شادی کی مزید اقسام


محرم الحرام سے قبل اپنے ہاں رائج شادی کی چند اقسام عرض کی گئیں۔ اسلامی سال کے ابتدائی دو ماہ گزرتے ہی شادیوں کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا ہے، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ دنیا میں جیون ساتھی منتخب کرنے کا تیزی سے مقبولیت کی منازل طے کرتا ایک در فٹے منہ سا طریقہ یہ ہے کہ ادھر دو دل ملے، ادھر دو سَر ایک ہی چھت تلے ایک تکیے پر اکٹھے ہو گئے، یعنی ساتھ رہنے لگے۔ شرم نہ حیا۔

دوسرا اور قدیمی طریقہ یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکے نے ایک دوسرے کو پسند کیا، چند ٹکے اکٹھے کئے اور اپنے دین دھرم کے مطابق عبادت گاہ میں جا کر دو بول پڑھوا لیے۔ موسیقی ،فائرنگ اور آتشبازی کی گھن گرج سے اہل محلہ کی نیندیں حرام ہوئیں، نہ ٹینٹ قناتوں سے رستہ بند ہوا اور نہ ہی باراتی گاڑیوں کی لمبی قطار سے سڑک بلاک ہوئی۔

گویا شادی نہ ہوئی، کوئی مرگ وغیرہ ہو گئی۔ مقا م شکر ہے کہ ہمارے غیور معاشرے میں زندگی کا یہ اہم ترین فیصلہ اتنی سادگی اور خاموشی سے نہیں کیا جاتا، بلکہ فریقین اپنا دیوالیہ نکال کر دم لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں شادی اور نکاح کے کئی ہنگامہ خیز طریقے رائج ہیں۔ آج مزیداقسام شادی ملاحظہ فرمائیں:

تحفظ کی خاطر شادی: دنیا کی اس ساتویں ایٹمی طاقت میں ایٹم بم تو محفوظ ہے لیکن اکیلی عورت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، چاہے وہ ملک کی وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔ پس وہ مجبوراً کسی نہ کسی سے شادی رچا لیتی ہے۔ اس طرح اس کی عزت تو کسی حد تک محفوظ ہو جاتی ہے ،البتہ جان کے تحفظ کی پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ خیر گارنٹی تو یہاں کسی کی بھی جان کی نہیں، اکیلی عورت کس کھیت کی مولی ہے۔

وٹہ سٹہ کی شادی: یہ شادی سیاسی اتحاد کی مانند ہوتی ہے، جیسے کہا جاتا ہے ”وفاق میں ہم، صوبے میں تم… اور وزارتوں کی باہمی بندر بانٹ وغیرہ‘‘ مفادات کی کھینچا تانی میں ایک فریق ناراض ہو کر وفاقی وزارتوں سے مستعفی ہو جائے تو اخلاقاً فریق ثانی کو بھی صوبائی وزارتیں چھوڑنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح وٹہ سٹہ کی شادی کے بعد اگر ایک دلہن اپنی عادات و خصائل یا ناموافق حالات کی بنا پر روٹھ کر میکے چلی جائے تو سماجی مساوات کے اصولوں کے تحت دوسری کو بھی یہی عمل کرنا پڑے گا تاکہ معاشرتی توازن برقرار رہے اور شریکوں کو جگ ہنسائی کا موقع نہ ملے۔

ناکام شادی: ایک فلسفی نے ناکام شادی کی تعریف ان الفاظ میں کی ”میری دونوں شادیاں ناکام ہوئیں۔ پہلی بیوی چھوڑ گئی، دوسری چھوڑتی ہی نہیں‘‘ ناکام شادی کا حامل جوڑا زندگی کا سفر پطرس بخاری کی سائیکل پر بیٹھ کر طے کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اس تاریخی سائیکل کے پہیوں سے چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، مڈ گارڈوں سے کھٹ، کھڑ، کھڑڑ اور زنجیرسے چر، چرخ اور چڑ چڑ کے سُر نکلتے تھے۔

علاوہ ازیں اس کے اگلے ٹائر میں بڑا سا پیوند لگا ہوا تھا، جس سے ہر چکر میں پہیہ اوپر کو اٹھتا اور مرحوم و مغفور کا سر یوں جھٹکے کھاتا جیسے کوئی متواتر ان کی ٹھوڑی کے نیچے مکے مار رہا ہو۔ حتیٰ کہ سائیکل ہٰذا مالک کے ہاتھوں دریا برد ہوئی۔ (اپنی شادی کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے ملاحظہ فرمائیں سید احمد شاہ بخاری پطرس کی کتاب ”پطرس کے مضامین‘‘)

کامیاب شادی: یہ شادی بھی ”ناکام شادی‘‘ ہی کی بہن ہے۔ دونوں میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ کامیاب شادی دراصل مرد کی برداشت کا دوسرا نام ہے۔ اہلیہ محترمہ کے روز روز کے جھگڑوں اور طعنوں سے تنگ آ کر ایک دن کسی کامیاب شادی کے حامل میاں کی قوت برداشت جواب دے گئی۔

اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور آسمان کی طرف منہ کرکے التجا کی ”اے خدا! یا تو مجھے اس دنیا سے اٹھا لے اور یا…‘‘ محترمہ تیزی سے شوہر کی طرف لپکیں اور اس کی بات کاٹتے ہوئے شیرنی کی طرح دھاڑیں ”یا؟…‘‘ خاوند نے دعا مکمل کی ”یا بھی مجھے ہی اٹھا لے‘‘۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی کامیاب شادیاں کامیابی کے اسی اصول کے تحت کامیاب ہیں… کیا آپ کی شادی بھی کامیاب ہے؟ مبارکباد قبول فرمائیں۔

دوسری شادی: پخیر راغلے! یہ ہمارے بعض حلقوں کی مرغوب شادی ہے۔ اس سے مراد دوسری، تیسری یا چوتھی شادی بھی ہو سکتی ہے، فقط استطاعت کی بات ہے۔ پچاسی سالہ بزرگ اپنی پوتی کی عمر کی لڑکی کے ساتھ چوتھی شادی پر کمر بستہ ہوئے تو ان کی پوتی نے کہا ”کچھ احساس کریں دادا جان! آخر موت فوت بھی بنی ہوئی ہے‘‘ دادا جان نے جواب دیا ”میں موت سے نہیں ڈرتا بیٹی! اگر یہ مر گئی تو میں پانچویں شادی کر لوں گا‘‘۔

نکاح پر نکاح: یہ قانونی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دوسری شادی مرد جبکہ نکاح پر نکاح عورت کرتی ہے۔ دوسری شادی کی اجازت ہے جبکہ نکاح پر نکاح جرم ہے۔ آپ اکثر اخبار میں پڑھتے ہیں ”چار بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار‘‘ اس خبر میں آشنا صاحب کے آٹھ بچوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا کیونکہ جب اس نے جرم ہی نہیں کیا تو اسے خواہ مخواہ مطعون کرنے کا فائدہ؟

اس قانون کا یوں احسن استعمال کیا جاتا ہے کہ جب لڑکی گھر سے بھاگ کر مرضی کی شادی کر لیتی ہے اور عدالت میں والدین کے خلاف بیان دیتی ہے تو اس کے لواحقین نکاح خواں سے مل کر لڑکی کا کسی کزن کے ساتھ پچھلی تاریخوں میں جعلی نکاح نامہ تیار کراتے ہیں اور عدالت کو دھوکہ دیتے ہیں کہ لڑکی نے نکاح پر نکاح کیا ہے، لہٰذا دوسرا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔

دو نمبر شادی: یہ ضیاء الحق کے دور کی پیداوار ہے، جب ایک آرڈیننس کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ جوڑا رنگ رَلیاں مناتا پکڑا جاتا تو دونوں کی ضمانت مشکل ہو جاتی۔ اس گمبھیر صورتحال میں لڑکے کے دوست یار پچھلی تاریخوں میں دونوں کا جعلی نکاح نامہ تیار کرکے عدالت میں پیش کر دیتے کہ فاعل اور مفعول دراصل میاں بیوی ہیں، پولیس نے ان کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔

ونی کرنا: جدید دنیا کے اتباع میں گرتے پڑتے ہم بھی 3G اور 4G ٹیکنالوجی تک تو پہنچ ہی گئے، مگر اپنی ”شاندار روایات‘‘ سے پیچھا نہ چھڑا سکے۔ لڑکا اور لڑکی پسند سے شادی کر لیں تو اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے خلاف لا محدود اختیارات کا حامل جرگہ بیٹھتا ہے اور قبائلی روایات کے مطابق لڑکے کے خاندان کی نابالغ بچیوں کو لڑکی کے خاندان کے مردوں کے ساتھ ونی کر دیا جاتا ہے، یعنی ان کی زبردستی شادی کرکے قانون کا بول بالا کیا جاتا ہے۔ اس شادی میں ڈولی چڑھنے کو سولی چڑھنے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کم سنی کی شادی: اس شادی کے پیچھے یہ حکمت کار فرما ہوتی ہے کہ بچوں کو معاشرتی اور ازدواجی معاملات و مشکلات کا بچپن ہی میں تجربہ ہو جائے۔ اس طرح وہ زندگی کے مسائل سے بطریق احسن نمٹنے کے ساتھ ساتھ آبادی کے محاذ پر بھی حسن کارکردگی کے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔

ہنسی خوشی کی شادی: اس شادی کا حامل جوڑا عموماً ملازمت پیشہ ہوتا ہے اور دونوں کی پوسٹنگ الگ الگ شہروں میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنی اپنی مصروفیات کی بنا پر بہت کم مل پاتے ہیں، سو لا محالہ ہنسی خوشی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔

حلالہ کے لیے شادی: یہ شادی ہمارے برگزیدہ معاشرے میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ جذبات کے طوفان کی زد میں آ کر واقع ہونے والی طلاق کے بعد کبھی کبھی ایوب خان کی طرح یوں بھی ہوتا ہے کہ ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘‘ ان حالات میں اگر فریقین دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔

اگرچہ حلالہ کے احکام تو کچھ اور ہیں مگر یار لوگ اس نازک موقع پر خدمت خلق کے جذبے سے سرشار لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آتے ہیں اور حلالہ کے لیے اپنی گراں قدرخدمات فی سبیل اللہ پیش کر دیتے ہیں۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں