الطاف فاطمہ سے گفتگو


کہیں کہیں کسی گھرانے میں ایک بہن ہوتی ہے، خاموش طبع، مدہم، گہری اور ذمہ دار۔ بولنا ہے تو ضرورت کے برابر اور نیچی آواز میں۔ مانو، گھر میں ایک سایہ سا موجود ہے۔ مگر یہ کہ سب کام پورے۔ تعلیم بھی حاصل کی۔ سب کی خدمت کی۔ سب سے محبت کی۔ سب کے کام آئی۔ کئی نسلوں کو تعلیم دی۔ کسی سے دشمنی نہیں رکھی۔ کسی جھگڑے میں نہیں پڑی۔ سب کے دکھ میں روئی۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہوئی۔ بظاہر چپ کی چادر تلے دنیا کو غور سے دیکھا اور یہاں رہنے کا حق کہانیوں کی صورت میں ادا کیا۔ ناول لکھے۔ نواسی برس کی عمر گزار کر ایک روز چپکے سے رخصت ہو گئی۔ الطاف فاطمہ ہم پاکستان والوں کے لئے کچھ ایسی ہی تھیں۔ اب چلی گئی ہیں تو گھر والوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ جسے سب سے کم سوچا تھا، اسی نے زندگی کا حقیقی حق ادا کیا۔ ایسے لگتا ہے گویا گھر کی ایک دیوار گر گئی۔

برادر محترم آصف فرخی نے کچھ برس پہلے الطاف فاطمہ سے گفتگو کی تھی۔ پڑھیے گا تو معلوم ہو گا کہ ذہانت اور شائستگی، ہنر اور متانت کے امتزاج سے کیسی خوبصورتی برآمد ہوتی ہے۔ گویا موتیے کے پھولوں کی تھالی میز پر رکھی ہے۔

٭٭٭ ٭٭٭

سوال: آپ کی افسانہ نگاری کا سفر کیسے شروع ہوا۔ آپ افسانہ لکھنے کی طرف کیسے آئیں اور اس وقت آپ کے محرکات کیا تھے؟

الطاف فاطمہ: بچپن سے میرے ساتھ یہ تھا کہ میں تصویریں بناتی تھی۔ میں بہت چھوٹی سی تھی جب سے تصویریں بناتی تھی، جیسے ہوتا ہے کہ بچے تصویریں بناتے ہیں اور جنہیں اب کہا جائے کہ Combinationsہیں۔ تو وہ تصویریں بنا بناکر رکھتی تھی۔ ہماری ایک بہن تھیں جو ہم سے بہت بڑی تھیں، یعنی جب ہم اتنے بڑے تھے تو ان کی شادی ہوچکی تھی۔ میری ماموں زاد بہن تھیں اور وہ بہت پیار کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ اچھا، کیا ہے تمہارے کوٹ کی جیبوں میں، دکھاؤ۔ میں بہت چیزیں رکھتی تھی کوٹ کی جیبوں میں۔ وہ کہتی تھیں دکھاؤ کیا ہے تمہاری جیبوں میں، تو وہ تصویروں کے Papers نکلتے تھے۔ وہ کہتی تھیں یہ کیا تصویر ہے؟ میں ایک کہانی سنادیتی تھی۔ وہ بہت ہنستی تھیں اور ہماری اماں سے کہتی تھیں، پُھپھی جان اس سے جس تصویر کے متعلق پوچھو کہ یہ کیوں بنائی ہے تو یہ ایک پوری کہانی سُنادیتی ہے۔ تو شاید اندر یہ جذبہ تھا ہی شروع سے۔ تو جب بڑے ہوئے تو بہت سی باتوں پر اعتراض ہوتا تھا، بہت سی باتوں پر رنج ہوتا تھا تو۔۔۔ پتہ نہیں کیسے، بس ایک دم سے لکھنے لگے۔۔۔ اور میں نے جان بوجھ کر نہیں لکھا بلکہ۔۔۔ ہمارے ساتھ ایم اے میں ایک صاحب پڑھتی تھیں۔ عقیلہ شاہین نام ہے ان کا۔ وہ وہاں کہیں کینیڈا میں ہیں۔ تو وہ کوئی میگزین نکالتی تھیں۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ تم لکھو، لکھو۔ میں نے کہا کہ میں کچھ لکھتی ہی نہیں ہوں۔ وہ کہتی تھیں ہمیں کچھ لکھ کر دو۔ انہوں نے کہا کہ لاؤ۔ کچھ لا اُبالی کھلنڈرے ٹائپ میں۔ انہوں نے مجھے ڈانٹا ڈپٹا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں لکھوں گی۔ تو ایک افسانہ لکھا۔ بس جب سے وہ لکھا تو پھر لکھنے لگے۔ مجھے بلوایا ”امروز“ والوں نے۔ وہ ہمیں دس روپے دیا کرتے تھے۔ وہ دس روپے ہمیں عجیب لگتے تھے اس وقت۔ جمعرات کو ان کا ایڈیشن ہوتا تھا۔ عزیز الرحمن صاحب ان کا نام تھا، انہوں نے کہا آپ ہمیں لکھ کر دیا کریں۔ بس پھر لکھا تو لکھنے ہی لگے۔ توشاید اسی میں پڑھا یا ”لیل و نہار“ میں ایک آدھ چیز چھپی تو شاہد احمد صاحب نے ایک دفعہ مجھے خط لکھا۔ وہ ہمارے ماموں جان رفیق حسین صاحب کی وجہ سے ان کو بڑا مان تھا، کہ مجھے فوراً لکھ کر بھیجو۔ تو دوچار چیزیں ان کو بھیجیں۔ بس پھر لکھتے ہی چلے گئے۔

سوال: جب کوئی نیا لکھنے والا اپنا تخلیقی کام شروع کرتا ہے تو عموماً اپنے پیش رو افسانہ نگاروں میں سے جو پسند ہوتے ہیں کچھ نہ کچھ ان کا اثر ہوتا ہے، ان سے ایک نمونہ یا ماڈل حاصل ہوتا ہے، تو اس وقت کیا آپ کے سامنے بھی کوئی ایسے افسانہ نگار تھے جن سے آپ نے اثر قبول کیا ہو؟

الطاف فاطمہ: نہیں! یہ تو میری سمجھ ہی نہیں آتا۔ سچی بات یہ ہے۔ میں اتنا دلچسپی سے پڑھتی ہوں ہر ایک کا افسانہ، الگ الگ مجھے ہر ایک کا افسانہ پسند ہے لیکن میں اثر قبول نہیں کرتی۔ میں کسی کی تقلید نہیں کرتی۔ میں زندگی میں کسی تقلید نہیں کرسکتی۔ کبھی میں وہ جو زمانے کاچلن ہے، وہ اختیار نہیں کرسکی، اپنا اس سے الگ کام چلتا رہا۔ تو پھر لکھنے میں کیا کرتی؟ مزاج ہی نہیں ہے تقلید والا۔

سوال: تقلید کی نہیں بلکہ اثر قبول کرنے کی بات کررہا ہوں؟

الطاف فاطمہ: تم نے پڑھا تو ہو گا، تم کو لگتا تو نہیں ہوگا کہ میں نے کسی کی نقالی کی ہے۔

سوال: نقالی تو نہیں ہے۔ لیکن میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ جب کوئی افسانہ نگار اچھا لگتا ہے۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: اچھے تو مجھے بہت لگتے ہیں۔ اب آپ ہی جناب اچھا لکھتے ہیں۔ انتظار صاحب اتنے بڑے لکھنے والے ہیں۔ اور میں۔۔۔ ہم لوگ اتنا متاثر تھے ان کے جو پہلے افسانے چھپے تھے ان سے۔ وہ کیا تھا ”چل بھئی خسرو گھر آپنے، گوری سووے سیج پر۔۔۔ اور ان کے دوسرے افسانے تھے۔ جو بھی انہوں نے لکھا، وہ پسند تھا۔ پھر قرۃ العین حیدر تو ہمارے ہاں۔۔۔ اب میں یاد کرتی ہوں کہ قرۃ العین حیدر کی کوئی چیز ہوتی تھی تو میں پڑھ رہی ہوں، ڈھونڈ رہی ہوں، میری بہن لارہی ہیں۔ ہماری تو آپس میں یہی دوستی ہوتی تھی۔ بہنیں جیسی آپس میں ہوتی ہیں، صرف وہ نہیں بلکہ بہت دوستی تھی، ڈسکشن کرتے تھے۔ کئی کئی دفعہ ان کی چیزیں پڑھتے تھے۔ اور کیا بھئی وہ لکھتی ہیں۔ مگر دیکھو ہر شخص کا ایک ٹیلنٹ ہوتا ہے۔ ایک اس کا مقام ہوتا ہے۔ اور وہ اسی پر سجتا ہے۔ تو کسی کی نقل کرنے کے بجائے جو کچھ اپنے آپ ہوسکتا ہے، وہ کیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں