ہوئے سال بھی نہیں ہوا تھا۔

وہ میرے آنے کا سن کر روتی چلاتی ہوٹل آئی،ہم دونوں پہروں بیٹھے ایک دوسرے سے دکھ سکھ کرتےرہے۔ واپس آئی تو سرکار نے مجھ سےتفتیش کی کہ تم فہمیدہ سے دلی میں کیوں ملی تھیں۔ پھر جب بی بی بے نظیر کی شادی کا دعوت نامہ فہمیدہ ریاض کے نام، سفارت خانے کے ذریعہ آیا تو وہی صاحب فہمیدہ اور بچوں کے نئے پاسپورٹ بنانے کیلئے اس سے ملنے آئے تھے۔

بی بی شہید نے فہمیدہ کو نیشنل بک فائونڈیشن کی سربراہ اور مجھے اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر لگادیا تھا۔ یہ اسکی زندگی کا اول اور آخری خوش دلی اور مالی عافیت کا زمانہ تھا۔ جس دن بی بی کی حکومت ختم کی گئی، اسی شام وہاں سرکار کے نمائندے سراج منیر نے ہر کارے روانہ کیے اور ہم دونوں کی نوکری ختم کردی۔

میں تو پکی سرکاری ملازم تھی۔ فہمیدہ پھر دربدر ہوگئی۔ بی بی کے دوسرے دور میں فہمیدہ کو مشیر ثقافت لگایا گیا۔ بی بی کا دور ختم، اس کی دربدری پھر شروع۔ چھ سال وہ جو انڈیا میں رہی تو اس کو اندرا گاندھی نے اردو لٹریچر کا مشیر بناکر ملازم بھی رکھا اور رہنے کو چھوٹا سا فلیٹ بھی دیا مگر ہر پاکستانی جب دلی جاتا، وہ کسی فنکشن میں بھی فہمیدہ کو دیکھ لیتا تو نظریں چراجاتا۔

پاکستان میں بی بی کی شہادت کے بعد جب پی پی پی کی حکومت آئی تو اسکے سب نورتن وہ لوگ تھے جو زرداری صاحب کے ساتھ کبھی دبئی، کبھی لندن اور کبھی امریکہ میں شامیں بسر کرتے ر ہے تھے۔ جب فہمیدہ نے بہت شور مچایا تو اسکو اردو ڈکشنری بورڈ کا ہیڈ لگادیا گیا۔

بی بی کی سیاست کے پلٹا کھاتے، فہمیدہ پھر پیدل سڑک پر چل رہی تھی۔تقابل کیجیے فلم سنسر بورڈ پنجاب کی چیئرپرسن محترمہ زیبا محمد علی گھر بیٹھے دس لاکھ روپے مہینہ حاصل کررہی تھیں۔ فہمیدہ ریاض اور خالدہ حسین،اسپتالوں کے چکر لگارہی تھیں۔ دونوں کی بیماری کا ایک ہی غم تھا۔

فہمیدہ کا 26سال کا نوجوان خوبصورت بیٹا، امریکہ میں نہر میں ڈوب کے مرگیا تھا اور خالدہ کا 50سالہ ڈاکٹر بیٹاایک پھٹکی میں مرگیا تھا۔ ان دونوں کو بیٹوں کا غم کھاگیا۔ فہمیدہ تو اِدھر بیٹے کے نام سے نظمیں بھی لکھ رہی تھی اور اِدھر محبت کا ہاتھ oup میں امینہ سید نے بڑھایا۔ اس کیلئے روزگار کا بندوبست کیا۔

یہ خوشی بھی اس کیلئے چند روزہ ہی ثابت ہوئی کہ جیسے ہی امینہ کو ہٹایا گیا، فہمیدہ پھر دربدر تھی۔ اسکے شوہر اَجّن کو سیاست کھاگئی۔ ایسا نالائق سیاست دان کہ جو اُسے نہ چھت دے سکا نہ دو لقمے، فہمیدہ نے پھر بھی صبر کیا۔ فالج زدہ شخص کیلئے بھی روٹی کا بندوست کرتی رہی۔

حالانکہ اس کو خود ایسی بیماری لگی تھی کہ جس کا کوئی نام بھی نہ تھا اور نہ اس کی تشخیص ہوسکی۔ وہ خوبصورت آنکھوں والی فہمیدہ کہ جب وہ لندن سے لوٹی تھی تو اخبار والے اسکی تصویر ہاتھ میں سگریٹ لئے، اپنے ٹائٹل پیج پر شائع کرتے تھے کہ جس کے شعروں کو سننے کے لئے، افسران شامیں برپا کرتے تھے۔

وہ فہمیدہ فروغ فرخ زاد، روحی کی فارسی شاعری کو اردو کا پیرہن پہناتی رہی،بیماری کی حالت میں بھی دوستوں کے ناول کا تجزیہ کرتی رہی۔ اوہان پامک کے ناولوں کے ترجمے کرتی رہی اور سب سے بڑھ کر عمر کے اس آخری حصے میں فیس بک پر، ادبی اور سیاسی موضوعات پر چومکھی لڑائی لڑتی رہی۔

وہ ابھی20برس کی ہوئی تھی کہ اس کی کتاب پتھر کی زبان نے بڑے دھانسو نقادوں کی زبان بندکردی تھی۔’’ہزار اچھوتے، کنوار سپنے/نظر میں اسکی چمک رہے تھے‘‘۔ وہ اتنی حساس تھی کہ شیخ مجیب الرحمان کے قتل سے لیکر نذیر عباسی، ایاز سموں اور سب سے بڑھ کر بی بی شہید، فیض صاحب اور فراق صاحب پہ بھی نظمیں لکھی تھیں۔

چادر، چار دیواری اور کوتوال بیٹھا ہے، جیسی نظمیں نئی نسل پڑھےگی تو سوچے گی کہ فہمیدہ نے کیسے ظالموں کے دور میں زندگی کی۔شکر ہے قصیدہ لکھنے والوں کے شہر اسلام آباد میں نہیں اُس نے شاہ حسین کے شہر لاہور میں دفن ہونا پسند کیا۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں